ہوم << فتوے، ہمارا معاشرہ اور ہم - علی منور

فتوے، ہمارا معاشرہ اور ہم - علی منور

علی منور بریلوی مشرک ہیں۔
دیوبندی دہشتگرد ہیں۔
اہل حدیث منکر اور گستاخ ہیں۔
یہ باتیں اور اس سے ملتے جلتے الفاظ ہمیں معاشرے میں عموماً سننے کو ملتے ہیں، اور جس معاشرے میں ہم رہ رہے ہیں اس کو تشکیل بھی ہم نے خود دیا ہے، یہ جو عدم برداشت ہمیں نظر آتی ہے یہ بھی کسی اور کی دین نہیں بلکہ خود ہمارے اپنے ہاتھوں کے بوئے بیج ہیں۔
ہم بحثییت مسلمان تو اخلاق کے بلند ترین مرتبے پر فائز تھے تو آخر ہمیں ہوا کیا؟
کیا آقا دو جہاں ﷺ ہمیں یہ تعلیم دے کر گئے تھے کہ باہم دست و گریباں ہو جانا؟
ہم تو اس نبیﷺ کے امتی ہیں جن کے اخلاق کی گواہی نبی ﷺ کے بدترین دشمن بھی دیا کرتے تھے، ایک آدمی نے اماں جان عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کے نبی اکرم ﷺ کا اخلاق کیسا تھا؟ تو اماں جی نے جواب دیا کہ کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا؟
اور قرآن تو اللہ رب العزت نے نازل کیا ہے اور قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس میں شک کی گنجائش سرے سے ہی نہیں ہے، تو کیا وجہ ہے کہ ہم ایسے نبی کے امتی ہونے کے باوجود کہ جن کے اخلاق سے قرآن مقدس بھرا پڑا ہے،اخلاقیات سے عاری ہو چکے ہیں۔
بحثیت قوم ہماری تربیت میں کہاں کمی رہی جو ہم اس قدر گر چکے ہیں کہ اپنے ہی کلمہ گو مسلمان بھائی پر مشرک، منکر اور گستاخ کا فتویٰ لگانے سے نہیں چوکتے، بلکہ بسا اوقات تو اپنے بھائیوں پر کفر تک کا فتویٰ بھی لگانے سے گریز نہیں کرتے۔
ہم میں برداشت کی اس حد تک کمی ہے کہ کسی کی بات سننا تو درکنار ہمیں فتوؤں کی توپ چلانے کے لیے بس اتنی ہی وجہ درکار ہوتی ہے کہ سامنے والا فریق مخالف ہے۔ اِدھر پتا چلا کہ سامنے والا دوسرے عقیدے کا حامل ہے ادھر فتوؤں کی توپ سے دھڑا دھڑ گولہ باری شروع ہو جاتی ہے۔
سمجھنے کی بات تو یہ ہے کہ ہمیں کسی بھی دوسرے کو کافر یا گستاخ کہنے کا اختیار دیا کس نے؟
نہ تو اللہ نے کوئی ایسا حکم نازل کیا اور نا ہی اللہ کے پیارے حبیب ﷺ نے ایسا کوئی اختیار کسی کو سونپا، سچ کہوں تو یہ سب ہماری دینی تربیت میں کمی کی دلیل ہے۔ہم دنیا جہاں کے علوم پر دسترس حاصل کرنے کو دوڑ رہے ہیں مگر دینی تعلیم کی خبر نہیں، دنیاوی تعلیم حاصل کریں ضرور کریں مگر ساتھ ہی ساتھ دین کی اتنی سی خبر تو کم سے کم ہو کہ اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ کس طرح پیش آنا ہے۔
یقین جانیں کہ وہ سب لوگ جو اس طرح کے فتوئے داغنے سے گریز نہیں کرتے وہ سب کے سب جاہل ہیں خواہ ان کی تعلیم پی.ایچ .ڈی ہی کیوں نا ہو۔
جب ہلاکو خان اور چنگیز خان نے دنیائے اسلام کو تاراج کیا تو کیا انہوں نے کسی بریلوی، اہل الحدیث یا دیوبندی کی تخصیص کی؟
جب یورپ نے مسلمانوں کے صلیبی جنگیں مسلط کیں تو کیا کہیں کسی مسلمان میں فرق کیا؟
ابھی حالیہ دور پر نظر دوڑائیں تو پتا چلے گا کہ عراق اور افغانستان میں امریکہ نے مسلمانوں کا قتل عام کرتے وقت بریلوی، دیوبندی کو الگ الگ نہیں کیا تھا اور نا ہی احمد آباد میں مسلمانوں کو زندہ جلاتے وقت کسی نے ان سے اہل الحدیث کا سرٹیفیکیٹ طلب کیا تھا۔
اس طرح کی بیسیوں مثالیں آپ کے بھی علم میں ہوں گی، جب غیر مسلموں کے لیے ہم صرف مسلمان ہیں تو آپس میں اتنی شدت اور تقسیم کیوں؟؟
میں نے اکثر مساجد میں بورڈلگے دیکھے ہیں کہ یہاں فلاں گروہ کا داخلہ منع ہے، یا پھر کسی مخصوص مسلک کے لوگوں کے دوسری مسجد میں نماز پڑھنے کے بعد مسجد کو دھویا جاتا ہے۔
کیا یہی تعلیم رہ گئی ہماری؟
اصل بات تو یہ ہے کہ ہم اخلاقی طور پر اتنے کمزور اور دینی تربیت کے لحاظ سے اس قدر پست ہو چکے ہیں کہ آپس میں بات کرنے یا دوسرے کی بات سننے کی صلاحیت ہی کھو چکے ہیں۔
ہم میں اپنے مسلمان بھائی کے لیے اتنی بھی خیر خواہی باقی نہیں رہی کہ اگر اسے کوئی غلطی کرتے دیکھیں تو پیار سے سمجھا ہی سکیں ہاں فتویٰ فوراً جاری کر دیتے ہیں۔مسلمان کو دوسروں کی عزت، مال اورجان کی حفاظت کا ذمہ دار بنایا گیا تھا تو یہ عصبییت کہاں سے آئی؟
اب تو ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے ہاتھوں اپنی عزت و آبرو اور مال و جان کی حفاظت بھی ایک خواب نظر آتا ہے۔
دراصل حقیقت یہ ہے کہ ہم کسی کی اصلاح چاہتے ہی نہیں بلکہ اس طرح فتویٰ بازی کر کے اپنی تسکین کا سامان کرتے ہیں، اس طرح کسی کی بھی اصلاح تو ہو نہیں سکتی، ہاں فساد ضرور کھڑا ہو جائے گا۔اور اس فساد سے ہمارا معاشرہ پہلے ہی اٹا پڑا ہے۔اس وقت عالم اسلام اور خصوصاً پاکستان جس طرح کے مسائل سے دوچار ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ باہمی منافرتیں بھلا کر پیار و اخوت کی ایک فضا پیدا کریں۔
اپنے مسائل کو مل جل کر حل کریں اور خود کو ایک دوسرے کا بازو بنائیں،پاکستان کو تو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ مدینہ طیبہ کے بعد پاکستان وہ واحد ریاست ہے جس کی بنیاد لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔
جس طرح مدینہ طیبہ میں اخوت کی لازوال مثال قائم کی گئی تھی ویسی ہی اخوت کی اب ہمیں ضرورت ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ ہمیں اگر کسی میں کوئی کمی یا کوتاہی نظر آئے تو ہم اسے لعن طعن کرنے کی بجائے پیار سے سمجھائیں،اسوہ رسول اکرم ﷺ اور سیرت صحابہ سے مثالیں دے کر قائل کریں۔
قرآن حکیم اور ذخیرہ احادیث سے حقیقت کو دلائل کی روشنی میں واضح کریں۔کوشش کریں کہ کسی کی خطاؤں کی پردہ پوشی ہو نا کہ اس کا اشتہار لگا دیا جائے۔
ہمیں اپنے لہجے میں ویسی ہی مٹھاس پیدا کرنی ہو گی جیسی نبی ﷺ کے لہجے میں تھی، نبی ﷺ کے تو اخلاق کو دیکھ کر ہی لوگ مسلمان ہو جایا کرتے تھے، ہمیں بھی وہی اخلاق اپنانے کی ضرورت ہے۔
لوگوں کو اپنے قریب کریں نا کہ بیزار کر دیں، اگر کسی میں برائی نظر آئے تو احسن طریقے سے اسے دور کریں۔
بات کریں تو دلیل کے ساتھ مہذب انداز میں اور ساتھ ہی ساتھ اپنے اندر یہ وصف پیدا کریں کہ اگر کوئی آپ کے اندر کسی غلطی کی نشاندہی کرے تو آپ کے اندر اسے قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔آپ اپنی غلطی تسلیم کریں اور اپنے آپ سے اس غلطی کو نا دہرانے کا وعدہ کریں۔
دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ ہم دوسروں کی اصلاح کا بیڑا تو اٹھا لیتے ہیں لیکن اپنی خبر ہی نہیں ہوتی، اگر دانستہ یا نا دانستہ ہم سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو ہم اسے قبول کرنے یا اس کی اصلاح کی بجائے اپنی انا کے ہاتھوں مجبور ہو کر بحث پر اتر آتے ہیں اور غلطی پر ہونے کے باوجود شرمندہ ہونے کی بجائے سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں جو کہ معاشرے کے بگاڑ کا ایک بنیادی سبب ہے۔
کسی بھی معاشرے کو تشکیل دینے کے لیے ہزاروں کا مجمع درکار نہیں ہوتا بلکہ فرد واحد ہی معاشرے کے بگاڑ یا سنوار کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
جس طرح سر سید احمد خان نے 'رسالۃ تہذیب الاخلاق 'میں ایک اہم مضمون 'اپنی مدد آپ' میں چند آزمودہ نسخے بیان فرمائے ہیں، ان میں سے ایک درج ذیل ہے:-
"سچی ترقی کی بنیاد دراصل اپنی مدد آپ کرنے کے جوش و جذبے میں ہے اور قومی ترقی دراصل شخصی محنت ، عزت، ایمانداری اور شخصی ہمدردی میں مضمر ہے جبکہ قومی تنزلی مجموعہ ہے شخصی سستی ، بے عزتی، بے ایمانی، خودغرضی اور شخصی برائیوں کا۔داخلی خرابیوں کو بیرونی دباؤ سے مٹانا ممکن نہیں اصلاح احوال کے لئے شخصی زندگی اور شخصی چال چلن کی حالت کو بہتر بنانا نا گزیر ہوتا ہے۔"
آج ہم جو اس کٹھن صورت حال سے گزر رہے ہیں تو اس کے ذمہ دار بھی ہم خود ہیں، اپنے معاشرے کو کمزور بھی ہم نے خود ہی کیا ہے اور اب اسے مضبوط بھی ہمیں ہی کرنا ہو گا۔
اگر اب بھی ہم کسی کے انتظار میں بیٹھے رہے کہ کوئی آئے اور معاشرے کی اس برائی کے خلاف جدوجہد شروع کرے تو ہی ہم بھی کچھ کریں گے تو یقین کریں کہ معاشرہ مزید بگڑ جائے گا۔
اپنی آنے والی نسلوں تک ایک مضبوط اور مہذب ، اخوت کی مٹھاس سے لبریز معاشرہ پہنچانا ہمارا فرض ہے۔
تو آئیے آج سے عہد کریں کہ کسی بھی برائی کو دیکھ کر اس پر انگلی اٹھانے کی بجائے اصلاح کے پہلو پرمہذب انداز میں دلیل اور نرمی کے ساتھ توجہ دیں گے اور اس کی پہل آج، ابھی اور اپنی ذات سے کریں گے۔ اگر کوئی اخلاقیات کی حدیں پار کرے تو جواب میں نبیﷺ کا اسوہ اپنائیں گے تا کہ اس آدمی کے اپنی غلطی محسوس ہو سکے۔

Comments

Click here to post a comment