فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے
کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو کبھی معاف
یہودیوں کی مذہبی کتابوں کے مطابق انسان صرف یہودیوں کی خدمت کے لیے بنائے گئے ہیں۔ وہ جتنے “حیوان” ہوں گے اتنے ہی فائدہ مند ہوں گے۔ ایپسٹین فائل سے وہ یہ فائدے اٹھا رہے ہیں۔
ابراہیمی ایکارڈ درحقیقت سب دیگر مذاہب کی اسلام کے مقابلے میں شکست ہے۔ مردہ مذاہب اسلام کے ساتھ جڑ کر خود کو زندہ ثابت کرنے کی ناکام کوش کر رہے ہیں۔ قریش مکہ نے نبی کریم ﷺ سے درخواست کی: “ہمارے بتوں پر صرف ہاتھ رکھ دیں”۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الکافرون نازل کر کے اس طرح کے تمام “ابراہیمی معاہدوں” سے روک دیا۔ اس معاہدے کے تحت مسجد، سناگاگ اور چرچ ساتھ ہوں گے۔اس معاہدے کے سیاسی پہلو دیکھے جائیں تو اس معاہدے کے بعد یہودی جہاں چاہیں مظالم ڈھائیں، معاہدے والے ممالک ایسے خاموش رہیں گے جیسے مصر، یو اے ای وغیرہ غزہ پر خاموش ہیں۔ اس معاہدے سے اسرائیل خود بخود تسلیم ہو جائے گا۔
جب یہ معاہدہ لکھا گیا اس وقت حالات مختلف تھے، اب حالات یکسر مختلف ہیں۔ ماہرین حیران ہیں کہ امریکہ-اسرائیل کی شکست کے بعد اس معاہدے کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ کیا ٹرمپ کا یہ دماغی مسئلہ ہے، یا یہ کوئی لیک – جیسے پانامہ لیک – سے پہلے کی کوئی وارننگ ہے؟ برصغیر میں جلال الدین اکبر نے جب “دینِ الٰہی” جو کہ مذہبی طور پر ابراہیمی ایکارڈ ہی تھا، کا آغاز کرنا چاہا تو مجدد الف ثانیؒ نے فرمایا: “سنت کی پیروی کریں”۔ شناخت جب محمد رسول اللہ ﷺ والی ہو گی تو یہ یک رنگی خود ختم ہو جائے گی اور مسلمان ہندو اور سکھوں سے ممتاز نظر آئیں گے۔
یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم مسلمانوں میں اتحاد پیدا کریں اور اللہ اور رسولوں سے معاہدے توڑنے والی قوم یہود کے چنگل سے بچیں۔ ورنہ حکومتوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ “بنیانٌ مرصوص” والی قوم اپنے عقیدے اور نظریے کے لیے بھی “بنیانٌ مرصوص” ہی ثابت ہو گی۔



تبصرہ لکھیے