ابو تراب! اگرچہ میں سخن سرائے خام ہوں
پہ تجھ سے ہم کلام ہوں
کہ میرے دل کو تجھ سے ہے ازل سے ایک واسطہ
وہ واسطہ جو ڈالیوں کو شبنمِ سحر سے ہے
مسافروں کو دو پہر میں سایۂ شجر سے ہے
دعائے بے اثر کو جو وسیلۂ اثر سے ہے
جو ناتواں مریض کو نگاہِ چارہ گر سے ہے
ابو تراب! اسی لیے
تری سماعتوں کی نذْر دل کی سب حکایتیں
کہ جیسے اک پسَر سنائے باپ کو شکایتیں
ابو تراب! زندگی
خرابۂ زمان کی مسافتوں کے طول پہ
شکستہ پا کھڑی ہوئی ہے کوفۂ وجود میں
اسے محیط ہو گئے ہیں سب دمشق و کربلا
غبارِ کرب نے تمام راستوں کو ڈھک دیا
سبھی نقوش اور نشان رزقِ گرد ہو گئے
ابو تراب! آئینوں کو دھند نے نگل لیا
ابو تراب! المیہ
کہاں تلک بیاں کریں
کہ اب ہماری بستیوں پہ مقتلوں کا ہے گماں
قبائے جاں کے چاک کی رفو گری کہیں نہیں
لہو سے داغ داغ ہے تمام قوم کی جبیں
اذیتِ مُدام اپنی روح کا لباس ہے
ابو تراب! مختصر، کہ دل بہت اداس ہے
ابو تراب! آرزو کی تشنگی عجیب ہے
کشاں کشاں یہ کھینچتی ہے اس سراب کی طرف
جہاں تمازتیں مکیں ہیں اور مراد کی نمی کی ایک بوند بھی نہیں
جہاں کے سنگ و خار ہیں مرے قدم کے آشنا
کہ مدتوں پھرا کیا ہوں میں یہاں برَہْنہ پا
پر اب تھکن سے چور ہوں
دیارِ ''جاں'' سے دور ہوں
ابو تراب! بندگی
تری جبین کی ضیا
تو صبر و عدل و علم کا جلیل ماہتاب ہے
مجھے بھی تیری سیرت و عمل سے روشنی ملے
ترے یقیں کے نور سے مرا چراغِ دل جلے
تو اے کہ حکمتِ رسولِ پاک تیری راہبر
میں مدتِ دراز سے دھرا ہوا ہوں چاک پر
ابو تراب! اک نگاہ میری مشتِ خاک پر
سیدنا مولا علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم سے والہانہ عقیدت کا نہایت دل نشین انداز
کلام میں روانی ، الفاظ کا باکمال انتخاب اور جذبات کا حسین اظہار
بار بار پڑھنے کو جی چاہتا ہے
ابو تراب مختصر کہ دل بہت اداس ہے
سبحان اللہ سبحان اللہ