ہوم << ورنہ ہم گئے - جاوید چوہدری

ورنہ ہم گئے - جاوید چوہدری

اسرائیل کے سائنس دانوں نے اس ہفتے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا‘ یہ ایک ایسا ائیرکنڈیشن مارکیٹ میں لے آئے ہیں جو ہر قسم کی بجلی کے بغیر چلتا ہے اور اس کے لیے کسی نوعیت کا کرنٹ درکار نہیں ہوتا‘ آپ بس بٹن آن کریں اور یہ ہوا میں موجود گیسز سے چلنا شروع کر دے گا اور آدھ گھنٹے میں کمرے کا ٹمپریچر پندرہ ڈگری نیچے لے آئے گا۔

یہ ایک حیران کن ایجاد ہے‘ اس سے قبل جون میں اسرائیل نے دیوار کے پیچھے دیکھنے کی ٹیکنالوجی لانچ کی تھی‘ آپ اس ٹیکنالوجی سے نہ صرف دیوار کے پیچھے موجود لوگوں کو دیکھ سکتے ہیں بلکہ ان کی عمر‘ سائز اور حرکات وسکنات بھی نوٹ کر سکتے ہیں۔ یہ الٹرا ساؤنڈ‘ ای سی جی یا ایم آر آئی کا جدید ترین ورژن ہے‘ اس ورژن سے انسان موٹی دیواروں کے پیچھے بھی جھانک سکے گا اور یہ ٹیکنالوجی کہاں ایجاد ہوئی؟ یہ 92 لاکھ آبادی کے اس ملک میں ہو رہی ہے جس نے پچھلے 50 برسوں میں امن نہیں دیکھا اور جس کی کل آبادی خوف میں سوتی اور دہشت میں جاگتی ہے اور جو اس وقت بھی ہائی سیکیورٹی کنٹری کہلاتا ہے لیکن یہ ملک روزانہ جی ہاں روزانہ دنیا کو کوئی نہ کوئی نئی ایجاد دے رہا ہے‘ آپ دنیا کے کسی بھی شعبے کی کوئی بھی جدید ایجاد اٹھا کر دیکھ لیں۔

آپ کو اس کے پیچھے کوئی اسرائیلی کمپنی‘ کوئی اسرائیلی لیبارٹری یا کوئی اسرائیلی سائنس دان ملے گا‘ دنیا کی پہلی الیکٹرک کار اسرائیل میں بنی ‘دنیا کا پہلا موبائل فون اسرائیل نے بنایا‘ سائبر سیکیورٹی کا جدید ترین سسٹم (فائر وال) اسرائیل نے بنایا‘ میڈیکل کی 82فیصد مشینیں اسرائیل نے ایجاد کیں‘ دنیا کی تمام بڑی آئی ٹی فرمز کا ایلگوردھم اسرائیل میں بنا‘ آئی فون کے تمام سافٹ اور ہارڈویئرز اسرائیل میں بنتے ہیں‘ اسرائیل نے 2018 میں ایسی ڈیوائس بنائی جو سونگھ کر مریض کے امراض بتا دیتی ہے۔

یہ ڈیوائس ( Sniff Phone) کہلاتی ہے‘ مفلوج لوگوں کے لیے ’’ری واک‘‘ کے نام سے مشین بنائی اور مفلوج لوگوں نے اس مشین کے ذریعے باقاعدہ چلنا پھرنا شروع کر دیا‘ کیپسول سائز کا Pill cam کیمرہ بنا دیا‘ مریض یہ کیپسول نگلتے ہیں اور کیمرہ جسم کے سارے اندرونی اعضاء کا جائزہ لے کر باہر آ جاتا ہے‘ دل کے لیے ربڑ جیسا لچک دار(Flexible) اسٹنٹ بھی بنا دیا‘ یہ ایجاد اب تک کروڑوں لوگوں کی جان بچا چکی ہے‘ دنیا کا پہلا انسٹنٹ میسنجر (آئی سی کیو) اسرائیل نے 1996 میں دیا تھا ‘ یہ ایجاد دنیا میں سوشل میڈیا کا آغاز ثابت ہوئی۔

دنیا کی پہلی یو ایس بی اسرائیل نے بنائی‘ اسرائیل نے صحرا میں فصلیں اگانے کے لیے ’’نیٹ اے فارم‘‘ جیسا اری گیشن سسٹم بنایا اور اس سسٹم نے صحراؤں کو کھیتوں میں بدل دیا‘ اس نے ہوا سے پانی بنانے کی ٹیکنالوجی ’’واٹر جن‘‘ بھی متعارف کرائی‘ کیڑے مکوڑے مارنے کی محفوظ ترین ٹیکنالوجی بائیوبی بھی بنائی‘ دنیا کو نیوی گیشن (جی پی ایس) کا سسٹم بھی دیا جس کے ذریعے دنیا بھر کے مسافر دوسروں کی مدد کے بغیر اپنی منزل مقصود تک پہنچ جاتے ہیں اور اسرائیل نے ڈرون ٹیکنالوجی بنائی‘ لیزر گنز بنائیں۔ انسانوں اور جانوروں کی شناختی ڈیوائسز بنائیں اور خوراک‘ کپڑوں جوتوں اور سواری کے نئے سسٹم بھی متعارف کرائے اور آپ ایمازون سے لے کر اوبر تک کسی بھی کمپنی کے سافٹ ویئرز کا مطالعہ کر لیں آپ کو اس کے پیچھے اسرائیلی ماہرین ملیں گے‘ شاید اس لیے 92 لاکھ لوگوں کے ملک کو ’’اسٹارٹ اپس‘‘ نیشن کہتے ہیں‘کیوں؟ کیوں کہ یہ چھوٹا سا ملک اسٹارٹ اپس میں پوری دنیا کو لیڈ کر رہا ہے‘ دنیا کی واحد سپرپاور امریکا اسٹارٹ اپس میں دوسرے نمبر پر آتی ہے۔

آپ 92 لاکھ کے اس چھوٹے سے ملک کو دیکھیں اور اس کے بعد پاکستان کو دیکھیں‘ ہمارے صرف ایک شہر لاہور کی آبادی اسرائیل کی کل آبادی سے زیادہ ہے لیکن ہم اپنی ضرورت کی خوراک تک پیدا نہیں کر پا رہے‘ ہم کھانے کا تیل‘ گندم‘ دالیں‘ پٹرول اور گیس تک امپورٹ کرتے ہیں‘ ہمارے ملک میں ہماری ضرورت کے مطابق پٹرول اور گیس دونوں موجود ہیں لیکن ہم میں اسے نکالنے کی اہلیت نہیں ہے اور ہم اگر اسے نکال بھی لیں تو ہمارے اپنے لوگ پائپ لائین کو بم سے اڑا دیتے ہیں‘ ہم اس ملک میں فوج کی پوری ڈویژن کے بغیر گیس اور پٹرول کے لیے ڈرلنگ نہیں کر سکتے۔ ہم نے چھ ماہ قبل بنوں میں گیس کا بہت بڑا ذخیرہ دریافت کر لیا لیکن مقامی لوگ اب پائپ لائین نہیں بچھانے دے رہے‘ بنوں میں دو ماہ میں تین بم دھماکے ہو چکے ہیں اور درجن بھرلوگ شہید ہو چکے ہیں‘ ملک کا 70 فیصد رقبہ زرعی ہے‘ ملک میں دو درجن بڑے دریا ہیں‘ مون سون میں صرف آٹھ بارشیں ہوئی ہیں اور ہمارا تیس فیصد رقبہ پانی میں ڈوب گیا‘ بلوچستان اور سندھ میں ایمرجنسی کی صورت حال ہے‘ لوگ دہائیاں دے رہے ہیں اور ہم مدد کے لیے عالمی برادری کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

ہم آج بھی میٹرو‘ اوورہیڈ برجز‘ ریلوے‘ پی آئی اے‘ موٹرویز اور انٹرسٹی بس سروس پر لڑ رہے ہیں‘ ہم ملک میں ویکسین تک نہیں بنا پا رہے‘ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے تک پلانے کے لیے تیار نہیں ہیں اور ہمارے اندر گلیوں کا کوڑا تک اٹھانے کی اہلیت نہیں ہے‘ آپ ملک کا کوئی ایک صاف ستھرا کونا دکھا دیں یا کوئی ایک شہر بتا دیں جس کے شہریوں کو صاف پانی اور اصلی خوراک مل رہی ہو‘ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں ہمارے صدر‘ وزیراعظم اور آرمی چیف بھی خوراک کے نام پر زہر کھا رہے ہوں گے اور یہ پانی کے نام پر کیمیکل پی رہے ہوںگے۔

لہٰذا آپ دل پر رہاتھ رکھ کر جواب دیجیے ‘کیا ہمیں قوم کہلانے کا حق ہے؟ آپ ایک طرف ملک کے مسائل دیکھیے‘ ہم چالیس سال سے بھیک پر گزارہ کر رہے ہیں اور آج اگر سعودی عرب اپنے پیسے واپس مانگ لے تو ہم ڈیفالٹ کر جائیں گے اور دوسری طرف ہم عمران خان اور عمران خان ہمارے پیچھے لگا ہوا ہے‘شہباز گل کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی یا نہیں ہوئی یہ اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے‘ ہم خود اپنے ہاتھوں سے ملک میں استحکام نہیں آنے دے رہے‘ ہم ہر دو تین چار سال بعد اپنی ٹانگ دوبارہ توڑ کر بیٹھ جاتے ہیں‘ہم پوری دنیا کو سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں لیکن ہم میں سے ہر خوش حال شخص دوسرے ملک میں جا کر بسنا چاہ رہا ہے‘ کیوں؟ آخر کیوں؟ آخر ہمارا مسئلہ کیا ہے‘ ہم کیوں من حیث القوم شبہاز گل بن چکے ہیں؟آپ نے کبھی سوچا!

میری اس ملک کے مقتدر طبقوں سے درخواست ہے آپ پلیز آنکھیں کھول لیں اور چند بنیادی فیصلے کر لیں ورنہ یہ ملک ہاتھ سے نکل رہا ہے‘ ہمیں پہلا فیصلہ یہ کرنا ہوگا دنیا اِدھر سے اُدھر ہو جائے لیکن ہم اپنی ضرورت کی خوراک اسی ملک میں پیدا کریں گے‘ ملک میں اگر گندم کم پیدا ہو گی تو ہم کم گندم کھا لیں گے لیکن گندم امپورٹ نہیں کریں گے‘ کوکنگ آئل ہو‘ دالیں ہوں‘ چاول ہوں یا پھر پھل ہوں ہم اس ملک میں اگائیں گے‘ آدھا خود کھائیں گے اور آدھا ایکسپورٹ کریں گے‘ پانچ سال میں اری گیشن کے نئے سسٹم بنائیں گے اور پھر زمین کا کوئی چپہ بھی خالی نہیں رہے گا‘ ہم گملوں میں بھی سبزی اگائیں گے‘ حکومت زرعی کالجوں کے تمام طالب علموں کو زمین دے گی اور یہ طالب علم ان زمینوں پر مہنگی اجناس اگائیں گے۔

ہم ایواکاڈو‘ زعفران اور گلاب کیوں نہیں اگاتے؟ ہم ایک پورے ریجن کو ’’فلاورریجن‘‘دوسرے کو ایواکاڈو‘ تیسرے کو زعفران اور چوتھے کو اولیو ریجن ڈکلیئر کردیں اور وہاں یہ اجناس اگا کر پوری دنیا کو فروخت کریں‘ ہم پھول اگا کر یو اے ای میں کیوں نہیں بیچتے اور ہم ان کا ست نکال کر ملک میں پروفیوم کی انڈسٹری ڈویلپ کیوں نہیں کرتے؟ ہم پاکستان کو لیدر انڈسٹری ہی بنا لیں تو بھی ہم اربوں روپے سالانہ کما سکتے ہیں‘ دوسرا ہم دس سال میں اپنی ضرورت کی گیس‘ پٹرول اور بجلی پیدا کر لیں‘ ہم گیس‘ پٹرول اور بجلی کی صنعت کو اوپن کر دیں۔

کمپنیاں آئیں‘ کام کریں‘ تیل اور گیس نکالیں‘ ہمیں بھی بیچیں اور باہر بھی بیچ دیں‘ لوکل کمیونٹی مزاحمت کرتی ہے‘ آپ ایک ہی بار فارمولا بنا دیں‘ لوکل لوگوں کو اس فارمولے کے تحت سہولتیں دیں اور رقم دیں اور اگر کوئی اس کے باوجود بھی مزاحمت کرے تو پھر ڈنڈا چلائیں مگر کام نہیں رکنا چاہیے‘ تین‘ ملک میں میٹرک تک تعلیم اور اس کے بعد سکل ہونی چاہیے‘ آپ تمام کالجز اور یونیورسٹیوں کو ’’سکل انسٹی ٹیوٹس‘‘ میں تبدیل کر دیں اور اس وقت تک کسی طالب علم کو ڈگری نہ دی جائے جب تک وہ اپنے شعبے کا ایکسپرٹ نہ ہو جائے‘ گریجوایشن اور پوسٹ گریجوایشن کے درمیان دو سال کی انٹرن شپ لازمی ہونی چاہیے‘ طالب علم گریجوایشن کریں‘ دو سال کا عملی تجربہ حاصل کریں اور پھر یونیورسٹی میں داخلہ لے سکیں‘ ملک میں سولہ سال کی مسلسل تعلیم پر پابندی ہونی چاہیے۔

ہم ہر سال ملک میں کیوں لاکھوں کی تعداد میں بے ہنر ایم اے پیدا کر دیتے ہیں؟ آخر اس تعلیم کا کیا فائدہ جو ڈگری ہولڈر کو دو وقت کا کھانا بھی نہیں دے سکتی‘ چار‘ ملک میں ہر ترقیاتی منصوبے کی تکمیل کی تاریخ ہونی چاہیے اور وہ منصوبہ ہر حال میں اس تاریخ پر مکمل ہونا چاہیے‘ چین کی طرح اسے ایک دن بھی اوپر نہیں جانا چاہیے اور جوغفلت کا مظاہرہ کرے اسے سزا دیں اور پانچویں اور آخری چیز خدا کے لیے‘ خدا کے لیے ملک میں قانون کی حکمرانی قائم کر دیں۔

قانون کی نظر میں جج سے لے کر جنرل تک ہر شخص برابر ہونا چاہیے‘ کوئی عمران خان یا شہباز گل نہیں ہونا چاہیے‘ ہم میں سے جو بھی قانون توڑے‘ جو بھی غلطی کرے قانون اپنا راستہ لے اور اسے اس کے کیے کی سزا دے‘ ملک میں یہ سیاسی تھیٹر بند ہونے چاہییں‘ ہم آخر کب تک جلسہ‘ جلسہ اور لانگ مارچ‘ لانگ مارچ کھیلتے رہیں گے؟ ہمیں اب مان لینا چاہیے یہ ملک اس طرح نہیں چل سکے گا‘ آپ اب اس پر ترس کھائیں‘ سیدھے ہو جائیں اور سیدھا کر دیں ورنہ ہم گئے‘ ہم اس طرح مزید نہیں چل سکیں گے۔

Comments

Click here to post a comment