ہوم << پاکستان دنیا بھر میں امن کا داعی،تاریخ کی ،تاریخ ساز کروٹ :حافظ بلال بشیر
600x314

پاکستان دنیا بھر میں امن کا داعی،تاریخ کی ،تاریخ ساز کروٹ :حافظ بلال بشیر

ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی، جو مشرقِ وسطیٰ کے امن اور عالمی استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی تھی، بالآخر پاکستان کی درخواست پر ایک عارضی جنگ بندی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔ اس کے بعد دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے تقریباً اکیس گھنٹوں پر محیط حساس مذاکرات ہوئے، اگرچہ کسی حتمی معاہدے پر منتج نہیں ہوئے، تاہم اس کے باوجود یہ امر اپنی جگہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ ایک ممکنہ بڑے تصادم کو وقتی طور پر ٹال دیا گیا۔ یہ پیش رفت نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک ریلیف کے مترادف ہے، کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ تصادم تیسری عالمی جنگ کے خدشات کو جنم دے رہا تھا۔
وطن عزیز پاکستان، جسے طویل عرصے سے داخلی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور خارجہ پالیسی کی کمزوریوں کے حوالے سے تنقید کا سامنا رہا ہے، اس پیش رفت کے بعد عالمی سفارتی منظرنامے میں ایک مؤثر ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ یہ کامیابی اس لحاظ سے بھی غیر معمولی ہے کہ ماضی میں پاکستان کے 1998 کے ایٹمی دھماکے اور پاک بھارت جنگ جیسے اہم مواقع پر بھی پاکستان نے اپنی اسٹریٹجک اہمیت منوائی ہوئی ہے، مگر موجودہ صورتحال میں ایک ممکنہ عالمی تصادم کو روکنے کی کوشش اس سے کہیں بڑھ کر سفارتی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔ اسلام آباد مذاکرات نے نہ صرف پاکستان کی ثالثی صلاحیت کو اجاگر کیا بلکہ اس کے عالمی کردار، سفارتی حکمتِ عملی، اور علاقائی امن کے لیے اس کے عزم کو بھی نئی جہت دی ہے۔
مزید برآں، پاکستان کا کردار ایک مخلص، غیر جانبدار اور فعال ثالث کے طور پر سامنے آیا، پاکستان نے نہایت پیچیدہ سفارتی حکمت عملی اختیار کی۔ اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات سے قبل پاکستان نے ہفتوں پر محیط بیک ڈور ڈپلومیسی، شٹل سفارتکاری اور عالمی طاقتوں سے رابطوں کے ذریعے دونوں فریقین کو نہ صرف جنگ بندی پر آمادہ کیا بلکہ انہیں براہِ راست مذاکرات کی میز تک لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مبصرین اس پیش رفت کو پاکستان کی ایک غیر معمولی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔خصوصی طور پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد کی پاکستان آمد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نہ صرف ایران بلکہ دونوں ممالک (ایران و امریکا) نے پاکستان پر حتمی اعتماد کیا۔ یہ امر تاریخی اہمیت کا حامل ہے کہ امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطحی رہنما تقریباً 47 برس بعد پہلی بار ایک ہی میز پر آمنے سامنے بیٹھے، جو کہ 1979 کے بعد امریکا و ایران تعلقات کی شدید کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی کوششوں سے ایک بڑی سفارتی پیش رفت ہے۔ اگرچہ ان مذاکرات میں جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز، اور جنگی نقصانات جیسے پیچیدہ معاملات پر اختلافات برقرار رہے، تاہم دونوں فریقین کا مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کرنا اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان کی ثالثی نے کم از کم مکالمے کا دروازہ کھلا رکھا۔
پاکستانی قیادت نے نہایت توازن کے ساتھ ایک ایسی حکمت عملی اپنائی جس میں ایک طرف غیر جانبداری کو برقرار رکھا گیا اور دوسری طرف دونوں فریقین کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنا گیا۔ پاکستان نے نہ صرف مستقل جنگ بندی کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کیں بلکہ دیگر علاقائی و عالمی طاقتوں کو بھی اعتماد میں لے کر ایک وسیع تر سفارتی ماحول تشکیل دیا، یہی وہ جامع اور مخلصانہ سفارتی کاوشیں تھیں جنہوں نے ایک ایسے وقت میں، جب دنیا ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑی تھی، امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لا کھڑا کیا۔ مذاکرات کے اختتام پر حتمی معاہدہ نہ ہو سکا، البتہ پاکستان کی کوششیں جاری ہیں اس سلسلے میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ”مذاکرات کے بعد کوئی منفی بات نظر نہیں آئی، مثبت پہلو نظر آرہے ہیں۔ اسلام آباد امن مذاکرات کے بعد ماحول بہتر نظر آرہا ہے، دوسرا دور مذاکرات کا ہونے جا رہا ہے، دوبارہ مذاکرات کے حوالے سے اطمینان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگلی نشست تک ان شاءاللہ کسی نتیجے تک پہنچ جائیں گے، اللہ تعالی پاکستان پر بڑا مہربان ہے، بھارت میں صف ماتم ہے۔“ جبکہ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کیا، جبکہ چین نے ناکہ بندی کی کھل کر مخالفت کی۔ چینی وزیر دفاع ایڈمرل Dong Jun نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ”چین کے ایران سے تجارتی اور توانائی کے معاہدے ہیں، چین ان معاہدوں کا احترام کرے گا اور دوسروں سے بھی توقع ہے کہ وہ ہمارے معاملات میں دخل اندازی نہ کریں۔ آبنائے ہرمز ایران کنٹرول کرتا ہے اور وہ ہمارے لیےکھلی ہے، چین کے بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں۔“ قارئین کرام! صورتحال میں بہتری ضرور آئی ہے لیکن ابھی حالات پیچیدہ ہیں آنے والے دنوں میں مزید بریک تھرو ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کا کردار سنہری حروف میں لکھا جاچکا ہے، اور ہم بطور پاکستانی امید کرتے ہیں کہ پاکستان یہ کردار تب تک جاری رکھے گا جب تک خطے میں مکمل امن قائم نہیں ہو جاتا۔