ہوم << ایک بار پھر تنہا ہوتا اسرائیل – میر افسر امان
600x314

ایک بار پھر تنہا ہوتا اسرائیل – میر افسر امان

کہتے ہیں نا کہ”سانپ کی موت آتی ہے تو وہ سڑک پر نکل آتا ہے“۔اس دور کا یہود امریکا کی آشیر باد پر ظلم پر ظلم کرتے کرتے سڑک تو دور، شاہراہ پر آ نکلا ہے۔ اب مرنا اس کامقدر ہو گیا ہے۔ یہود کو اگر ہم سانپ تصور کریں، تو دو ہزار سالوں سے زیادہ مدت سے یہ دنیا میں بکھرے پڑے تھے۔ کہیں ان کے پاس خطہ زمین نہیں تھا۔ کہیں بھی یہود کی حکومت نہیں تھی۔ کہیں بھی ان کو بحیثیت قوم بننا نصیب نہیں ہوا تھا۔

جب بنی اسرائیل کی خرابیاں انتہا کو پہنچیں تو اصلاح کے لیے،اللہ تعالی نے حضرت عیسیٰ ؑکو مبعوث فرمایا۔ انہوں نے اصلاح کی کوشش کی۔ مگر انبیاء کو اعلانیہ قتل کرنے والے یہود نہیں مانے۔ بلکہ یہود نے انبیاء پر الزامات لگائے۔اعلانیہ کہتے ہیں کہ عیسیٰؑ کو انہوں نے سولی پرچڑھایا ہے۔ جب کہ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ نے حضرت عیسی ؑکو آسمان پر زندہ اُٹھا لیا ہے۔ وہ پھر ظہور فرمائیں گے۔ یہودیوں کی سازشیوں کی وجہ سے عیسائی ان کو اپنے ملکوں سے نکالتے رہے۔ہم نے ایک علیحدہ مضمون بعنوان”یہودی یورپ کے ملکوں سے کب کب نکالے گئے“میں ساری تفصیل درج کی ہے۔

زمانہ قریب میں جرمنی کے عیسائی ہٹلر کی یہودیوں کو سزا سے تو دنیا واقف ہے۔ یہودیوں نے اسے ”ہولو کاسٹ“ کا نام دیا ہوا ہے۔کچھ مدت ہوئی یہودیوں نے اتنی طاقت پکڑ لی،کہ عیسائی جو ان کے دشمن تھے، مکاری سے اپنا ہم نوا بنا لیا۔ بلفور معاہدے کے تحت یہودی فلسطین پر قابض ہو گئے۔ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال کر یہودی بستیاں بسا دیں۔ اقوام متحدہ کے منع کرنے پر بھی نہیں روکے،اب بھی یہودی بستیاں بسارہا ہے۔ اس پر فلسفی شاعر، سر ڈاکٹر شیخ علامہ محمد اقبالؒ نے اپنے ایک شہر میں فلسطینی عربوں سے مخاطب ہو کر کہا تھا:

تیری دَوا نہ جنیوا میں ہے، نہ لندن میں
فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے

ترک عثمانی اسلامی خلافت میں یہودی امن سکون اور آزادی سے رہ رہے تھے۔ ان کے دانشور اپنی تحریروں میں خود لکھتے ہیں کہ دنیا میں یہود کو کہیں امن نصیب ہوا تو مسلمانوں کے اسپین اورترک سلطنت میں ہوا۔ مگر پھر بھی یہ آستین کے سانپ ترک حکومت اسلامی خلافت کے خلاف حسب عادت سازشیں کرتے رہے۔ ترکی کے زوال کے دنوں میں قوم پرست اور سیکولر تنظیمیں بنائی۔ آزاد خیال ترک نوجوانوں کی”ڈونمہ“ نام سے تنظیم بنائی۔ ان میں دھوکے بازی سے بظاہر مسلمان بن کر یہودی شامل ہوئے۔ ترکی کی اسلامی خلافت کو یورپ کی جمہوریت تبدیل کرنے کی سازش کی جوکامیاب ہوئی۔

اُس وقت فلسطین ترکوں کی پونے چاربراعظموں قائم حکومت میں شامل تھا۔ ہرتزل تھیوڈر جو صہیونی تحریک کا بانی ہے۔عثمانی ترک خلیفہ کو پیسوں کی لالچ دی اور کہا فلسطین میں یہود کو آباد ہونے دو۔مگر ترک عثمانی خلیفہ نے اس کے پیسوں کو ٹھکرا دیا تھا۔ جب ترکی سلطنت کو انگریزوں نے ختم کیا تو خلیفہ کو معزول کرنے کے لیے انگریزوں نے تھیوڈر ہرتزل کے اُسی نمائندے کو خلیفہ کی معزولی کا پروانہ دے کربھیجا تھا جو پہلے کبھی پیسے کی لالچ دے کر فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت مانگتا تھا۔ یہ احسان فراموش یہود کی تاریخ میں لکھی ہے۔

جب ترکی کے پونے چار براعظموں پر قائم سلطنت کے انگریزوں نے حصے بخرے کیے،تو فلسطین برطانیہ کے حصے میں آیا۔ یہود نے برطانیہ کے حکمرانوں کو پیسے دے کربلفور معاہدے کے تحت فلسطین میں قدم جمائے، جو ابھی تک جاری ہے۔ یہود یوں نے اپنی خاندانی سرشت کے مطابق فلسطین میں تیسرا فساد برپا کر رکھا ہے۔ جب حماس نے اس فساد کے خلاف ۷/اکتوبر ۳۲۰۲ء اسرائیل کے اندر گھس کر اس کے ناقابل شکست ہونے کاغرور پاش پاش کیا۔دو ہزار یہودی ہلاک دو سو پچاس کو اپنے قیدی چھڑانے کے لیے یرغمال بنا لیا۔

یہودی اس شکست کا بدلہ حماس سے تو نہ لے سکا۔ غزہ کی بستی کو زمین بوس کر دیا۔نوے فی صد عمارتیں بلڈوز کر دیں۔غزہ کے لاکھوں لوگوں کو شہید کر دیا۔ ان میں محصوم بچے،خواتین و مرد شامل ہیں۔ اب بھی غزہ کی نسل کشی میں جاری ہے۔ سیکڑوں ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ قرآن میں بنی اسرائیل سورۃ آیت نمبر ۴۔۸ کے مطابق اس سے قبل یہودی دو دفعہ، اللہ کی نافرمانی،انبیاؑ ؑکا قتل، ظلم زیادتی اور فساد برپا کر چکے اور دو دفعہ اللہ نے بیرونی طاقتوں سے