ذاتی طور پر میرے لیے یہ ایک نیا اور اچھا تجربہ تھا. ہم غیر مقلدین کے ہاں سچ کہوں تو فقہ و آئمہ کرام ؒپر کتاب بھی مشکل سے ہی ملے گی۔ جوں جوں ہم آگے بڑھتے گئے، امام اعظم سے امام احمد بن حنبل تک، سب سے عقیدت و محبت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ چاروں مکاتب فکر کے فقہی اصول، استنباط و استخراج کا طریقہ، سب کا ایک ہی منبع اور ایک ہی مقصد تھا. امت کی آسانی کے لیے ان عظیم اذہان نے اپنی زندگیاں وقف کر دی تھیں.
ذہن کی یہ الجھن بھی دور ہوئی کہ فقہ کتاب و سنت سے علیحدہ کوئی شے ہے بلکہ معلوم ہوا کہ یہ ہمیں تنوع دکھاتا ہے کہ قرآن و سنت میں کس قدر گہرائی ہے اور علم کے چھپے موتی ہیں جو ہمیں تلاشنے ہیں. استاد محترم کہا کرتے کہ غور کریں فقہ کہاں آپ کی روزمرہ زندگی میں آسانی پیدا کرتی ہے. ہماری سوچ تو بس عائلی معاملات تک جا کر جامد ہوجایا کرتی تھی، اس وقت خیر اتنے سنجیدہ تھے بھی نہیں کہ دنیا کی دوسری چیزیں زیادہ دلفریب محسوس ہوتیں تھیں۔
طالب علمی کا سنہرا دور ختم اور عملی زندگی میں قدم رکھے زمانہ ہوا کہ اس رمضان المبارک میں ایک چھوٹے سے واقعے نے فقہ کی پیدا کی گئی آسانی سمجھا دی۔ قریب کوئی سحری سے گھنٹہ قبل سحری کے لیے تیار سالن میں بلی صاحبہ نے پتیلے میں ہی تناول فرما لیا۔ ہم پریشان کہ کیا کریں، وقت بھی نہیں کہ کچھ اور بندوبست کیا جائے. اسی اثناء میں ذہن میں آیا کہ بلی طوافین اور طوافات میں سے ہے، اس کا روز ہمارے گھروں میں آنا جاناہے چنانچہ اس کا جھوٹاحرام نہیں. استاد صاحب کی آواز کی بازگشت سنائی دینے لگی اور گویا ذہن کی کھڑکیاں کھلنے لگیں کہ یہ تھے وہ معاملات جس پر سوچنے کا ہم سے مطالبہ کیا جاتا تھا.
نوٹ ؛ یہ حنفی مکتبہ فکر کے اصول سے استحسان کی مثال ہے۔ تفصیل کے لیے ڈاکٹر محمود احمد غازی کی کتاب ’’محاضراتِ فقہ‘‘ دیکھی جا سکتی ہے۔
فقہ اور بلی کا جھوٹا - سحر فاروق

تبصرہ لکھیے