پاکستان سعودی عرب کے تعلقات خراب کرنے کے لئے عالمی سطح پر سوشل میڈیا کیمپینز چلائی جا رہی ہیں ۔ جس میں آج جو کیمپین چلائی گی اس میں یہ تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب کے کہنے پر سوڈان کو جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی 1.5 ارب ڈالر کی ڈیل روک دی ہے ۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آج (20 اپریل 2026، پیر کے روز) سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سودان کے ٹرانزیشنل سوورنٹی کونسل کے صدر اور آرمی چیف جنرل عبدالفتاح البرہان سے ملاقات ہوئی ۔ اور کسی سعودی نیوز ایجنسی نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی کہ سعودی عرب کی وجہ سے پاکستان نے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی ڈیل روک دی۔ جبکہ سفارتی آداب ، بین الاقوامی سفارتی قوانین سے نا آشنا ۔ ان لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ سوڈان کے اندر ” یو اے ای ” پراکسی چلا رہا تھا ۔
جس پر سعودی عرب نے سوڈانی فوج کی سفارتی حمایت کی ۔ جس وجہ سے یو اے ای اور سعودی عرب میں ایک بنیادی ریاستی اختلاف یہ بھی پیدا ہو گیا ۔ ایسے ماحول میں جب سعودی عرب سے بغض رکھنے والی ریاست جو سوڈان کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے ۔ سوڈانی زمین اور اس کے ذخائر پر قابض ہونا چاہتی ہے ۔ سعودی عرب اس کے خلاف جا کر کیوں سوڈانی فوج کو انکے دفاع کے حق سے محروم رکھے گا ؟
سعودی عرب قطعی طور پر محافظین حرمین شریفین کے ان معاملات میں کبھی رکاوٹ نہیں بنے گا ۔ جن کی بدولت ہمارا دفاع اور معیشت مضبوط ہو ۔ پاکستان سعودی عرب دوستی زندہ باد ۔



تبصرہ لکھیے