.
تعمیر کا کام آگے بڑھا تو دل سے مجبور ہوکر ایک روز میں قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فلیٹس میں چھپ کر داخل ہوگیا تاکہ انہیں اندر سے دیکھ سکوں. یہاں فلیٹوں کے چھ بڑے بڑے بلاکس تھے اور ان میں سینکڑوں کی تعداد میں فلیٹس تھے. ان بلاکس میں جو بلاک مجھے سب سے دلنشین لگا، میں اس میں کود گیا اور پھر اپنے پسندیدہ پہلے فلور پر پہنچا. اس فلور پر آٹھ فلیٹس موجود تھے. ان میں سے جو فلیٹ مجھے سب سے بہتر جگہ پر لگا، میں اس میں چھپ کر اندر چلا گیا. دو کمروں کا یہ فلیٹ مجھے اپنے دل سے بہت قریب محسوس ہوا. کافی دیر گزرارنے کے بعد اپنا دل تھامے واپس آگیا اور اپنی بیگم کو روداد سنائی. اسے بھی شوق ہوا تو میری حماقت کی حد دیکھیئے کہ مزدوروں اور سیکورٹی سے چھپ کر اسے بھی وہاں لے گیا. اپنا دیکھا ہوا فلیٹ اسے دکھایا اور دونوں ایک دوسرے سے تعریفیں کرتے یہ کہتے واپس آگئے کہ کتنا اچھا ہوتا اگر ہم یہاں رہ پاتے؟ .. اسی طرح کچھ اور دن گزرے اور فلیٹس کی تعمیر اپنے اختتام کو پہنچ گئی. ایک روز بہت صبح مجھے فون آیا. دوسری طرف گورنمنٹ کونسل کی کوئی خاتون مخاطب تھیں. انہوں نے بتایا کہ گورنمنٹ نے ایک اسکیم کے تحت ان سینکڑوں نئے فلیٹس میں سے چند گنتی کے فلیٹس خرید لئے ہیں جو وہ ان لوگوں کو دے رہی ہے جنہوں نے گورنمنٹ گھروں کے لیے درخوست دے رکھی تھی. آپ کی درخوست ہمارے پاس موجود ہے تو کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم وہاں موجود ایک فلیٹ آپ کو دے دیں اور آپ موجودہ کرائے سے کافی کم کرائے پر وہاں شفٹ ہوجائیں ؟ میں نے بوکھلاتے ہوئے خوشی سے نہال ہوکر لڑکھڑاتی آواز میں جواب دیا کہ ضرور !
.
اسی روز ہمیں دعوت دی گئی کہ ہم جا کر اپنا فلیٹ دیکھ لیں. وہاں بھاگم بھاگ پہنچے تو چھ بلاکس میں سے اسی بلاک میں، سات فلوروں میں سے اسی فلور پر اور سینکڑوں فلیٹوں میں سے وہی فلیٹ ہمارے نام نکلا تھا. آج الحمدللہ ثم الحمدللہ میں کوئی سات آٹھ برس سے اسی فلیٹ میں بخوشی مقیم ہوں اور اپنے رب کی عطا کو سوچ کر شکرگزار ہوں. میں حیران ہوتا ہوں جب لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ دعا کی کوئی حقیقت نہیں. میں مسکرا دیتا ہوں جب لوگ مصر ہوتے ہیں کہ اب معجزات نہیں ہوتے. اللہ اکبر. اللہ اکبر. لا الہ الا اللہ. واللہ اکبر. اللہ اکبر. وللہ الحمد.
ایک ناقابل یقین واقعہ - عظیم الرحمن عثمانی

تبصرہ لکھیے