ہوم << جمہوریت اور قیادت ترقی کی ضمانت - سلمان احمد قریشی

جمہوریت اور قیادت ترقی کی ضمانت - سلمان احمد قریشی

جمہوریت ایک بہترین طرزِ حکومت ہے، اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک پر نظر ڈالیں تو زیادہ تر جمہوری نظر آتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ چین اور روس جیسے ممالک بھی عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتے ہیں، حالانکہ ان کا جمہوری نظام مغربی معیارات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا محض جمہوری عمل ہی ترقی کی ضمانت ہے یا قیادت کا کردار اور سیاسی رہنماؤں کا رویہ بھی اتنا ہی اہم ہے؟

پاکستان میں جمہوریت اور جمہوری عمل پر نظر ڈالیں تو آئین موجود ہے، سیاسی جماعتیں بھی سرگرم ہیں اور انتخابات کا تسلسل بھی برقرار رہا ہے، لیکن مکمل جمہوری نظام ابھی تک نہیں پنپ سکا۔ اس کی ایک بڑی وجہ شخصیت پرستی اور خاندانی سیاست پر مبنی طرزِ فکر ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری جدوجہد، ان کی قربانیاں اور ان کی جماعت کا کردار تاریخ کا ناقابلِ فراموش باب ہیں۔ ان کی عدالتی بحالی کے باوجود آج بھی ان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔

پاکستانی سیاست میں مخالفین پر الزام تراشی اور تنقید کے ذریعے اپنی جگہ بنانے کا رجحان عام ہے۔ تنقید اور پروپیگنڈے میں واضح فرق ہوتا ہے، مگر بدقسمتی سے یہاں یہ فرق مٹ چکا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ وہ پاکستان کے پہلے منتخب وزیرِاعظم تھے، جنہوں نے ملک کو متفقہ آئین دیا، بیرونِ ملک روزگار کے مواقع پیدا کیے، اسٹیل ملز قائم کیں، زرعی اصلاحات کیں اور ہر شعبے میں انقلابی اقدامات کیے۔ دفاعی اور خارجہ پالیسی کے میدان میں ان کے فیصلے آج بھی پاکستان کے استحکام کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔

اس کے باوجود بھٹو پر تنقید کا سلسلہ آج بھی جاری ہے، کیونکہ ان کی مقبولیت کو کم کیے بغیر کچھ سیاست دان اپنی جگہ نہیں بنا سکتے۔ شیخ مجیب الرحمٰن کے چھ نکات کی بنیاد پر ملک کی تقسیم کا الزام بھٹو پر لگایا جاتا ہے، حالانکہ وہ اس وقت اقتدار میں نہیں تھے اور ان کے پاس کوئی ایسی طاقت نہیں تھی کہ وہ مجیب الرحمٰن کے مینڈیٹ کو رد کر سکتے۔ اصل فیصلے طاقت کے مراکز میں ہوئے، مگر الزام بھٹو پر لگا کر انہیں متنازع بنایا گیا۔

اگر بھٹو کے بعد کوئی حقیقی عوامی لیڈر سامنے آتا تو شاید پاکستان ترقی کے سفر پر گامزن رہتا اور جمہوریت مستحکم ہوتی، مگر ایسا نہ ہوسکا۔ بھٹو وہ لیڈر تھے جو قومی مفاد کے لیے قید و بند کے باوجود بھی مخالفین کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہوتے۔ جب ایوب خان نے گول میز کانفرنس بلائی، تو بھٹو نے صرف ایک شرط رکھی کہ جیل میں قید مجیب الرحمٰن کو بھی مدعو کیا جائے۔ ایوب خان نے یہ شرط مان لی، اور 26 فروری 1969 کو یہ کانفرنس منعقد ہوئی، مگر چند دن بعد یحییٰ خان نے مارشل لا لگا کر جمہوری عمل کو سبوتاژ کر دیا۔

بدقسمتی سے پاکستان میں جمہوری سیاست کے بجائے شخصیات کو نشانہ بنانے کی روایت عام رہی۔ میاں نواز شریف اور عمران خان کی سیاست میں بھی سب سے بڑا ہدف بھٹو ہی رہے، جبکہ آمرانہ ادوار کے ذمہ دار ایوب خان، یحییٰ خان اور ضیاءالحق کو نظرانداز کیا جاتا رہا۔ اس سیاسی طرزِ عمل میں پاکستان کی ترقی نہیں بلکہ ذاتی اقتدار کی جستجو نمایاں رہی۔

موجودہ سیاسی حالات میں بلاول بھٹو زرداری نے درست کہا کہ قومی مسائل پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ اپوزیشن اور حکومت کو تنگ نظری کی سیاست ترک کرکے عوام کے حقیقی مسائل پر توجہ دینی ہوگی۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ سیاسی انتقام کے بجائے قومی ایشوز پر یکجہتی کی ضرورت ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ ہو یا معیشت کی بحالی، تمام جماعتوں کو اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کے لیے کام کرنا ہوگا۔

ذوالفقار علی بھٹو کے جمہوری طرزِ عمل اور خدمات کو دیکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ وہ قومی ایشوز پر بدترین مخالفین کو بھی مذاکرات کی میز پر لانے کا فن جانتے تھے اور قومی اتفاق رائے کو ہمیشہ مقدم رکھتے تھے۔ مفاہمت ہی سیاست کا اصل جوہر ہے، اور مفاہمت اصولوں پر سمجھوتے کا نام نہیں بلکہ بہتر راستہ نکالنے کی صلاحیت کا اظہار ہے۔ انتشار اور تقسیم کسی حقیقی لیڈر کا شیوہ نہیں ہوتا، بلکہ ایک اچھا لیڈر اختلافِ رائے کو ایک حد میں رکھتے ہوئے ذاتیات اور شخصیات کو سیاست کا محور بنانے سے گریز کرتا ہے۔ پاکستان کی سیاست کو ذاتیات کے دائرے سے نکال کر حقیقی عوامی خدمت کی طرف لانے کی ضرورت ہے۔ اگر سیاستدان قومی مفاد کو مقدم رکھیں، تو جمہوریت مضبوط ہوگی اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

Comments

Avatar photo

سلمان احمد قریشی

سلمان احمد قریشی اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی، کالم نگار، مصنف اور تجزیہ نگار ہیں۔ تین دہائیوں سے صحافت کے میدان میں سرگرم ہیں۔ 25 برس سے "اوکاڑہ ٹاک" کے نام سے اخبار شائع کر رہے ہیں۔ نہ صرف حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رکھتے ہیں بلکہ اپنے تجربے و بصیرت سے سماجی و سیاسی امور پر منفرد زاویہ پیش کرکے قارئین کو نئی فکر سے روشناس کراتے ہیں۔ تحقیق، تجزیے اور فکر انگیز مباحث پر مبنی چار کتب شائع ہو چکی ہیں

Click here to post a comment