ہوم << جاوید غامدی اور تصوف، حسن الیاس کی وضاحت کے جواب میں - حسن کمال

جاوید غامدی اور تصوف، حسن الیاس کی وضاحت کے جواب میں - حسن کمال

جاوید احمد غامدی صاحب کے داماد حسن الیاس کا ایک وضاحتی مضمون نظر سے گزرا، جس کے الفاظ کے جوڑ توڑ اور مقدمات کا خلاصہ یہ ہے کہ غامدی صاحب کا موقف کسی نے سمجھا ہی نہیں ہے، حسن الیاس کا مضمون خود غامدی صاحب کے نظریہ تصوف پر سوال پیدا کر دیتا ہے کہ اس بارے میں جو کچھ اہل علم سے کہا جا رہا ہے اور جس انداز سے کہا جا رہا ہے تو ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ خود صاحب بھی تصوف اور صوفیاء کے بارے میں اسی غلطی کے مرتکب ہیں کہ انہوں نے صوفیاء کے موقف کو جیسا کہ صوفیاء کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں، اس کو آج تک سمجھ ہی نہ سکے.
ہم نے حسن الیاس کی چند تعبیرات میں تبدیلی کر کے ان مقامات پر موجودہ اہل علم کی جگہ صوفیاء اور تصوف کا لفظ لکھ دیا تو اب اولا خود غامدی صاحب ہی اس کے مرتکب نظر آتے ہیں:
”اگر جاوید احمد غامدی صاحب کو تصوف اور صوفیا پر تنقید کرنی ہے تو پہلے اس کا موقف نقل کریں، پھر ان کی وہ عبارات اور جملے نقل کرنے چاہییں، جن کی وجہ سے غامدی صاحب صوفیاء اور تصوف کی تکفیر و تضلیل ثابت کرتے ہیں۔
لیکن اگر صرف اپنی مرضی اور مطلب کے مطابق ان کے چند جملے نقل کرکے ان کی تکفیر و تضلیل کریں یا ان لوگوں کو تصوف کی طرف منسوب کردیں جن کا تصوف سے کوئی لینا دینا نہیں اور ان کو اپنا موقف ثابت کرنے کے لیے بطور استدلال پیش کریں کہ یہ تصوف اور صوفیاء کی فکر پر تنقید ہے اور ثابت یہ کریں کہ تصوف دین کے متوازی اور مخالف ہے تو دراصل ہم مخاطب کے موقف پر تنقید ہی نہیں کر رہے۔
یہ بات بھی قابل توجہ کہ جب غامدی صاحب کسی صوفی کے غلط ہونے کا دعوی کریں تو کم از کم اس کا اصولی نقطہ نظر تو جان لیں کہ وہ اپنی اس اصطلاح سے کیا مراد لیتا ہے اور اس کے کیا دلائل دیتا ہے۔“
حسن الیاس نے جس انداز سے وضاحت دی ہے اس سے بات یہاں رکے گی نہیں بلکہ ہم غامدی صاحب کی ہر فکر، رائے اور تنقید کے بارے میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ انہوں نے فلاں موقف یا بات کو جیسا کہ وہ کہی گئی ہے اور اس کا جو مطلب ہے اسے آج تک سمجھا ہی نہیں ہے۔

Comments

Click here to post a comment