ہوم << کربلا میں خواتین کامثالی کردار – مولانا قاری محمد سلمان عثمانی
600x314

کربلا میں خواتین کامثالی کردار – مولانا قاری محمد سلمان عثمانی

واقعہ کربلا ہمیں صبر، استقامت، شجاعت، پرہیزگاری اوردین پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتا ہے. یہ واقعہ ہمارے ایمانوں کو تقویت دینے کیلئے بھی ہے، جس میں اہل بیت نے قربانیاں دے کر یہ ثابت کر دیا کہ اسلام کی خاطر قربان ہو نا اسوہ حسینی ہے.

اس واقعہ میں خواتین اور مرد، چھوٹے اور بڑے سب شامل ہیں اور ہر ایک کا اپنا ایک الگ کردار ہے۔ درحقیقت کربلا میں کام آنے والے بہادر اپنی ماؤں کے لیے ایک انمول سرمایہ تھے۔ کربلا کے واقعہ کو ابدی حیات بخشنے میں حضرت زینب، حضرت ام کلثوم، حضرت سکینہ، اسیران اہل بیت اور کربلا کے دیگر شہدا ء کی بیویوں اور ماؤں کا اہم کردار رہا ہے۔ کسی تحریک کا پیغام لوگوں تک پہنچانا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ کربلا کی تحریک کا پیغام، کربلا کی اسیر خواتین نے عوام تک پہنچایا ہے۔ جناب سیدہ زینب کے بے نظیر کردار اور قربانیوں سے تاریخ کربلا کامل نظر آتی ہے۔ عاشور کا واقعہ تمام خصوصیات کا مجموعہ اور مختلف موضوعات پر مشتمل ہے.

تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ عاشورہ کو وجود اور رونق عطا کرنے والے باایمان اور شجاع مجاہدین در حقیقت اپنی ماؤں کے لیے ایک انمول سرمایہ تھے. کربلا کے واقعات کو زندہ و جاوید بنانے میں خواتین و اسیران اہل بیت اور کربلا کے دیگر شہدا کی بیویوں اور ماؤں کا کرداررہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا. واقعہ کربلا میں صرف عاشورہ میں ہی نہیں بلکہ انہوں نے شہادت امام حسینؓ کے بعد مختلف مقامات پر اپنا کردارادا کر کے یہ بات ثابت کی ہے کہ حضرت امام حسینؓ کا خواتین اور بچوں کو اپنے ہمراہ لے جانے کا فیصلہ کتنا مثالی تھا. کربلا کی ان مثالی خواتین نے ملوکیت کی پروردہ قوتوں کے مقابل اپنے معصوم بچوں کو بھوک وپیاس کی شدت سے بلکتا ہوا دیکھنا گوارا کیا.

یہاں تک کہ اپنے سہاگوں کو بھی راہ خدا میں قربان ہوتے دیکھا لیکن رسول اللہ ﷺ کے دین کی کشتی انسانیت کو ڈوبنے نہیں دیا۔ واقعہ کربلا کو بے نظیر ولاثانی بنانے میں خواتین کربلا کے بے مثل ایثار سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ معرکہ کربلا میں اگر خواتین نہ ہوتیں تو مقصد قربانی سید الشہدا امام حسین ؓ ادھورا ہی رہ جاتا۔ یہی سبب ہے کہ نواسہ رسول ؐملوکیت کے مقابلے میں بیداری اُمت کی تحریک میں اپنے ہمراہ اسلامی معاشرے کی مثالی خواتین کو میدان کربلا میں لائے تھے۔کربلا میں امام حسینؓ کے انصار و مجاہدین کو ان کی ماؤ ں اور بیویوں نے ہمت اور حوصلہ دیا کہ تم سے زیادہ قیمتی جناب فاطمہ زہراؓ کے فرزند ہیں۔

ایسا نہ ہو کہ تمہارے ہوتے ہوئے دشمن ان کو نقصان پہنچا دے، اگر ایسا ہوا تو ہم روز محشر سیدہ زہراؓ کو کیا منہ دکھائیں گے۔ یہ ان عظیم ماؤں کی ہمت تھی کہ اسلام کی سر بلندی کے لیے ایک نے اپنی عمر بھر کی کمائی جناب علی اکبرؓ کو امام حسینؓ کے لئے عظیم مشن پرقربان کیا تو جناب ربابؓ نے اپنے چھ ماہ کے ننھے شیر خوار کو امام کا مجاہد بنا کر پیش کیا۔ تربیت اگر ایسی ماؤں کی ہو تو پھر فرزند تاریخ میں باقی رہ جانے والے سپوت کیوں نہ بنیں۔ بی بی زینبؓ وہ ہستی ہیں جن کے خطبوں سے کربلا کی تحریک کو تا قیامت اسی شدید جذبے سے یاد رکھا جائے گا جیسے وہ صدیوں کی بات نہیں کل ہی کا قصہ ہو۔ حضرت زینب ؓ قوت برداشت اور صبر کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز تھیں۔

حضرت امام حسینؓ کی شہادت کے بعد آپ کی تین اہم ذمہ داریوں کا آغاز ہوا تھا جن کو آپ نے کمال کامیابی کے ساتھ نبھایا۔ سب سے بڑی ذمہ داری حضرت سجادؓ کی تیمارداری اور دشمن سے ان کی حفاظت‘ دوسری ذمہ داری ان عورتوں اور بچوں کی حفاظت، جو بیوہ ہو چکی تھیں اور بچے یتیم۔ تیسری ذمہ داری کربلا کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانا تھا۔ دم توڑتی انسانیت کو زندہ کرنے کا جو ارادہ حضرت امام حسین ؓ گھر سے لے کر نکلے تھے اس کو انجام تک کردارِ اور گفتار کے ذریعے زینبؓ نے پہنچایا۔ انہی کی سربراہی میں حضرت امام حسین ؓکے اہل حرم نے کوفہ و شام کے گلی کوچے میں اپنے خطبات کے ذریعے یزیدیت کے ظلم کا پردہ چاک کیا اور رہتی دنیا تک ہونے والی کسی بھی سازش کو بروقت بے نقاب کر دیا۔

واقعہ کربلا کا ایک اور اہم کردار امیر المومنین حضرت علیؓ کی بیٹی اُم کلثوم ہیں جنہوں نے دوران اسیری کوفہ و شام کے بازاروں میں خطبے دیے۔انہوں نے اپنے خطبوں میں جہاں کوفیوں اور شامیوں کی امام حسین ؓسے بے وفائی کی مذمت کی وہیں حرم رسول کی طرف نگاہ کرنے سے شدت سے منع بھی کیا۔ آپ کوفہ میں ایک خطبہ کے دوران فرماتی ہیں ”ترجمہ: اے کوفہ والو کیا تمہیں خدا و رسول سے شر م نہیں آتی کہ تم حرم رسول کی طرف نگاہ کر رہے ہو۔“اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر خواتین حضرت امام حسین ؓ کا ساتھ نہ دیتیں تو اُمت مسلمہ کی بیداری کی یہ تحریک کبھی کامیاب نہ ہوتی بلکہ یہ کربلا کے میدان میں ہی ختم ہو جاتی۔

ان خواتین نے ہی اس واقعہ کی یاد کو زندہ جاوید بنا دیاجگہ جگہ پر ان محترم خواتین کا احکام خداوندی کی طرف توجہ دلانا اور ان کی مکمل رعایت کرنا آج کی مسلمان خواتین کیلئے واضح درس ہے کہ زمانہ کتنا بھی ترقی کیوں نہ کر جائے حالات کتنے بھی سخت کیوں نہ ہو جائیں سماج کتنا بھی برا کیوں نہ ہو جائے۔اس لئے ہمیشہ اپنے حوصلوں کا علم بلند رکھیں۔ حق کا ساتھ دیں، باطل کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہوں تو راستے خود بخود سہل ہو جائیں گے۔واقعہ کربلا نے انسانیت کو سرخ رو کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی اقدار کو حیات نو بخشی ہے۔اس عظیم اور بے مثال جنگ میں جہاں پر حضرت امام حسین ؓکے با وفا،بہادرفرزندان اور اصحاب کے بے نظیر کردار موجود ہیں وہاں پر خواتین کی بے مثل قربانیوں سے انکار نا ممکن ہے، جس کو انسانیت کی تاریخ نے ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا ہے۔

ان مثالی خواتین نے باطل کے مقابل اپنے معصوم بچوں کو بھوک وپیاس کی شدت سے بلکتا ہوا دیکھنا گوارا کیا، لیکن دین اسلام کی کشتی کو ڈوبنے نہیں دیا۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں کہ مقصد واقعہ کربلا کو اپنی منزل مقصود تک پہنچانے میں خواتین کربلا کے کئی بے نظیر ولاثانی کردار ہیں۔یہاں پر یہ جملہ لکھا جائے تو مبالغہ نہیں ہو گا کہ حادثہ کربلا میں اگر یہ عظیم خواتین نہ ہوتیں تو حضرت امام حسین ؓ کا مقصد قربانی ادھورا ہی رہ جاتا، کربلا کی ان بہادرخواتین نے اپنی عمل سے ثابت کردکھایا کہ نواسہ رسول ؓ کربلا میں خواتین کو بے مقصد نہیں لائے تھے۔

اللہ تعالیٰ ان کی قربانیوں کو قبول فرمائے اور اسلام کو مزید تقویت عطا فرمائے اور اللہ کریم ہمیں حضرت سیدنا حسین ؓ اور اہل بیت عظام کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائیں۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

مولانا قاری محمد سلمان عثمانی

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment