اس مسئلہ کا سب سے بڑا ذمہ دار کوئی مولوی اور پروفیسر نہیں بلکہ باطل اور خراب نظام ہے. جب تک کسی طرح سے یہ نظام درست نہیں ہوتا ہے، مولوی و پروفیسر کا درست ہونا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔
جرم کی ضروریات
کچھ عرصہ پہلے میں نے [english] Fraud Triangle Theory [/english]کا ذکر کیا تھا جس کے مطابق کسی بھی فراڈ یا جرم کے لیے انسان میں تین چیزوں کا مل جانا ضروری ہے۔پہلے جرم کی ترغیب یعنی [english]Motivation [/english] کا ہونا پھر جرم کا موقع مل جانا اور پھر جرم کے لیے اپنے ضمیر کو راضی کرنا۔ جب یہ تینوں چیزیں ایک فرد میں جمع ہو جائیں، یعنی کہ اس کو ضرورت ہے، اس کے پاس موقع ہے اور اس نے ضمیر کو راضی کر لیا ہے تو ہی وہ جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔
ہم اس کو ضرورت، نظام اور نظریہ کا مثلث بھی کہہ سکتے ہیں اور اس کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں۔
کسی چیز کی [english]Motivation [/english](ضرورت)
پہلی چیز کا تعلق فرد کی ضرورت سے ہیں۔ اب وہ ضرورت اس کی بنیادی ضرورت بھی ہو سکتی ہے جو صحیح طریقہ سے پوری نہیں ہو رہی ہے اور یہ کوئی لگژری ضرورت بھی ہو سکتی ہے جس کا فرد کو لالچ ہیں۔
کسی چیز کی[english]Opportunity[/english] (نظام)
دوسری چیز یعنی موقع کا تعلق کسی ملک یا آرگنائزیشن کے نظام سے ہیں۔ اگر ایک فرد مجرمانہ ذہنیت رکھتا ہے لیکن کسی نظام میں اس کو اظہار کا موقع نہیں ملتا ہے تو وہ کوئی مسئلہ نہیں بنا سکتا ہے سو نظام بھی اس میں کسی نہ کسی درجے ملوث ہوتا ہے۔
ضمیر کو راضی کرنا[english] Rationalization[/english] (نظریات)
تیسری چیز یعنی ضمیر کو سلانے کا تعلق فرد کے نظریات کے ساتھ ہے۔ اگر فرد کا نظریہ بہتر ہے تو وہ اس کو جرم سے بہت حد تک روکے رکھے گا لیکن اگر اس کے نظریات میں دم خم نہیں ہے تو وہ ضرورت کے حصول کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔
�
ضرورت کی یقینی فتح
ایک اہم نکتہ یہ سمجھ لیں کہ اگر فرد کی بنیادی ضروریات پوری نہیں ہے تو دنیا کا کوئی نظریہ بھی اس میں مجرمانہ ذہنیت کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں کر سکتا ہے اور وہ ایک [english]Potential[/english] مجرم ہی ہے جسے موقع کی تلاش ہے وگرنہ اس کا نظریہ اس کو نہیں روک سکتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کا نظریہ بہت ہی زیادہ [english]rare[/english] کیسز میں اس کو روکے گا ورنہ زیادہ سے زیادہ وہ شاید اس کے جرم کی نوعیت کو ہی تھوڑا سا کم کر لیں لیکن اس کو روک نہیں سکتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ بنیادی ضروریات تک سے محرومی فرد کے جرم میں شدت بھی پیدا کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کے ماں باپ گھر میں سخت بیمار پڑے ہیں اور آپ کو کسی طرح ناجائز دولت مل سکتی ہے تو اس بات کا امکان بہت زیادہ ہے کہ آپ اپنے نظریہ کے خلاف جا کر بھی اس کو قبول کریں گے۔
نظریات بمقابلہ ضروریات
نظریہ کی پختگی کا اصل پتہ بنیادی ضروریات سے محروم ہونے کی صورت میں نہیں چلتا ہے بلکہ لگژری ضروریات کے لیے جرائم کی شرح سے اس بات کا پتہ چلتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ کو ناجائز طریقے سے موٹر گاڑی مل رہی ہے تو اب آپ کے نظریات اور آپ کی اس لگژری میں آپ کس کو منتخب کریں گے؟ اس صورت میں آپ کے نظریات جرم پر ضرور اثرانداز ہوتے ہیں۔
نظام کا کردار
یہ بھی یاد رہے کہ کسی نظریہ کو باقیوں سے بہتر یا خراب ثابت کرنے کے لیے اس سے جڑے کسی ایک فرد کا جرم کر لینا کافی نہیں ہے کیونکہ وہ اس نظریہ کا منافق یا بنیادی ضروریات سے بھی محروم شخص ہو سکتا ہے بلکہ ایسا ثابت کرنے کے لیے اس نظریہ کے اکثریتی ماننے والوں کا عام حالات (بنیادی ضروریات مکمل) میں اس جرم کے حوالے سے رویہ دیکھنا ہوگا۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ کسی ایسے کنٹرول جگہ میں کرنا ہوگا جہاں پر قانون یعنی نظام بھی اپنا کام صحیح سے کرتا ہے۔ اگر قانون یعنی نظام صحیح سے کام نہیں کر رہا ہے تو یہ بھی ایک معاشرتی محرومی ہی ہے جو نظریات پر اثرانداز ہو سکتی ہے اور آپ کو نظریہ بمقابلہ ضرورت کے کیس میں غلط نتائج تک پہنچا سکتی ہے۔
ایک جگہ گناہ ایک جگہ کچھ نہیں
باقی یہ بھی ممکن ہے کہ ایک نظریہ کسی چیز کو جرم ہی تسلیم نہ کریں تو اس نظریہ کے ماننے والوں میں اس چیز کا امکان بہت زیادہ ہو سکتا ہے جو شاید دوسرے نظریہ کے شخص کے لیے جرم ہے۔ مثال کے طور پر لبرل نظام میں زنا بالرضا کوئی بری بات یا جرم نہیں ہے سو لبرلز کے اندر اس کا زیادہ پایا جانا ممکن ہے۔ یاد رہے کہ میں ہرگز یہ نہیں کہ رہا ہوں کہ سارے لبرل ایسا کرتے ہیں۔ میں صرف یہ کہ رہا ہوں کہ چونکہ ان کے نظام میں یہ بات غلط ہی تصور نہیں ہوتی ہے تو ان کا اس کام میں ملوث ہونا زیادہ ممکن ہے کیونکہ ان کے نزدیک یہ بات غلط نہیں ہے۔
اب اس حوالے سے جنسی جذبات کو دیکھتے ہیں.
بنیادی جنسی جذبات
بنیادی جنسی جذبات وہ والے جذبات ہے جو ہر شخص میں ہی پیدا ہوتے ہیں اور جس کا پیدا ہونا ضروری اور ہمارے نوع کے بقاء کے لیے اہم ہے اور اسی سے کاروان زندگی رواں دواں ہے۔ اس کو پورا کرنے کا صدیوں سے انسان میں شادی کا طریقہ رائج ہے۔
لگژری جنسی جذبات
یہ وہ جنسی جذبات ہے جو ہمارے نوع کی بقاء کے لیے زیادہ اہم نہیں ہے اور نہ ہی ہم انسان اخلاقی طور پر ان چیزوں کو پسند کرتے ہیں اور نہ ہی یہ انسانوں کے شایان شان ہے بلکہ یہ جنسی پراگندگی ہے جو[english] Sexualized [/english]میڈیا اور پورن کی وجہ سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ان میں تھری سم، گینگ بینگ اور اورجی جیسے گندی چیزیں شامل ہے۔ اس کو پورا کرنے کا اخلاقی طریقہ موجود نہیں ہے کیونکہ یہ جذبات اپنے اندر ہی اخلاقی پہلوؤں کو نہیں رکھتے ہیں بلکہ یہ فی نفسہ ہی غیر اخلاقی چیزیں ہے۔
مغربی ممالک اور بنیادی جنسی ضروریات
مغربی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سمیت امریکہ وغیرہ میں شادیاں عموماً کم اور دیر سے کی جاتی ہے۔ دیر سے شادیاں اگرچہ وہاں کے خاندانی نظام میں مسائل کو ضرور پیدا کر سکتی ہے اور کر بھی رہی ہے لیکن وہ وہاں کے افراد کی جنسی آسودگی پر زیادہ اثرانداز نہیں ہوتی ہے۔ ایسا اس لیے ہیں کیونکہ وہاں شادی سے پہلے بھی فریقین کی مرضی سے جنسی تعلقات قائم کرنے کو برا تصور نہیں کیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے وہاں شادی چاہے جس عمر میں بھی ہوتی ہے لیکن وہاں کی اکثریت آبادی بشمول مرد اور عورت 18 سال سے پہلے ہی اپنی [english]Virginity[/english] یعنی کہ باکرہ پن اور کنوارگی ختم کر دیتے ہیں اور جنسی تعلقات استوار کر لیتے ہیں۔
مغربی ممالک اور لگژری جنسی ضروریات
مغربی ممالک سمیت امریکہ میں لگژری جنسی ضروریات کے بھرپور طور پر پورا کرنے کے لیے بھی قانونی طریقہ موجود ہے۔ اس وجہ سے وہاں پر [english]Sexualized[/english] میڈیا اور پورن کا اگرچہ معاشرتی نقصان تو ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہاں ریپ اور جنسی تشدد کی شرح ہمارے ملک سے کئی گنا زیادہ ہے لیکن وہ افراد کی جنسی آسودگی پر زیادہ منفی اثرات نہیں ڈالتا ہے کیونکہ ان کو ہر قسم کی جنسی عیاشی کے پورا کرنے کے لیے مختلف [english]Clubs[/english] میں ہر وہ چیز میسر رہتی ہے جو پورن میں ان کو دکھائی جاتی ہے۔ اس لیے وہاں افراد میں جنسی گھٹن ہمارے افراد کے مقابلے میں کم ہی ہوتی ہے اور وہ ہر وقت ہی جنسی جذبات سے مغلوب نہیں ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ [english]Sexualized[/english] میڈیا اور پورن کی وجہ سے اگر ان میں جنسی لحاظ سے [english]Kink[/english] جذبات پیدا بھی ہو جاتے ہیں تو اس کو ختم کرنے کا سامان وہاں بہم موجود ہوتا ہے اور وہ “فرد” کے دماغ میں زیادہ خلل پیدا نہیں کرتے ہیں۔
پاکستانی معاشرہ اور بنیادی جنسی ضروریات
پاکستانی معاشرے میں بنیادی اور ضروری جنسی جذبات کو ٹھنڈا یا ختم کرنے کا کوئی بھی اخلاقی یا قانونی راستہ موجود نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ایک طرف مغرب کی طرح ہی دیر سے شادیاں کرنے لگے ہیں اور دوسری طرف ہم اسلامی روایات کی وجہ سے شادی سے پہلے کسی لڑکا اور لڑکی کے ہر قسم کے جنسی تعلق کو بھی حرام اور جرم ہی سمجھتے ہیں۔ ان دونوں باہم متضاد باتوں کو قبول کرنے کی وجہ سے 16 اور 28 سال کے درمیان 12 سال میں کسی پاکستانی مرد یا عورت کے پاس جائز، قابل قبول، اخلاقی یا کوئی بھی ایسا قانونی طریقہ نہیں ہے جس سے وہ اپنے بنیادی اور ضروری جنسی جذبات کا خاتمہ کر سکیں اور اسے ٹھنڈا کر سکیں۔ یاد رہے یہ 12 سال ہی جنسی لحاظ سے سب سے ایکٹو عمر کے سال ہے۔ اس سے پہلے کی عمر میں انسان بچہ اور بعد میں انسان بوڑھا ہی تصور ہوتا ہے (جنسی لحاظ سے)
پاکستانی معاشرہ اور لگژری جنسی ضروریات
جب پاکستانی معاشرے میں بنیادی جنسی ضروریات تک کا کوئی باقاعدہ اور قانونی طریقہ موجود نہیں ہے تو لگژری جنسی ضروریات کا کوئی انتظام کیسے ہو سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا بھی موجود نہیں ہے اور پاکستان میں لگژری جنسی ضروریات کو پیدا کرنے کا مٹیریل (پورن اور جنسی میڈیا) تو بہم موجود ہے لیکن ان ضروریات کو پورا کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔
تاریخی پس منظر
ہماری اسلامی اور مشرقی دونوں روایات میں نوجوان مرد اور عورت کی جلدی سے جلدی شادی کا رواج عام تھا اور اسے پسندیدہ تصور کیا جاتا تھا۔ یورپی اور امریکی ممالک میں جس عمر میں ایک عام مرد یا عورت اپنی کنوارگی کو ختم کرتا/کرتی ہے ہماری روایت میں اس عمر میں مرد یا عورت کی شادی کرا دی جاتی تھی جس وجہ سے بنیادی جنسی ضروریات کا ہمارے علاقوں میں اخلاقی اور قانونی انتظام موجود تھا لیکن اب یہ نظام محض چند ریموٹ علاقوں میں ہی رہ گیا ہے۔جدیدیت کی آمد نے ہمیں یہ باور کروایا کہ جلدی شادی مرد و عورت کے تعلیم اور کیریئر میں ایک رکاوٹ ہے سو ہم نے اس دقیانوسی روایت سے جان چھڑا لی اور اب ہمارے ہاں بھی جلدی کے بجائے دیر سے شادی کرنے کا رواج اپنی جڑ پکڑ چکا ہے۔
جدیدیت اور اسلام کا [english]Dilemma[/english] اور پاکستان
ہم نے جدیدیت کی اس بات کو تو قبول کر لیا ہے کہ شادی تعلیم اور کیریئر میں رکاوٹ ہے لیکن جدیدیت کی اس بات کو قبول نہیں کر رہے ہیں کہ جنسی جذبات کو ٹھنڈا یا ختم کرنے کے لیے مرد یا عورت کا شادی کے بغیر اپنی مرضی سے جنسی تعلق قائم رکھنا درست اور اچھا عمل ہے۔ مغرب نے جدیدیت کی دونوں باتوں کو ہی قبول کیا ہے اور اس وجہ سے وہاں جنسی گھٹن ختم ہو گئی ہے لیکن ہم نے جدیدیت کی ایک بات کو تو قبول کر لیا ہے لیکن دوسری بات قبول کرتے وقت ہمیں غیرت عزت اور مشرقی روایات یاد آ جاتے ہے اور ہم اسے نہیں مان رہے ہیں۔
ہم جدیدیت کی مان کر اپنے بچوں کے تعلیم اور کیریئر کی وجہ سے جلدی شادیاں نہیں کراتے ہیں لیکن ہم شادیوں کو روک کر انہیں اپنے بنیادی جنسی ضروریات کے پورا کرنے کا کوئی اخلاقی اور قانونی راستہ بھی نہیں دے رہے ہیں جس وجہ سے ہمارے پورے نظام میں ہی مسلہ پیدا ہوگیا ہے اور ہمارا نوجوان کنفیوز ہو گیا ہے کیونکہ ہم اس سے جدیدیت کی بنیاد پر بنے نظام میں دقیانوسیت پر مبنی معیار کو پورا کروانا چاہ رہے ہیں۔
پاکستانی نوجوان اور[english] Fraud Triangle[/english] پاکستانی نوجوان میں فراڈ ٹرائینگل میں بیان ہونے والی وہ دونوں چیزیں ہی پوری ہے جو کہ کسی فرد میں جرم سے پہلے ہونا ضروری ہے۔ پاکستانی نوجوان بنیادی ضرورت سے محروم ہے تو اس کے ضمیر یا نظریہ کا ضرورت سے جیت لینا بہت ہی زیادہ مشکل بلکہ تقریباً ناممکن ہے۔
ضرورت اور ضمیر کو سمجھانا (نظریہ)
جب پاکستانی نوجوانوں کے بنیادی جنسی ضروریات کے پورا ہونے میں ہی مسلہ ہے اور وہ پورا نہیں ہو رہے ہیں اور ان پر پورن اور جنسی میڈیا (ٹک ٹاک) کی طرف سے لگژری جنسی ضروریات بھی نہ صرف آ رہی ہے بلکہ اس کی بمباری ہو رہی ہے تو اب اس کا فراڈ ٹرائینگل تھیوری کا موٹیویشن یعنی ضرورت والا حصہ مکمل پورا ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ اس میں بنیادی ضرورت شامل ہے اور یہ وہ والی اہم ضرورت ہے کہ جدید نفسیات کا بانی سگمنڈ فرائیڈ اسے باقی تمام ضروریات کی ماں کہتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ جذبات ایک دم قدرتی ہے اور ایک داڑھی رکھنے والے مدرسہ کے طالب علم اور پینٹ شرٹ پہنے یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ دونوں میں ہی موجود ہے۔ باقی لگژری جنسی جذبات بھی دونوں میں موجود ہے کیونکہ دونوں کے پاس ہی موبائل اور انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے اور وہ لگژری جنسی جذبات سے بھرپور ہے۔
سو بنیادی جنسی ضروریات تک کے پورا نہ ہو جانے کی وجہ سے ایک پاکستانی نوجوان جنسی جذبات سے مکمل مغلوب ہوتا ہے اور کسی قسم کا نظریہ اس کو اب نہیں روک سکتا ہے۔ شاید 5 سے کم فیصد مضبوط لوگوں کو روک دیں لیکن اکثریت اب مغلوب ہو چکی ہے۔ اس کا ذکر میں نے پہلے کیا ہے کہ نظریہ آپ کو خالص لگژری ضروریات میں روک سکتا ہے لیکن بنیادی ضروریات میں نہیں روک سکتا ہے اور یہاں تو دونوں قسم کے ضروریات ہی آپس میں جمع ہے سو یہ تو اس کی شدید ترین حالتوں میں سے ہیں جہاں پر نظریہ کا ہار جانا تقریباً مکمل طور پر طے ہیں سو فراڈ ٹرائینگل کا دوسرا جز یعنی [english]Rationalization [/english]بھی مکمل ہو چکا ہے۔
موقع/پاکستانی نظام/ [english]Opportunity[/english] اب صرف ان کو موقع کی تلاش ہے جہاں پر وہ اپنی اس ضرورت کو پورا کر سکیں اور اب اس ذہنیت کو موقع ملتا ہے یا نہیں ملتا ہے، یہ چیز مکمل طور پر ملکی نظام پر ہی منحصر ہے۔ حیران کن طور پر ملکی نظام نوجوان کو لگژری جنسی جذبات مہیا کرنے میں تو کوئی کسر نہیں چھوڑتا ہے لیکن وہ نوجوان کے بنیادی جنسی ضروریات تک کو پورا کرنے سے مکمل طور پر قاصر ہے اور نہ ہی ان نوجوانوں کو ان جذبات کی تکمیل کے لیے کوئی بھی قانونی راستہ مہیا کرتا ہے۔
آخری امید تعلیمی درسگاہیں
اب نوجوان نظام سے مکمل طور پر مایوس ہو کر ان جگہوں میں جنسی جذبات کی تکمیل کو تلاش کرتا/کرتی ہے جو ان جذبات کی تکمیل کے لیے نہیں بنے ہیں۔
یونیورسٹیوں کی حالت
اس حوالے سے ان کے لیے سب سے بہترین جگہ یونیورسٹیز ہے جہاں ایک طرف ان کو وافر مقدار میں مخالف جنس کی موجودگی ملنے کے ساتھ ساتھ وہ مواقع بھی مل جاتے ہیں جہاں پر وہ اپنے جذبات کو تکمیل تک لے جا سکتا/سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں یونیورسٹی تعلیم کی جگہ اور درس گاہ بننے کے بجائے ان کے لیے ڈیٹنگ ہب بن جاتا ہے اور جس چیز کے ڈر سے ان کے “معصوم” والدین نے ان کی شادی کو موخر کیا ہے وہی ان کے ساتھ ہو جاتا ہے۔ وہ تعلیم اور اپنے کیریئر پر توجہ دے ہی نہیں پاتے ہیں اور اس چیز کی وجہ شادی کا ہونا نہیں ہوتی ہے بلکہ یونیورسٹی میں تعلیم اور کیریئر کے بجائے بنیادی ضروریات کی تکمیل کی کوششیں ان کے کیریئر اور تعلیم کو برباد کر دیتی ہے۔
یونیورسٹیاں یا ڈیٹنگ ہبس
اب جب یونیورسٹی درسگاہ کے بجائے ایک ڈیٹنگ ہب ہی بن جائے تو اس بہتی گنگا میں ہر ایک ہی اپنا حصہ ڈالتا ہے اور سٹوڈنٹس سے لیکر پروفیسرز تک سارے ہی اس میں ملوث ہوتے ہیں اور چونکہ یہ کوئی قانونی یا معاشرتی لحاظ سے قابلِ قبول طریقہ سے نہیں ہوتا ہے تو اس میں بلیک میلنگ سے لیکر پڑھ نہ پانے کی وجہ سے نمبروں کے لیے پروفیسرز کو خوش کرنا،جنسی بےلگامی کی وجہ سے جنسی ہراسمنٹ، سٹوڈنٹس کے آپس میں گندہ تعلقات سمیت پروفیسرز اور سٹوڈنٹس کے آپسی گندہ تعلقات تک کی ہر چیز ہی شروع ہو جاتی ہے کیونکہ سارا نظام اندرونی طور پر ہی خراب ہو چکا ہے اور یونیورسٹی کوئی تعلیمی درسگاہ رہتی ہی نہیں ہے۔ میں درجنوں طالبعلموں سے یہ بات سن چکا ہوں کہ ہم یونیورسٹی صرف مخالف جنس کے لیے ہی آتے ہیں، لڑکیوں کی پروفیسرز سے میٹھی اور یہاں تک کہ گندی گفتگو میں خود اپنے کانوں سے سن چکا ہوں۔ پروفیسرز کی بیویاں تک مختلف لڑکیوں کو میسج کر کے بولتی ہے کہ میرے شوہر کے ساتھ اتنی فری کیوں ہے۔ حد میں رہیں۔ یہ ساری باتیں وہ ہے جو ہم گنہگار آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں لیکن کہاں؟ وہ میں ہرگز نہیں بتاؤں گا 😜
مدارس کی حالت
اس طرح وہ نوجوان جو یونیورسٹیوں میں موجود نہیں ہے بلکہ مدارس میں ہے ان کا بھی بہت برا حال ہے۔ بنیادی اور ضروری جنسی جذبات ان کے بھی پورے نہیں ہوئے ہیں اور لگژری جنسی جذبات سے وہ بھی گھرے ہوئے ہیں۔ ان غریب بیچاروں کو تو مخالف جنس کی کوئی سہولت بھی موجود نہیں ہے تو یہ ان جذبات سے یونیورسٹیوں کے سٹوڈنٹ کے مقابلے میں زیادہ مغلوب ہوتے ہیں۔ یاد رہے ان میں سے بھی کچھ ہی جلدی شادیاں کر لیتے ہیں وگرنہ ان کی اکثریت کو بھی باقی معاشرہ کی طرح لیٹ شادیاں ہی کرنی پڑتی ہے۔
مدارس اور ہم جنس پرستی
بلوغت تک پہنچنے کے بعد بھی مخالف جنس کی سہولت نہ ملنے کی وجہ سے ان میں سے اکثریت اپنے جذبات کو عورت سے مرد کی جانب[english] Displace[/english] کر دیتے ہیں اور اس طرح ہم جنس پرستی میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ اس کو نفسیات میں[english]Displacement[/english] کہا جاتا ہے۔ اس کی آسان مثال یہ ہے کہ اگر آپ کے والد آپ کو پیٹ دیں تو اس سے ملنے والے منفی جذبات چونکہ آپ دوبارہ والد کی جانب ہی منتقل نہیں کر سکتے ہیں سو آپ وہ جذبات بلاوجہ یا معمولی سی وجہ پر اپنے چھوٹے بھائی کو پیٹ کر اس غریب پر نکال دیتے ہیں یعنی کہ ایک شخص کے ملے جذبات کو دوسرے پر منتقل کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ ان سب میں سے اکثریت لوگوں کی شاید یہ [english]Genuine[/english] چوائس نہیں ہوتی ہے لیکن یہ صرف مخالف جنس نہ ملنے کی وجہ سے ان میں مخصوص حالات میں پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ ایک[english] Situational feelings[/english] ہی ہوتی ہے لیکن اگر وقت پر لڑکی نہ ملی تو یہ پختہ بھی ہو سکتی ہے اور وہ ایک پراپر ہم جنس پرست بن سکتا ہے۔
مدرسہ کے طالب علم اور قاری صاحبان کا ان بنیادی جنسی جذبات اور لگژری جنسی جذبات کے ملاپ اور اس کے تکمیل نہ ہونے کی وجہ سے ہم جنس پرستی پر مبنی مختلف قسم کے جنسی سکینڈلز میں ملوث پایا جانا ایک دم ہی ممکن ہے کیونکہ بنیادی ضروریات کی تکمیل میں اچھے سے اچھا نظریہ بھی کسی کو نہیں روک سکتا ہے کیونکہ ہم سب سے پہلے انسان ہے۔
اب اگر کوئی شخص قرآن کریم جیسی کتاب پڑھاتے وقت یا مقدس جگہ پر کسی قسم کے جنسی جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ بہت زیادہ بولڈ بن جاتا ہے۔ شروع میں اس کو بہت زیادہ دماغی خلل محسوس ہوگا لیکن اگر وہ اس کا عادی ہو گیا تو پھر وہ درندہ بن جاتا ہے کیونکہ اس کے ذہن میں اب مقدسات کی تکریم بھی ختم ہو چکی ہے۔ ایسے ظالم انسان سے ہر حد تک گرنا [english]Expected ہ[/english]ے اور اس قسم کا شخص یونیورسٹی کے بدترین انسانوں سے بھی لاکھوں گنا بدتر ہے کیونکہ اس نے مذہبی مقدسات کی تکریم کا خیال بھی نہیں رکھا ہے۔ یاد رہے کہ ایسا شخص اگر یونیورسٹی میں ہوتا تو لڑکیوں کی تباہی مچاتا لیکن چونکہ یونیورسٹی میں نہیں ہے تو اسے دستیاب ہی صرف لڑکے ہیں۔
مدارس و یونیورسٹی اور آخری نتیجہ
ہمارے ہاں یونیورسٹیوں میں جنسی جرائم کے سکینڈلز مدارس کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں لیکن مدارس میں جو بھی جنسی سکینڈلز ہوتے ہیں وہ یونیورسٹیوں سے کئی گنا زیادہ بدتر ہوتے ہیں کیونکہ وہ مقدسات کے ماحول کے اندر ہوئے ہوتے ہیں اور ایسا شخص جو کہ مقدسات کی تکریم کا خیال بھی نہیں رکھتا ہے وہ تقریباً درندہ بن چکا ہوتا ہے۔
حل کیا ہے
دیکھیں اس مسئلہ کے ممکنہ طور پر دو ہی حل ہے۔ اسلام اور جدیدیت اس معاملے میں اکٹھا نہیں چل سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک کو چھوڑنا لازمی ہے۔
غیر اسلامی اور مغربی حل
پہلا حل وہی والا ہے جو مغرب اور امریکہ نے اپنایا ہے یعنی کہ عوام کو مکمل جنسی آزادی[english] Sexual Freedom[/english] دے دی جائے اور ہر قسم کے جنسی معاملات کو قانون کے دائرہ میں لا کر عوام کو ان سے سہولت اٹھانے کی مکمل اجازت دے دی جائیں تاکہ اس واسطے سے جنسی گھٹن کا خاتمہ کیا جا سکیں۔ اس طرح کرنے سے عوام کی بنیادی جنسی ضروریات اور لگژری جنسی ضروریات دونوں کا ہی اہتمام ہو جائے گا لیکن اس طرح کرنے سے آپ کو اسلام اور اپنی تمام مشرقی روایات کو قربان کرنا پڑے گا کیونکہ وہ اس نظام کے ساتھ کسی صورت بھی[english] Compatible[/english] نہیں ہے۔
مغربی حل کے مشرقی اور انسانی نقصانات
میں اس چیز کو درست نہیں سمجھتا ہوں کیونکہ اس غلط اپروچ کی وجہ سے وہاں جنسی بیماریاں اور ذہنی بیماریاں بھی عروج پر ہے اور تشدد پر مبنی [english]Content[/english] دیکھنے اور عام ہونے کی وجہ سے وہاں جنسی جرائم بھی باقی دنیا سے کئی گنا زیادہ ہے۔ امریکہ میں پاکستان کے مقابلے میں تقریباً 17 گنا زیادہ اور یورپ میں پاکستان کے مقابلے میں تقریباً 53 گنا زیادہ ریپ ہوتا ہے۔ اگر ہم پاکستان میں 10 گنا کم رپورٹنگ بھی مان لیں (حالانکہ ایسا حقیقت میں نہیں ہے) تو اس کے باوجود بھی یہ پاکستان سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اصولی طور پر ان کو پاکستان سے بہت کم ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہے تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ [english]law and order کا ہونا اس مسئلہ کا حل نہیں ہے کیونکہ ان میں یہ ممالک ٹاپ پر ہے بلکہ اس کے لیے باقاعدہ نظام کی ضرورت ہے جو ان ممالک کے پاس موجود نہیں ہے۔ اسی طرح ذہنی مسائل اور بیماریوں میں بھی ان ممالک کے لوگوں اول صفوں میں ہی موجود ہے سو یہ ظاہر کرتا ہے کہ جنسی آزادی نے ان کو سکون نہیں دیا ہے بلکہ ان کو مزید مسائل کا شکار کر دیا ہے۔ جنسی مسائل بھی ان ممالک میں بہت ہے سو یہ ساری چیزیں ظاہر کرتی ہے کہ ان کا نظام مسائل کا حل دینے سے قاصر ہے۔
خاندانی نظام کے ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے آج امریکہ اور یورپ کے بہت سارے ممالک میں “حرامیوں” کی تعداد وہاں کی آدھی آبادی سے زیادہ ہے۔ یورپ میں آئس لینڈ میں تقریباً 70 فیصد، فرانس میں 60 فیصد ، سویڈن اور ناروے میں 55 اور 60 فیصد کے درمیان ، پرتگال اور برطانیہ میں تقریباً 50 فیصد ، سپین میں 45 فیصد، اٹلی اور جرمنی میں 35 فیصد کے آس پاس اور امریکہ میں 40 فیصد بچے “حرامی” پیدا ہوتے ہیں یعنی ان کا کمینہ باپ ان کی ماں کو ماں بنا کے چلا جاتا ہے( آئی مین بن بیاہی ماں)۔ یہ والا ڈیٹا کسی بھی صورت میں انسانیت کی کسی معراج یا انسانی تمدن اور تہذیب کے کسی بہت ہی روشن موڑ یا پہلو کی نشاندھی نہیں کرتے ہیں بلکہ یہ انسان کو جانور کے لیول پر گرا ہوا دکھاتے ہیں۔
اسلام کا حل
دوسرا حل یہ ہے کہ ہم اسلام کے مقابلے میں جدیدیت کو رد کر دیں اور اس کے نعرہ “جلدی شادی ظلم ہے” کو ختم کر کے اس کے برخلاف “جلدی شادی ضرورت ہے” کا نعرہ بلند کر دیں۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے ہیں تو پھر یا تو ہمیں مغرب کی جنسی آزادی کو قبول کرنا ہوگا اور یا موجودہ جنسی گھٹن میں ترسنا اور ذلیل ہونا ہوگا۔ اگر ہم جدیدیت کو رد کر کے اسلام کو صحیح سے اپناتے ہیں تو ہم اپنے معاشرے کے تمام افراد کی بنیادی جنسی ضروریات کو آرام سے پورا کر سکتے ہیں اور جہاں تک لگژری جنسی ضروریات کا تعلق ہے تو اس کا تو ہمارے پاس واحد چارہ اسلام ہی بچا ہے۔ اس میں تو مغرب کو آپشن بھی[english] Consider[/english] نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ تمام تر سہولیات اور قانون سازی کے باوجود مغرب اس کو کنٹرول کرنے میں فیل ہے اور جنسی تشدد کے واقعات میں آج بھی مغربی ممالک سرفہرست ہے۔
اسلام چار سطحوں پر احکامات لاگو کر کے عملی طور پر ہی اس مسئلہ کو حل کرتا ہے۔
خاندانی سطح
اسلام کو اس بات کا ادراک ہے کہ ایک خاص عمر کو پہنچنے کے بعد جنسی جذبات خودبخود ہی پیدا ہو جاتے ہے۔ اسلیے اسلام نے حکومت کے تعاون سے والدین کی یہ زمہ داری قرار دی کہ بچے کے بالغ ہوتے ہی اسکی شادی کرا دی جائے تاکہ وہ جنسی گھٹن کا شکار نہ بنیں۔ یہ قیامت تک آنے والے ہر زمانہ کے مسلمان پر فرض ہے کہ وہ نکاح کو آسان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
حکومتی سطح
اسلام نے حکومت کی یہ بنیادی ذمہ داری قرار دی کہ جنسی جذبات بھڑکانے والی ہر چیز چاہے وہ جیسی بھی ہے اس کو ختم کیا جائے اور ان پر پابندی لگائی جائیں تاکہ وہ نوجوان کو [english]Distracted[/english] نہ کرسکیں۔ اس میں لگژری جنسی جذبات کو پیدا کرنے والی ساری کی ساری چیزیں شامل ہے جیسا کہ پورن، جنسی میڈیا، سوشل میڈیا پر فحاشی،جنسی ناول اور کہانیاں وغیرہ وغیرہ.
اسلام اس چیز پر اتنا توجہ دیتا ہے کہ مرد کے لگژری جذبات کے برخلاف اگر کوئی چیز مرد کے نارمل اور بنیادی جذبات کو بھی [english]Disproportionately[/english] برانگیختہ کرنے کی مخفی طاقت رکھتی ہے تو وہ بھی اسلامی حوالے سے ناپسندیدہ ہے جیسا کہ[english] Coeducation[/english] وغیرہ. اسلام میں فنون لطیفہ کی حرمت نہیں ہے لیکن اگر آپ کو فنون لطیفہ میں آدھی ننگی عورتوں اور جنسی جذبات کو برانگیختہ کرنے والی چیزوں کے علاوہ کسی اور خاص چیز کا نہیں پتہ تو یہ آپ کا قصور ہے۔
ذاتی سطح
فرد کے جذبات کی پراپر تکمیل اور غیر ضروری اور بے چین کر دینے والے جذبات سے اس کو بچا لینے کے بعد اسلام دعوت و تبلیغ سے لوگوں کو قائل کرتا ہے کہ نوجوان حد سے نہ بڑھیں۔ اسلام اس کے بعد پاکدامنی پر جنت کی بشارتیں دیتا ہے اور بے حیائی پر عذاب کی وعیدیں سناتا ہے۔
عدالتی سطح
اب جب فرد کی نیچرل خواہش پوری ہو رہی ہے، آس پاس کے معاشرے میں کوئی لگژری جنسی جذبات بھڑکانے کا مواد بھی موجود نہیں ہے اور داعیان اس کو سمجھا اور بشارتیں بھی سنا رہے ہیں تو اگر ان سب چیزوں کے باوجود بھی کوئی شخص اس دھڑلے سے کھلے عام گناہ کا کام کرتا ہے کہ کم سے کم چار لوگ اسکو سوئی میں دھاگہ ڈالتے ہوئے براہ راست دیکھ لیں یا وہ ریپ کر دیں تو وہ شخص معاشرے کا کینسر ہے اور کینسر کا ایک ہی علاج ہے کہ اسے ختم کر دیا جانا چاہیے۔



تبصرہ لکھیے