ہوم << پاکستان کی بقا اسلام میں ہے - محمد عتیق الرحمٰن

پاکستان کی بقا اسلام میں ہے - محمد عتیق الرحمٰن

عتیق الرحمن سیکولرازم سے مراد دنیاوی امور سے مذہب اور مذہبی تصورات کی علیحدگی ہے ۔1851ء میں برطانوی لکھاری نے اس اصطلاح کو استعمال کیا تھا اور اصل میں یہ چرچ اور سیاست کو الگ کرنے کے لیے استعمال کی گئی تھی۔ پاکستان جس کی بنیادوں میں اسلام کے نام لیوائوں کا خون شامل ہے، ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سیکولرازم، لبرل ازم اور اس طرح کے دیگر نظریات کے نام پر لادینیت کو پروان چڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ میڈیا کا اس میں سب سے اہم کردار ہے۔ اسلام میں عورت کے حقوق کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ان کو پورا کرنے کا بھی حکم دیتا ہے، لیکن میڈیا نے عورت کو نام نہاد آزادی کے بہانے اشتہاری سائن بورڈ بنا کر رکھ دیا ہے۔ ڈراموں میں اسلامی قوانین کا کھلے عام مذاق اڑایا جاتا ہے اور جواب یہ دیا جاتا ہے کہ معاشرے میں جو ہوتا ہے وہی میڈیا دکھاتا ہے۔ بات اس کے الٹ ہے کہ اصل میں میڈیا جو دکھا رہاہے، معاشرہ بھی آہستہ آہستہ اسے اپنا رہا ہے۔ کوئی ڈرامہ، کوئی اشتہار اور کوئی پروگرام ایسانہیں جس میں کسی نہ کسی طرح سے معاشرے کو اسلامی و معاشرتی روایات کو توڑنے کی دعوت نہ دی جا رہی ہو ۔شوہر بیوی کے تعلقات، ماں، بہن اور بیٹی سے رشتہ، بیٹی کا باپ کے سامنے اکڑ کر کھڑے ہوجانا، اسے نیچا دکھانا اس وقت پسندیدہ موضوعات ہیں۔ ڈراموں میں نکاح، طلاق اور خلع جیسے نازک معاملات کو زیر بحث لا کر عوام کے ذہنوں میں یہ باور کروایا جاتا ہے کہ ان کی وجہ سے معاشرہ ترقی کی طرف گامزن نہیں ہو پا رہا۔ غیرت کے نام پر قتل کی اجازت اسلام بالکل بھی نہیں دیتا اسے اسلام کے ساتھ نتھی کردیاجاتا ہے اور باور کروایاجاتا ہے کہ اس طرح کے نظریات مولویوں نے داخل کیے ہیں تاکہ اسلام کے نام پر من مانی کی جاسکے۔
پاکستانی میڈیا میں اگر سیکولر نظریات کے حاملین کی تعداد زیادہ ہے تو کچھ ایسی شخصیات بھی موجود ہیں جو اسلامی نظریات کی حفاظت کے لیے کمربستہ ہیں اور سیکولرازم، لبرل ازم اور دیگر اسلام مخالف نظریات کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ جیسے اوریا مقبول جان صاحب کی بعض باتوں سے اختلاف رکھنے کے باوجود ان کی سیکولرازم کے خلاف جاری جدوجہد قابل تحسین ہے۔ مختلف انتظامی عہدوں پر رہنے والے اوریا مقبول جان کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے بانی پاکستان محمد علی جناح ؒکو سیکولر ثابت کرنے کے بجائے ایک اسلام پسند قائد ثابت کیا ہے اور پاکستان کو ایک سیکولر ریاست کا خواب دیکھنے والوں کو سبق دیا ہے کہ اسلام کے نام لیوا اگرپاکستان بنا سکتے ہیں تو اس کی حفاظت کرنا بھی جانتے ہیں۔ اسی طرح انصار عباسی، عامر خاکوانی اور دیگر اسلام پسند آوازیں میڈیا میں موجود ہیں اور اپنا کردار ادا کر رہی ہیں.
جہاں سیکولرازم، لبرل ازم اور اسلام مخالفین کو بیرونی ممالک سے ایڈ ملتی ہو اور ان کی بے شمار این جی اوز مختلف نامو ں سے پیسے بٹورنے میں مصروف عمل ہوں، وہاں ایسی شخصیات کو کیسے برداشت کرسکتی ہیں جو ان کے نظریات پر کاری وار کرکے نوجوان نسل کی تربیت اور انھیں اسلام سے محبت سکھا رہے ہوں. پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے جس کی بنیادوں میں اسلام سے محبت کرنے والوں کے لاشے، مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمتیں ہیں، جنہوں نے ایک ایسے ملک کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردیا تھا جس میں اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی آزادی ہوگی اور اسلامی نظام کا بول بالا ہوگا۔ شروع دن سے سازشوں کا شکار پاکستان اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے تو نوجوان نسل کو اسلامی نظریات کی حفاظت کے لیے آگے بڑھ کر کچھ کرنا ہوگا۔ ہم سب کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان کی بقا اسلام میں پوشیدہ ہے۔

Comments

Click here to post a comment