ہوم << اقبال کی فکری میراث اور آج کا نوجوان – رضوانہ قائد
600x314

اقبال کی فکری میراث اور آج کا نوجوان – رضوانہ قائد

بیسویں صدی کا ابتدائی دور، ہندوستان کے مسلمانوں کا بحیثیتِ قوم، پستی و محرومی کا زمانہ تھا۔ مسلم دورِ حکومت کے خاتمے کے بعد، ہندوؤں اور انگریزوں کی مغلوب مسلمان قوم کو نبض شناس مصلح کی ضرورت تھی۔ ایسے میں علامہ اقبال اپنی قد آور شخصیت کے ساتھ مینارۂ نور بنتے ہیں۔

آفاقی روشنی کے ذریعے انسانیت کے اس پژمردہ گروہ کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر نشانِ منزل کا پتہ دیتے ہیں، ساتھ ہی راہ میں حائل دیدہ و نادیدہ رکاوٹوں سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ بھی دیتے ہیں۔ اقبال اپنی شاعری کا مقصد مسلمانوں میں عمل کا وہ جوش و ولولہ ڈالنا بتاتے ہیں جو قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کا خاصہ تھا۔ وہ اس قسم کی شاعری کو شہرت کے بجائے عبادت سمجھتے ہیں، کہ شاید نبی کریم ﷺ کو پسند آ جائے اور نجات کا ذریعہ بن جائے۔

امت کے لیے اسی دل سوزی کے باعث اقبال وہ پسندیدہ فرد ہیں کہ جن کی شخصیت و کلام پر دو ہزار سے زائد کتب لکھی جا چکی ہیں۔ ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ، اقبال کے ساتھ اپنی عقیدت مندی کا اظہار کرتے ہیں کہ: “اقبال میری پسند اور توجہ کا مرکز اسی لیے ہیں کہ وہ بلند نظری، محبت اور ایمان کے شاعر ہیں۔ ایک عقیدۂ دعوت اور پیغام رکھتے ہیں۔ وہ مغرب کی مادی تہذیب کے سب سے بڑے ناقد اور باغی ہیں، وہ اسلام کی عظمتِ رفتہ اور مسلمانوں کے اقبالِ گزشتہ کے لیے سب سے زیادہ فکر مند، اور انسانیت و اسلامیت کے عظیم داعی ہیں۔” (نقوشِ اقبال)

اس کی نفرت بھی عمیق، اس کی محبت بھی عمیق
قہر بھی اس کا ہے اللہ کے بندوں پر شفیق
مثلِ خورشیدِ سحر، فکر کی تابانی میں!
بات میں سادہ و آزادہ، معانی میں دقیق

ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ اقبال نے اعلیٰ مغربی تعلیم، مغرب ہی کی جامعات میں حاصل کی، جہاں آج بھی ہمارے نوجوان جاتے ہیں اور تعلیم کے ساتھ ان ہی کی ملحدانہ تربیت بھی سمیٹ لاتے ہیں۔ مگر کیا اقبال کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا؟

وہ بھی اسی مغربی ماحول میں، مغربی حسن و حسیناؤں کے درمیان زیرِ تعلیم رہے، مگر نہ صرف کبھی ان کے دامِ الفت میں گرفتار نہ ہوئے بلکہ مغربی تہذیب سے بیزار ہی رہے۔ اپنی شاعری میں اس تہذیب کے اثرات پر نہایت بے باکی کے ساتھ تنقید کرتے رہے۔

خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

اقبال نے دورانِ تعلیم مغرب اور اس کی تہذیب کا نہایت باریک بینی کے ساتھ مشاہدہ کیا۔ ان کی یہ عرق ریزی جتنی زیادہ بڑھتی گئی، وہ اتنا ہی قرآن میں غرق ہوتے گئے، یہاں تک کہ “قاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قرآن” کی جیتی جاگتی تصویر بن گئے۔

زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی
نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحر خیزی

ایک مرتبہ طلبۂ فلسفہ کے کچھ سوالات آپ کے پاس لائے اور منتظر تھے کہ آپ بڑی بڑی الماریوں سے فلسفہ کی ضخیم کتب نکلوا کر ان کے جوابات تلاش کریں گے، مگر وہ حیرت زدہ رہ گئے جب اقبال ان کے سامنے جوابات کی غرض سے قرآن کھول کر بیٹھ گئے۔ دنیا، اقبال کے ظاہری حلیہ کو دیکھ کر انہیں انتہائی جدید خیال کرتی ہے، مگر درحقیقت وہ نہایت سادہ منش عاشق ہیں، اپنی تہذیب، اپنے دین اور اس کے پیغمبر ﷺ کے لیے۔ ایک مرتبہ پنجاب کے ایک رئیس نے قانونی مشورے کی غرض سے اقبال کو چند اصحاب کے ہمراہ مدعو کیا۔ وہ جب رات کو سونے کے لیے کمرے میں گئے تو وہاں نرم و گداز اور پُرتعیش انتظامات دیکھ کر حبیبِ خدا ﷺ کا ٹاٹ کا بستر یاد کر کے زار و قطار روتے رہے، پھر اس قیمتی بستر پر سونا پسند نہ کیا۔

آپ جانتے ہیں، اقبال کی اس اصلیت یا عبقریت میں کیا راز پوشیدہ ہے؟
ان کی بچپن سے بنیادی تربیت اور گھر کا خالص اسلامی ماحول۔ اقبال کی یہ خوش نصیبی تھی کہ وہ ایک دین دار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ والدین نیک و پرہیزگار اور معاملہ فہم تھے۔ والد نے اگرچہ کہیں تعلیم نہ پائی تھی مگر علومِ دینیہ اور فلسفہ سے دلی لگاؤ تھا۔ بقول استادِ اقبال، میر حسن، اقبال کے والد “ان پڑھ صوفی” تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اقبال کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑی گئی۔

تعلیم کا آغاز چار برس کی عمر میں سب سے پہلے قرآن کی تعلیم سے ہوا۔ بڑے ہوئے تو قابل اساتذہ سے ادب کی کتب، گلستان، بوستان، سکندر نامہ اور تصانیفِ ظہوری کے دروس لینے شروع کیے۔ ساتھ ہی فارسی و عربی کی تعلیم، مشرقی حکمت، تصوف اور فلسفہ کے رموز بہترین انداز سے ذہن نشین کرائے گئے۔ ان علوم کے ساتھ تلاوتِ قرآن، نمازوں کی اوقات کے ساتھ ادائیگی اور حسنِ اخلاق، یہ صفات گھر ہی کی تربیت کے باعث ان کے اندر پروان چڑھیں۔

علامہ اقبال رحمہ اللہ کے والد ماجد نے ایک دن آپ سے کہا کہ میں نے تمہارے پڑھانے لکھانے میں جو محنت کی ہے، میں تم سے اس کا معاوضہ چاہتا ہوں۔ لائق بیٹے نے بڑے اشتیاق سے پوچھا کہ وہ کیا؟ فرمایا:
“بیٹے! میری محنت کا معاوضہ یہ ہے کہ تم اسلام کی خدمت کرنا۔”
دنیا جانتی ہے کہ سعادت مند بیٹے نے باپ سے جو عہد کیا تھا، اسے کس حسن و خوبی سے پورا کیا۔ اقبال ایک مرتبہ تلاوتِ قرآن میں منہمک تھے کہ والد صاحب نے آ کر پوچھا:
“کیا پڑھ رہے ہو؟”

کہا: “قرآن پاک۔”
فرمانے لگے: “تم جو کچھ پڑھتے ہو، سمجھتے بھی ہو؟”
کہا: “ہاں، کچھ عربی جاننے کے باعث کچھ نہ کچھ سمجھ لیتا ہوں۔” بڑی نرمی کے ساتھ کہنے لگے:
“بیٹا! قرآن پاک وہی سمجھ سکتا ہے جس پر اس کا نزول ہوا ہو۔”
یعنی جو جتنا بھی قرآن کے رنگ میں رنگتا چلا جائے گا، قرآن پاک کے نزول کی کیفیت سے گزرتا رہے گا۔

تیرے ضمیر پہ نہ ہو جب تک نزولِ کتاب
گرہ کشا ہیں نہ رازی، نہ صاحبِ کشاف
(بالِ جبریل)

اقبال، تربیت کے ایک اور دل گداز واقعے کو “رموزِ خودی” میں منظوم بیان کرتے ہیں۔ اس کا مختصر ترجمہ کچھ یوں ہے کہ ایک مرتبہ دروازے پر سائل آیا اور طلبِ خیرات کے لیے اڑ گیا۔ نوعمر اقبال کو بھی ضد آ گئی اور انہوں نے اس فقیر پر سخت غصہ کیا، یہاں تک کہ اسے پیٹ ہی ڈالا۔ اتنے میں والد محترم آئے اور اس بے رحمی پر زار و قطار رو دیے اور کہنے لگے:

“روزِ قیامت، جب حضور اکرم ﷺ کے گرد امت جمع ہوگی اور یہ مظلوم سائل فریادی ہوگا، حضور ﷺ مجھ سے دریافت فرمائیں گے کہ ایک بندۂ مسلم تیری فرزندی و نگرانی میں دیا گیا، تو تُو اس ایک آسان کام کو نہ کرسکا، اس مٹی کے ڈھیر کو انسان نہ بنا سکا۔”

جواب دہی کا یہ احساس ہم میں ہے؟
آج مغربی اور غیر مسلم تہذیب کے اثرات نے ابتدائی عمر کی اس تربیت اور آدابِ فرزندی کو ہمارے لیے اجنبی اور غیر اہم بنا دیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں کتنے گھرانوں میں یہ، یا اس جیسا اندازِ تربیت موجود ہے؟
علامہ اقبال نے والدین، گھر اور اساتذہ سے ملی ہوئی تربیت کو حرزِ جاں بنا لیا۔ یوں وہ عام شعرا کے مقام سے بلند ہو کر اسلام کے داعیانہ مشن کے ساتھ اصلاحِ ملت کے عظیم فریضے کی جانب تا حیات یکسو رہے۔

علامہ اقبال کے خیال میں امت کے گلستاں کی شادابی، اس کے پھولوں یعنی نوجوانوں کے دم سے ہی ہے۔ وہ اپنے کلام میں جا بجا امت کے ان جوانوں کو تعمیرِ سیرت کے ذریعے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اقبال کا مشاہدہ تھا کہ مغربی تعلیم نے نوجوانوں سے عقابی روح چھین کر انہیں کرگسوں میں شامل کر دیا ہے۔ جدید نظریات نے فطرت کو تسخیر کرنے کی صلاحیت تو عطا کر دی، مگر ان سے ایمان و اعتماد کی دولت چھین لی، جس نے ان شاہین بچوں کی طاقتِ پرواز ختم کر دی ہے۔

وہ فریب خوردہ شاہیں جو پلا کرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے، رہ و رسمِ شاہبازی

اگرچہ آج کے دور کا زوال، اقبال کے زمانے سے کہیں زیادہ ہے اور اس کے مقابلے کے لیے قوتِ مزاحمت کہیں زیادہ کم ہے، مگر اقبال اپنے پیروکاروں سے اپنی ہی طرح مایوسیوں کے اندھیروں میں امیدوں کے دیوں کی روشنی کے منتظر ہیں۔

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

نہ ہو نومید، نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہے
امید مردِ مومن ہے خدا کے رازدانوں میں
(بالِ جبریل)

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment