ہوم << بنگلہ دیشی فوج میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہاپسندی پر خدشات، بھارت کے لیے نئی سکیورٹی تشویش
600x314

بنگلہ دیشی فوج میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہاپسندی پر خدشات، بھارت کے لیے نئی سکیورٹی تشویش

ڈھاکا: بنگلہ دیشی فوج میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہاپسندی اور پاکستان کے ساتھ فوجی روابط میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک تازہ تجزیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فوج کے اندر بعض نئی رجحانات خطے کی سلامتی، بالخصوص بھارت کی مشرقی سرحدوں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیشی فوج کی نئی قائم کی گئی چار بٹالینوں کے نام ابتدائی چار خلفائے راشدین کے نام پر رکھے گئے ہیں، جبکہ ان کا جنگی نعرہ بھی “جوئے بنگلہ” کے بجائے “اللہ اکبر” اختیار کیا گیا ہے۔ تجزیے میں اسے فوج کے اندر بڑھتے ہوئے مذہبی رجحان کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد فوج اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافہ ہوا ہے، جس میں اعلیٰ سطحی رابطے، مشترکہ تربیت اور دفاعی سازوسامان کی خریداری شامل ہے۔

تجزیے کے مطابق نئی تشکیل دی گئی بٹالینیں بھارت سے متصل چٹاگانگ کے علاقے میں تعینات کی گئی ہیں، جس کے باعث سرحدی سلامتی، غیر قانونی دراندازی اور عسکریت پسندی کے ممکنہ خطرات پر بھی خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر بھارتی سکیورٹی اداروں کو بنگلہ دیشی فوج میں رونما ہونے والی ان تبدیلیوں اور پاکستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط پر مسلسل نظر رکھنی چاہیے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

نیوز ڈسیک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment