ہوم << تین لفظ - نورین تبسم

تین لفظ - نورین تبسم

حق تین لفظ کا نام نہیں۔ اور حق محض تین لفظ دہرانے سےحاصل نہیں ہوجاتا اور تین لفظ بول کر ختم بھی نہیں ہو جاتا۔ کسی پر حق جتانے یا منوانے کے لیے لفظ نہیں احساس کی ضرورت ہوتی ہے۔ لفظ کی اہمیت مسلّم ہے پر احساس لفظ سے نہیں عمل سے ہے۔
لیکن! کاغذ پر بننے والا اور کاغذ پر ہی ختم ہونے والا حق اپنی گہرائی اور معنویت میں اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ آخر میں کاغذ سلامت رہ جاتا ہے اورانسان فنا ہو جاتا ہے۔ اور اتنا معتبر کہ دنیا میں اس سے بڑھ کر اور کوئی رشتہ کسی اجنبی سےممکن ہی نہیں۔
یہ کاغذی رشتہ کاغذی پھولوں کی طرح ہے جس میں مشاق ہاتھوں کی کاری گری سے جتنے چاہو رنگ بھر لو، جیسے چاہو موڑ لو، جیسی خوشبو دینے کی استطاعت ہو اس میں جذب کر دو، چاہو تو اصل کو بھی مات دے دو۔ ایسے ایسے رنگ تخلیق کرو کہ دیکھنے والے سراہنے والے اصل نقل کا فرق بھول جائیں۔ س کی یہی تو شان ہے کہ جس زاویے سے دیکھو مکمل دکھتا ہے، ہرموسم سے بےنیاز، جہاں جی چاہے رکھ دیں ہمیشہ نگاہوں کو خیرہ کرتا ہے۔ بنانے والوں، برتنے والوں کا ساتھ چھوٹ بھی جائے، پھر بھی نسلوں کی صورت ان کی یادگارعلامت کے طور پرقائم رہتا ہے۔
کاغذ پر بننے والا یہ رشتہ، یہ حق جتنا نازک جتنا حساس ہوتا ہے یہ بنانے والے ہی جانتے ہیں۔ خواہشوں کی دیمک سے بچاتے ہوئے، سمجھوتوں کی پھوار کا چھڑکاؤ کرتے رہنے سے ہی تازگی ملتی ہے۔ کاغذ کی زندگی جیتے جاگتے انسان کی شخصی آزادی کا خراج مانگتی ہے، قطرہ قطرہ نچوڑتی ہے پر کہیں نام و نشان نہیں چھوڑتی۔ نہ لینے والے پر اور نہ دینے والے پر کبھی حرف آنے دیتی ہے۔
لفظ کے دام میں حق جتانا بعض اوقات زبردستی یا زیادتی کی حدوں کو چھونےلگتا ہے جبکہ احساس کی گرفت میں انسان بنا کسی گھبراہٹ کےخوشی خوشی اپنی ہمت سے بھی زیادہ بوجھ اٹھا لیتا ہے۔ دل کے رشتے دل میں ہی رہ جاتے ہیں، اصلی گلاب جیسے، دل کی ڈال میں دل سے لگے جن کو بغاوت کر کے کسی طرح باہر لانے کی کوشش کی جائے تو مرجھانے لگتے ہیں۔ شاخ سے ٹوٹا پھول کہاں تک وقت کی گردش کا مقابلہ کر سکتا ہے. اُس کی نرمی، اُس کا لمس صرف وہی محسوس کرتا ہے جس کے مقدر میں اترے۔ زمانے کی آنکھ کی دسترس سے دور اُن کی اپنی دُنیا ہے۔ ہاں! اُن کی خوشبو ضرور دل سے نکل کر پورے بدن کو گل وگلزار بنا دیتی ہے۔ انسان کو اپنے اس اعزاز کا ادراک ہو جائے تو اس کے اندر ایک نئی روح بیدار ہوتی ہے۔ ایسی توانائی اور عزم عطا کرتی ہے کہ جو ناممکن کو ممکنات میں تبدیل کر دیتی ہے۔ لینے کی فکر سے بےنیاز کر کے محبت کی خوشبو داتا بناتی ہے تو کہیں اُس کی تخلیقی صلاحیتوں کو مہمیز کرتی ہے۔ کرب اور نارسائی کے دکھ میں لپٹی یہ ان چھوئی مہک دُنیا کے شاہکار ادب کی بنیاد ہے۔ رنگوں اور لکیروں کی زبان میں کینوس پر اُترتی ہے تو کہیں سُروں کی لَےلفظوں کی موسیقیت میں ڈھل کر حال ِدل بیان کرتی ہے۔ اور یوں پڑھنے دیکھنے اور سُننے والے سر دُھنتے ہیں۔
آخری بات!
کاغذی رشتوں کی اہمیت، اُن کے تقدس سے انکار نہیں۔ وہ فرد سے فرد کی بقا اور نسلوں کی پاکیزگی کے ضامن ہوتے ہیں اور اُن کے لیے باعثِ افتخار بھی۔ ایک کامیاب ازدواجی زندگی کا سفر صرف جگمگاتے پہلے صفحے اور اُس سے بڑھ کر انتہائی شاندار آخری صفحے کی کہانی ہے۔ بیچ کون جانے کہ جب ہندسے ہی ثبوت ٹھہرے توحرف کی کیا مجال جو دخل اندازی کرے۔ جس کے پاس جو تھا وہی دے سکتا تھا اور دے بھی دیا! اب کچھ باقی نہیں کہنے کو۔
مگر ہم نادان ہیں، نہیں جانتے کہ آخری ورق لکھنے پر ہمارا اختیار نہیں اور یہ بھی کہ اگر کہانی پر لکیر سیدھی ہو جائے تو پھر کچھ باقی نہیں بچتا، قرار نہ انتظار، گلہ نہ شکوہ۔
زندگی الجبرا کا سوال لگے تواُس کا جواب اگر مل بھی جائے تو ہمیشہ ایک ہی آتا ہے۔

Comments

Click here to post a comment