رسم الفت ہی بس ادا کیجیئے
اپنے دل کی نہ کچھ دوا کیجیئے
ایک مسکان پہ سب لُٹا آئے
زندگی کا نہ اب گِلا کیجیئے
زر سے زن تک ہی سوچتے ہیں جو
قوم کا اُن سے نہ ، سودا کیجیئے
جا رہے ہیں باری باری سب
زائیچہ اپنا بھی لگا لیجیئے
جسکی تعمیر میں گزاری عمر
چھٹ گیا وہ مکاں بھی، کیا کیجیئے
نظم- افسانہ مہر


تبصرہ لکھیے