ہوم << کچھ تو سمجھوکچھ تو بولو - فاطمہ طاہر

کچھ تو سمجھوکچھ تو بولو - فاطمہ طاہر

Kashmiri protesters throw stones and bricks towards Indian policemen during a protest over the alleged rape and murder of two Muslim women in Srinagar June 6, 2009. Residents say the two women, aged 17 and 22, were abducted, raped and killed by security forces last Friday in Shopian town, 60 km (37 miles) south of Srinagar. Authorities denied the killing and said the women drowned. REUTERS/Danish Ismail (INDIAN-ADMINISTERED KASHMIR CONFLICT POLITICS)

فاطمہ طاہر پانی کی آواز؟؟ یہ کہاں سے آرہی ہے؟ ارے میں کہاں ہوں؟
یہ کسی درخت کی اوٹ تھی. باہر نکلی تو مسحور کن نظارہ دیکھنے کو ملا. تاحد نگاہ پانی، سرسبز و شاداب جگہ، یہ تو کوئی جھیل ہے۔ مگر جگہ جانی پہچانی لگ رہی ہے. اسی اثنا میں سامنے سے ایک بچہ نمودار ہوا. سرخ پھول سے گالوں اور سنہری بالوں والا، ایک ہاتھ میں پاکستانی جھنڈا اور دوسرے ہاتھ میں ایک غلیل لیے ہوئے۔
"میرے وطن کے حسین بچے"، میرے لبوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی، اچانک گولیوں کی آواز آئی اور فضا میں جیسے ہلچل سی مچ گئی. بچہ بھاگ کر درخت پر چڑھ گیا اور غلیل کے ذریعے گولیاں برسانے والوں پر تاک کر نشانے لگانے لگا.گولیوں کی آوازیں مسلسل آرہی تھیں، پھر ایک دھماکے کی آواز آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بچے کا جسم چیتھڑوں میں تبدیل ہو گیا. میری نگاہوں کے سامنے پرچم جلا ہوا پڑا تھا، کٹے ہوئے ہاتھ میں تھما ہوا. میں نے چیخنا چاہا، بھاگنا چاہا مگر آواز گھٹ کر رہ گئی، جسم ہلنے سے انکاری ہو گیا، یوں لگا کسی نے جکڑ لیاہے. اور پھر اسی کشمکش میں آنکھ کھل گئی.
سارا دن دماغ اسی خواب میں الجھا رہا. موبائل کھولا تو جھیل ڈل کی تصویر پر نظر پڑی. یہی تو وہ جگہ ہے جو میں نے خواب میں دیکھی تھی. اچھا تو وہ جلتی ہوئی وادی کشمیر کی تھی، وہ پرچم تھامے معصوم بچہ کشمیری تھا.
آہ ! کتنی امید سے اُس نے اس قوم کا پرچم تھام رکھا تھا جو اس کے وجود سے ہی غافل ہے. جسے ان کی مشکلات کا اندازہ و احساس ہی نہیں ہے. کیسے دکھ جھیلتی ہوں گی وہ مائیں، جن کے بچے ان کی آنکھوں کے سامنے لاشیں بن جاتے ہیں. ان کی چیخیں حلق میں گُھٹ جاتی ہیں، سسکیاں دم توڑ جاتی ہیں، اور ان کی آنکھیں کسی نجات دہندہ کے انتظار میں پتھرا گئی ہیں.
تو دیکھ کے اپنی بیٹی کو، کر یاد انہیں بھی، سوچ ذرا
کفار کی قید میں وہ بہنیں جو تجھ کو بلایا کرتی ہیں
آسیہ اندرابی کاجذبہ یہ پیغام دیتا ہے کہ جدوجہد آزادی میں خواتین بھی بھرپور کردار ادا کر سکتی ہیں، عمر رسیدہ سید علی گیلانی کا آہنی عزم نوجوانوں کی غیرت کو للکارتا ہے، کچھ تو سمجھو، کچھ تو بولو
سنو تو کاشمیر میں جبر و جور کی کہانیاں
کٹے پھٹے بڑھاپے اور جلی سڑی جوانیاں
ہیں تار تار عصمتیں، لٹی ہوئی ہیں رانیاں
سناؤں کُھل کے میں تمھیں یہ روئیداد، فرض ہے

Comments

Click here to post a comment

  • ماشاللہ اعلی تحریر ہے.کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم کی نہایت جامع انداز میں تصویر کشی کی گی ہے.حکومت وقت کو بھارت کے ساتھ اپنے لچکیلے اور نرم رویے میں نظر ثانی کی ضرورت ہے.