ہوم << تم ہوسکتے ہو لیکن تم نہیں ہوسکتے-اوریا مقبول جان

تم ہوسکتے ہو لیکن تم نہیں ہوسکتے-اوریا مقبول جان

orya
سیکولرازم اور لبرل ازم کا بھوت جب قوموں کے سروں پر سوار ہوا تو انھوں نے مذہب کو ریاست سے دیس نکالا دے دیا۔کبھی کہا مذہب خونریزی پیدا کرتا ہے اور کبھی ’’انسان عظیم ہے خدایا‘‘ کا نعرہ لگایا۔ اب قوم کو کسی ایک جذبے کے تحت متحد رکھنا تھا سو مادر وطن، دھرتی ماتا، ہوم لینڈ اور قومیت کے جذبے کو ابھارا گیا۔ اس جذبے کو ابھارے ابھی ایک دہائی بھی نہ گزری تھی کہ نسل اور قوم کے نام پر پہلی جنگ عظیم لڑی گئی، کروڑوں انسانوں کا خون بہایا گیا۔ اب اس قومی تعصب کو مستحکم کرنے کے لیے 1920ء میں پاسپورٹ کا ڈیزائن لیگ آف نیشنز میں منظور ہوا۔ ویزا ریگولیشنز وجود میں آئے اور ہر ملک کی سرحد پر بارڈر سیکیورٹی فورسز کھڑی کر دی گئیں۔
بتا دیا گیا یہ تمہارا پنجرہ ہے، قحط، وبا، غربت یا جنگ جو بھی ہو تم نے یہیں مرنا ہے۔ غربت ہے تو ہماری اجازت سے آؤ، ہماری غلامی کرو، پھر دیکھیں گے تمہیں مستقل رہنے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں۔ تمہارے ملک میں کوئی وبا ہے تو ویکسین لگوا کر آؤ، ورنہ اپنے ملک میں ہی بیماری کی موت مر جاؤ۔ سرحدوں کا بکھیڑا ایسا ہے جیسے محلے میں گھروں کی اونچی دیواریں ہوتی ہیں۔ پڑوسی بھوک سے مر رہا ہو، اس کے گھر میں آپس کی جنگ میں لوگ قتل ہو رہے ہوں، وہ دیوار پر کھڑا ہو کر آپ کو مدد کے لیے پکار رہا ہو۔ ان تمام حالات میں آپ پہلے اپنے گھر کو دیکھتے ہیں پھر اس کی مدد کرنا چاہیں تو کریں ورنہ آپ پر عالمی قوانین کے تحت کوئی پابندی نہیں۔ آپ کے گھر خوراک وافر ہو گی، آپ اسے سمندر میں پھینک دیں گے تا کہ اس کی قیمتیں کم نہ ہوں، لیکن قحط زدہ پڑوسی ممالک کو نہیں دیں گے۔
جدید سیکولر قومی ریاستوں نے دنیا کو خوفناک جنگوں میں مستقل الجھائے رکھا۔ پہلے دو عالمی جنگیں لڑ کر دنیا کو پندرہ کروڑ اموات کا تحفہ دیا، پھر سرد جنگ کے نام پر ویت نام سے جنوبی امریکا تک ہر خطے کا امن برباد کیا گیا۔ اس کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ نے اس دنیا کو مزید انسانی کھوپڑیوں کے مینار بخشے۔ افغانستان ایک ایسا خطہ ہے جس پر سرد جنگ کے زمانے میں قتل و غارت مسلط کی گئی۔
سوویت روس کی افواج وہاں داخل ہوئیں اور پھر پوری مغربی دنیا مفاد کے تیر چلانے افغانوں کی مدد کے نام پر وہاں جا پہنچی۔ سرد جنگ سوویت یونین کے زوال سے ختم ہو گئی لیکن افغانوں پر دہشتگردی کے نام پر پچاس کے قریب ممالک نے یلغار کر دی۔ اس مستقل اور مسلسل جنگ اور خوف کا ایک نتیجہ افغان مہاجرین ہیں۔ دسمبر 1979ء میں روس افغانستان میں داخل ہوا اور 1980ء کے آغاز میں مہاجرین کے لٹے پٹے قافلوں نے پاکستان کی سرزمین کا رخ کیا۔ بلوچستان میں ہونے کی وجہ سے میں ان کی آمد کے سلسلوں کا اول دن سے گواہ ہوں۔
دنیا میں جہاں کہیں بھی مہاجر گئے ہیں یہ ایک بنیادی اصول ہے کہ انھوں نے اس ملک کی معیشت میں اپنا حصہ ضرور ڈالا ہے۔ مجھے حیرانی ہوتی ہے جب لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہماری معیشت پر باہر سے آئے لوگ بوجھ ہیں۔ مہاجر دنیا کی ہر معیشت کی ضرورت ہوتا ہے۔ بے آسرا، بے گھر، بے وطن، سر جھکا کر کام کرتا ہے۔ محنت سے رزق کماتا ہے۔ اپنے لیے کوئی مراعات طلب نہیں کرتا، کسی حکومتی، سیاسی اور گروہی گٹھ بندی کا حصہ نہیں بنتا، سارے محنت طلب کام وہی کرتا ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں 25 کروڑ لوگ کسی نہ کسی وجہ سے اپنا ملک چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں جا کر آباد ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد بھارت کے لوگوں کی ہے جو ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ہے۔ اس کے بعد میکسیکو کے افراد ہیں جو ایک کروڑ بیس لاکھ ہیں۔
پاکستان سے ہجرت کر کے دیار غیر جانے والے افراد کی اس وقت معلوم تعداد نوے لاکھ کے قریب ہے۔ جن میں سب سے زیادہ تعداد متحدہ عرب امارات (16 لاکھ)، سعودی عرب (15لاکھ) اور برطانیہ میں چودہ لاکھ ساٹھ ہزار ہیں جب کہ بقیہ یورپی ممالک میں 8 لاکھ سے زیادہ پاکستانی ہجرت کر کے آباد ہیں۔ ان میں سے ہر کسی نے کسی نہ کسی طرح خود کو اس مملکت پاکستان میں غیر محفوظ، معاشی طور پر پسماندہ اور کہیں سیاسی طور پر کچلا ہوا تصور کیا اور وہ وہاں پہنچ گیا۔ ان تمام ممالک میں جانے والے پاکستانیوں کی جھوٹ سچ کہانیاں اور اس ملک میں آباد ہونے کی سرتوڑ کوششیں رکھنا شروع کی جائیں تو کتابوں کی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں لیکن چونکہ مہاجر ہر معاشرے میں معاشی طور پر اپنا بھر پور کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں اس لیے خواہ لوگ ان سے نفرت کریں، حکومتیں ان کے خلاف مسلسل بولتی رہتی ہیں، تا کہ وہ خوفزدہ ہوں، ان کو کوئی اپنے ملک سے نکالتا نہیں۔
افغان مہاجرین جب سے پاکستان میں آئے ہیں پاکستان کی معیشت میں ان کا جو کردار ہے وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں۔ بلوچستان کے بے آب و گیاہ  علاقے کی مثال لے لیتے ہیں۔ کوئٹہ سے کراچی اور کوئٹہ سے ایران کی شاہراہیں کبھی ویرانی کا منظر تھیں۔ یہ ہرے بھرے سیب، آڑو، ناشپاتی، انگور اور آلو بخارے کے باغات کب اور کس کی محنت سے آباد ہیں، سب جانتے ہیں۔ چاغی میں نوشکی کے بعد ایک صحرا ہے، اس صحرا میں ہاتھ سے کنویں کھود کر فصل کس نے اگائی، دالبندین کے مرحوم سخی دوست جان ایم پی اے کی زمینیں مدتوں سے بے آباد تھیں، کاریزیں خشک ہو چکی تھیں، ان زمینوں سے وہ نوے کی دہائی میں افغان مہاجرین کی محنت سے لاکھوں روپے کمانے لگا تھا۔ ازبک مہاجرین کے بارے میں تو یہ لطیفہ مشہور ہو گیا تھا کہ ’’جب اللہ نے گدھے کو پیدا کیا تو ازبک نے شکایت کی کہ پھر مجھے کیوں پیدا کیا تھا۔‘‘ کون تھا جو ڈھونڈ کر ازبک مزدور نہیں لاتا تھا کہ ایسا ایماندار اور جانفشانی سے کام کرنے والا کوئی نہ ہو گا۔ ملک میں امن اور خوشحالی ہو تو کوئی دوسرے ملک میں نہیں رہتا کہ وہاں کے لوگ اسے اجنبی سمجھتے رہتے ہیں۔
آج بھی اس ملک کے کچرا دانوں سے شدید بدبو کے عالم میں بوتلیں، ٹین، گتے علیحدہ کرتے اور فیکٹریوں کا پہیہ چلانے والے یہی افغان مہاجرین ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ جسے کوئی بیان نہیں کرتا کہ 1995ء میں جب ملا محمد عمر کی حکومت قائم ہوئی، افغانستان میں صدیوں کے بعد امن آیا تو افغان مہاجرین کے کیمپ ویران ہو گئے۔ محمود اچکزئی کے گھر کے آس پاس جنگل پیر علی زئی، گلستان، سرخاب اور سرانان کے کیمپوں میں ہُو کا عالم تھا۔ ہر کوئی پاکستان چھوڑ کر افغانستان جا رہا تھا۔ پنچپائی اور محمد خیل کے مہاجر کیمپ جو بلوچ علاقوں میں تھے وہاں سے بھی اکثریت واپس چلی گئی۔ لیکن افغانستان کا امن کسی کو اچھا نہیں لگتا۔ ان پر ایک اور جنگ مسلط کر دی گئی اور وہ ایک بار پھر خانماں برباد ہو گئے۔
ہجرت اور مہاجر ایک اسلامی تصور ہے اور دنیا میں اگر واقعی کسی ملک میں اللہ کے نام لیواؤں پر ظلم مسلط ہے تو وہاں کے لوگ جو جان کے تحفظ میں نکلتے ہیں تو وہ مہاجرین ہیں۔ خواہ کشمیر سے نکلیں یا بوسنیا سے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اخوت جن کے نبی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ورثہ ہے، جو منبر رسول پر بیٹھ کر اخوت مدینہ کی باتیں کرتے ہیں، ان کی زبانیں گنگ ہیں اور ان مہاجرین کے حق میں قوم پرست رہنما پشتون ہونے کے ناطے بیاں دے رہے ہیں۔ کیا وہاں سے اس لیے نکالے گئے کہ وہ پشتون تھے، نہیں وہ اس لیے نکالے گئے کہ وہ مسلمان تھے اور ہر ایسے نظام کے مخالف اٹھ کھڑے ہوئے تھے جو اسلام کے نزدیک طاغوت ہے۔
حیرت ہے اسلام کی عظمت کے گن گانے والے پاکستانی معیشت کا رونا روتے ہوئے انھیں واپس جانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ کیا مدینہ کے کسی رہنے والے نے مہاجرین کو یہ مشورہ دیا۔ اگر معیشت پر بوجھ ہی ایک اصول ہے تو پھر کل اگر دنیا کے ممالک نے نوے لاکھ پاکستانیوں کو واپس بھیج دیا گیا تو پھر کیا دلیل دو گے۔ وہ پاکستانی جو معیشت کے نام پر ہجرت کر کے گئے ان کے لیے دیار غیر میں تمام سہولتیں مانگتے ہو اور اپنے گھر آئے ہوئے ’’مہاجرین‘‘ کو دھکے مارتے ہو۔ ایک اصول اپناؤ، ایک کسوٹی بناؤ۔ یاد رکھو جس ملک کو تم ریاست مدینہ کے بعد دوسرا بڑ واقعہ قرار دیتے ہو وہ ایسے ہر لٹے پٹے، بے خانمان شخص کا گھر ہے جسے اللہ کے نام پر ستایا اور بے گھر کیا گیا۔
حج کے دوران ایک بلجیئم کے نو مسلم سے ملاقات ہوئی۔ اس کے چہرے پر اس قدر نور تھا کہ پلک چھپکنے لگتی تھی۔ اس نے سوال کیا پاکستان کیسے وجود میں آیا۔ میں نے بتایا ہم نے اسلام کے نام پر اپنے پنجابی، سندھی، بلوچ اور پشتون بھائیوں کو چھوڑ کر ایک علیحدہ ملک بنایا۔ اس نے جواب دیا Than I am a Natural Citizen of your Country. تو میں آپ کے ملک کا حقیقی طور پر شہری ہوں۔ میرے ساتھ حامد میر بھی تھے۔ مجھے منیٰ کے خیمے میں حامد میر کا جواب آج بھی یاد ہے۔ انھوں نے کہا You can but you can’t تم ہو سکتے ہو لیکن تم نہیں ہو سکتے۔ یہی ہمارا المیہ ہے۔ ہم اللہ سے کوئی اور وعدہ کرتے ہیں اور بندوں سے کوئی اور سلوک۔ جس دن ہم نے یہ منافقت چھوڑ دی اللہ ہم پر مہربان ہو جائے گا۔