ہوم << داستان وسطِ ایشیا کے تین بھائیوں کی – فہد کیہر

داستان وسطِ ایشیا کے تین بھائیوں کی – فہد کیہر

عباسی خلیفہ مامون الرشید کے دَور میں مذہبی اور سیاسی معاملات چاہے جیسے بھی رہے ہوں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ علمی لحاظ سے ایک انقلاب کا دَور تھا۔ جو بنیادیں ہارون الرشید نے ڈالی تھیں، مامون نے اُن پر ایک عالی شان عمارت کھڑی کر دی۔ اُس کے دور میں 'بیت الحکمت' کو توسیع دے کر ایک عظیم سائنسی مرکز بنایا گیا۔

اس انقلاب میں سب سے نمایاں کام تھا ترجمے کا۔ مامون الرشید نے قیصرِ روم کو خط لکھا تھا کہ ارسطو کی جتنی کتابیں بھی موجود ہیں، انہیں بغداد بھیجا جائے۔ پھر ارسطو کی ہی نہیں بلکہ قدیم یونانی علوم کی اور بھی بہت سے کتابیں بغداد آئیں۔ اِن کتابوں کے عربی زبان میں ترجمے ہوئے اور یوں یہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئیں۔ ورنہ یہ اہم کتابیں یقیناً گردشِ زمانہ کی نذر ہو جاتیں۔

کتابوں کی تلاش میں کئی عالموں کو یورپ تک بھیجا گیا۔ وہ نت نئی کتابیں تلاش کرتے اور پھر بغداد میں ان کا ترجمہ کیا جاتا۔ اُس زمانے میں صرف یونانی اور لاطینی ہی نہیں بلکہ فارسی اور دوسری زبانوں سے بھی ترجمے ہوئے اور قدیم علوم جدید انداز میں محفوظ کر لیے گئے۔

علامہ شبلی نعمانی کی کتاب 'المامون' کے مطابق اُس دور میں بیت الحکمت ترجمہ کرنے والوں کا گڑھ تھا۔ قسطا بن لوقا بعلبکی، حُنین بن اسحاق، محمد بن موسیٰ الخوارزمی اور یعقوب کندی جیسے ماہرین یہاں اہم عہدوں پر فائز تھے۔ لیکن بیت الحکمت سے وابستہ نمایاں اور حیران کُن شخصیات تھیں تین بھائیوں کی، جو وسطِ ایشیا کے عظیم شہر مرو سے تعلق رکھتے تھے۔ دنیا انہیں "بنو موسیٰ" کے نام سے جانتی ہے۔

برادرانِ بنو موسیٰ

ان بھائیوں کے نام محمد بن موسیٰ، احمد بن موسیٰ اور حسن بن موسیٰ تھے۔ یہ مرو میں مامون الرشید کے ایک ملازم موسیٰ بن شاکر کی اولاد تھے۔

ویسے تاریخ میں موسیٰ بن شاکر کے حوالے سے بڑی عجیب باتیں ملتی ہیں، مثلاً کئی کتابوں میں ذکر ہے کہ موسیٰ اصل میں ڈاکو تھا، پھر اچانک اُس کی زندگی بدل گئی اور وہ ایک ریاضی دان اور ماہرِ فلکیات کی حیثیت سے مامون کے دربار میں آ پہنچا۔ کب؟ کیسے؟ کیوں؟ یہ کچھ نہیں پتہ، نہ کوئی پسِ منظر، نہ پیش منظر۔

سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایک ڈاکو میں اتنی علمی قابلیت کہاں سے آ گئی کہ وہ شہنشاہِ وقت کے دربار تک جا پہنچا اور اپنی صلاحیتوں سے بادشاہ کو قائل بھی کر لیا؟ وہ بھی ایسا کہ مرنے پر اپنے بیٹے اُسی کے حوالے کر گیا اور وہ تا عمر اس کے بیٹوں کی نگرانی کرتا رہا؟

بہرحال، تاریخ پڑھتے ہوئے ایسی بہت سی باتیں نظروں کے سامنے سے گزرتی ہیں جنہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ "یہ ہوائی کسی دشمن نے اُڑائی ہوگی۔"

بغداد، مادرِ علمی

بغداد میں مامون نے اِن تینوں بچوں کو ریاضی سمیت مختلف علوم سکھانے کے لیے یحییٰ بن ابی منصور کے حوالے کیا۔ پھر اِن بچوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ کم عمری میں ہی سائنس دانوں اور عالموں کے حلقے میں بیٹھنے کی وجہ سے اُن کی صلاحیتیں بڑھتی چلی گئیں۔ بڑا بھائی محمد بن موسیٰ ابو جعفر کے نام سے مشہور ہوا جبکہ احمد بن موسیٰ کو ابو القاسم کہا جاتا تھا۔

اپنی علمی قابلیت و صلاحیت سے انہوں نے صرف مامون ہی کو نہیں بلکہ معتصم، واثق اور پھر متوکل کے دَور تک سب حکمرانوں کو حیران کیا۔ شہرت تو انہیں ملی ہی، لیکن اِن بھائیوں کو جو اختیارات حاصل تھے انہیں دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اُس زمانے میں عباسی دربار میں علمی شخصیات کی کتنی قدر و قیمت تھی۔ اندازہ لگائیے کہ محمد بن موسیٰ کی سالانہ آمدنی تین لاکھ اشرفیوں تک جا پہنچی تھی۔ وہ بیت الحکمت میں کام کرنے والے ترجمہ کاروں کو ایک مہینے کے 500 دینار تک ادا کیا کرتا تھا۔ آج کے حساب سے دیکھیں تو یہ تقریباً 60 لاکھ روپے بنتے ہیں، جی ہاں! صرف ایک مہینے کے کام کے۔

قیمتی ترین چیز: کتاب، قیمتی ترین فرد: مترجم

بیت الحکمت، بغداد

بنو موسیٰ نے قیمتی اور اہم ترین کتابیں خریدنے پر بھی ناقابلِ یقین سرمایہ اور وقت لگایا۔ وہ نہ صرف اپنے کارندوں کو یورپ بھیجتے کہ وہ مختلف مقامات سے قیمتی اور اہم کتابیں خریدیں، بلکہ انہوں نے خود بھی بڑے سفر کیے۔ ایسے ہی ایک سفر کے دوران محمد بن موسیٰ کی ملاقات حرّان (Harran) میں ثابت بن قرّہ سے ہوئی۔ وہ اُس کی صلاحیتوں سے بڑا متاثر ہوا اور اپنے ساتھ بغداد لے آیا، جہاں ثابت بعد میں بہت بڑا مترجم اور ریاضی دان بن کر ابھرا۔ اس کے علاوہ بغداد کا سب سے مشہور ترجمہ کار حُنین بن اسحٰق بھی بنو موسیٰ کی ٹیم کا حصہ تھا۔

کیا یہ صرف ترجمے کی تحریک تھی؟

ایک غلط فہمی جو عام پائی جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ عربی زبان میں صرف دوسری زبانوں کے تراجم ہی ہوئے، یعنی جدید سائنس کے لیے مسلم سائنس دانوں کا کردار محض 'مڈل مین' جیسا تھا، جنہوں نے دیگر زبانوں کے علوم کو عربی میں محفوظ کر کے مستقبل کے لیے فراہم کیا۔ لیکن حقیقت بالکل مختلف ہے۔ بنو موسیٰ ہی کے کام کو لے لیں کہ انہوں نے محض ترجمے نہیں کیے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر بھی کئی عملی کام کر کے دکھائے، خاص طور پر علمِ ہیئت (astronomy)، مکینکس، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں۔

ہر فن مولا

بنو موسیٰ میں ابو جعفر محمد بن موسیٰ دیگر بھائیوں سے ممتاز و نمایاں تھا، اسے ہر فن مولا کہیں تو غلط نہیں ہوگا۔ حسن ایک بہترین مہندس تھا جبکہ احمد میکانیکی علوم کا ماہر تھا۔

ان بھائیوں کا کام محض ترجموں تک محدود نہیں تھا، بلکہ انہوں نے کئی کتابیں بھی لکھیں۔ تاریخ میں اُن کی 20 کتابوں کا ذکر ملتا ہے، لیکن صرف چند ہی ایسی ہیں جو بچ پائیں۔ ان میں علمِ ہیئت، علمِ نجوم، ریاضی اور خود حرکی کَل یعنی آٹومیٹک مشین کے موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

بنو موسیٰ کی کتابوں میں یورپ کے مصنفین نے بہت دلچسپی دکھائی۔ ان کی کتابوں کے کئی زبانوں میں ترجمے ہوئے۔ اُن کو مغرب میں سب سے زیادہ شہرت بھی انہی کتابوں سے ملی جن میں انہوں نے آٹومیٹک مشینیں اور مکینیکل ڈیوائسز بنانے کے طریقے بیان کیے۔ اُن کی "کتاب الحیل" (The Book of Ingenious Devices ) تو بہت مشہور ہے، جس میں بہت سی مشینوں اور ڈیوائسز کا ذکر ہے۔

کتاب الحیل

انہوں نے صنعتی و سائنسی کاموں کے لیے کئی مشینیں بنائیں۔ 850ء میں لکھی گئی اُن کی "کتاب الحیل" میں ایسی 100 ڈیوائسز کا ذکر ملتا ہے، جن میں سے ہر ڈیوائس کو مؤرخین نے شاہکار قرار دیا ہے۔

ان میں ہر منٹ بعد اپنی شکل بدلنے والے فوّارے، الارم والے گھڑیال، خود بخود بجنے والی بانسری بلکہ ایک ایسی "مکینیکل گرل" یعنی میکانیکی لڑکی کا ذکر بھی ہے جو خود کار طور پر چائے پیش کرتی تھی۔ تصور کیجیے ایسی چیزیں تو آج کی اِس جدید دنیا کو بھی حیران کر دیں، تو اس زمانے میں بادشاہوں کو کیسا حیرت زدہ کیا ہوگا؟

آپ ان ڈیوائسز کو کھلونے کہہ سکتے ہیں لیکن بنو موسیٰ کا کام اپنے زمانے کے لحاظ سے واقعی متاثر کُن تھا۔ انجینیئرنگ اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک انقلابی نوعیت کا کام۔ انہوں نے ایسے آٹومیٹک سسٹم بنائے جو جدید مشینوں کی بنیادی شکل کہے جا سکتے ہیں۔

کتاب الحیل میں موجود چند ڈیوائسز یونانی، رومی، فارسی چینی اور ہندی انجینیئرنگ سے متاثر تھیں، لیکن ساتھ ہی کئی چیزیں ایسی تھیں جو اصل ایجاد تھیں۔

بعد ازاں بارہویں صدی میں مشہور سائنس دان اسماعیل الجزری تک نے اپنی "کتاب فی معرفۃ الحیل الہندسیہ" میں بنو موسیٰ کے کاموں کے حوالے دیے۔ یہ وہی الجزری ہیں جنہیں روبوٹکس اور جدید انجینیئرنگ کا بانی سمجھا جاتا ہے۔

دنیا کی پہلی پروگرام ایبل مشین

بنو موسیٰ کو پہلا میوزیکل سیکوئنسر (musical sequencer ) بنانے کا کریڈٹ بھی دیا جاتا ہے، جو پروگرام ایبل مشین کی ابتدائی قسم تھی۔ یہ ایک روبوٹک بانسری تھی جو گرم بھاپ سے کام کرتی تھی۔

روبوٹکس میں ُان کی ایک انوکھی ایجاد ایسا شکنجہ بنانا بھی تھا جو زیرِ آب کام کرتا تھا۔ وہ اس کے ذریعے پانی میں گر جانے والی چیزیں نکالنے کا کام کرتے تھے۔ پھر اُن کی کتاب میں ایک واٹر ڈسپینسر کا ذکر بھی ملتا ہے جس سے گرم اور ٹھنڈا دونوں قسم کا پانی آتا تھا۔

زمین کا محیط

سن 820ء میں مامون الرشید نے بنو موسیٰ برادران سے کہا کہ اُس نے قدیم کتابوں میں پڑھا ہے کہ زمین کا محیط یعنی گھیر 24 ہزار میل ہے۔ اس کی تصدیق کی جائے۔ آج کی سائنس تصدیق کرتی ہے کہ خطِ استوار پر زمین کا محیط 24,901 میل ہے۔

تو بنو موسیٰ برادران نے اپنی تحقیق کے بعد بتایا کہ یہ محیط بالکل درست ہے، لیکن مامون کو مطمئن نہیں کر پائے۔ جس نے بنو موسیٰ کو حکم دیا کہ یہی کام کسی دوسری جگہ پر جا کر بھی کیا جائے اور اگر وہاں بھی یہی نتیجہ نکلا تبھی تسلیم کیا جائے گا۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ مامون تو "بادشاہ آدمی" تھا، اس نے شاہانہ ترنگ میں ایسا کہہ دیا ہوگا لیکن اِس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ علمی منصوبوں میں کتنی دلچسپی لیتا تھا۔ پھر بنو موسیٰ نے جتنا پیسہ کتابیں خریدنے اور ان کے ترجمے کرنے پر خرچ کیا، وہ بھی سرکاری خزانے ہی سے آتا تھا۔

محمد بن موسیٰ کا انتقال 873ء میں ہوا اور اس کے بعد بیٹے نعیم نے اپنے والد کے کام کو جاری رکھا۔ وہ ثابت بن قرّہ کا شاگرد تھا۔ تاریخ میں جیومیٹری یعنی علم ہندسہ پر نعیم کی ایک کتاب کا ذکر ملتا ہے۔

Comments

Avatar photo

فہد کیہر

فہد کیہر تاریخ کے ایک طالب علم ہیں۔ اردو ویکی پیڈیا پر منتظم کی حیثیت سے تاریخ کے موضوع پر سینکڑوں مضامین لکھ چکے ہیں۔ ترک تاریخ میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔ ٹوئٹر: @fkehar

Click here to post a comment