ہوم << وما ارسلنکَ الا رحمۃ للعالمین -محمد اکرم چوہدری

وما ارسلنکَ الا رحمۃ للعالمین -محمد اکرم چوہدری

بھارت کی حکمران جماعت بے جی پی خطے میں امن کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ نریندرا مودی کی سرکار کے توسیع پسندانہ عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ان کی طرف سے حال ہی میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے اقدامات کے بعد یہ واضح ہو چکا ہے کہ نریندرا مودی اور ان کے ساتھی بھارت میں صرف ہندوؤں کو ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔

وہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہر حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ حال ہی میں ہونے والی گستاخی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وہ کسی بھی سطح پر جا سکتے ہیں۔ مسلمانوں کے دلوں پر ہونے والے حملے باقاعدہ منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔ بہرحال یہ خوش آئند ہے کہ جس طرح دنیا بھر کے مسلمانوں نے نریندرا مودی کی حکومت کو جواب دیا ہے اس سے یہ تو ثابت ہوا ہے کہ تاجدارِ انبیاء خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معاملے میں مسلمان کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ حرمت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ایسا حساس معاملہ ہے جس میں کمزور سے کمزور مسلمان بھی اپنی جان و مال سے کم پر بات نہیں کرتا۔ دراصل اسلام دشمنوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بھی یہی ہے۔

بھارت مذہبی دہشت گردی پر اتر آیا ہے۔ اس کا ساتھ دینے والوں کو آنکھیں کھولنا ہوں گی اگر وہ کوئی کارروائی نہیں کرتے تو وہ بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ بہرحال مسلمانوں کے مذہبی جذبات پر حملہ کر کے نریندرا مودی نے اپنے ہی ملک کروڑوں مسلمانوں کو بھی متحد ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔ کیونکہ دنیا بھر میں مسلمان لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ پر جمع ہوتے ہیں اور اللہ اکبر کے نعرے پر اسلام دشمنوں کا مقابلہ بھی کرتے ہیں۔ حرمت رسول پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان مے سخت احتجاج کیا ہے یہ معاملہ اقوام متحدہ میں بھی اٹھانا چاہیے اور اس کے لیے تمام مسلم ممالک کو متحد ہو کر آگے بڑھنا ہو گا۔

آقائے دو جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم دو جہانوں کے لیے رحمت ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے

وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین

اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔

تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نبیوں ، رسولوں اور فرشتوں عَلَیہِمْ الصَّلٰوۃْ وَالسَّلَام کے لئے رحمت ہیں ، دین و دنیا میں رحمت ہیں ، جِنّات اور انسانوں کے لئے رحمت ہیں ، مومن و کافر کے لئے رحمت ہیں ، حیوانات، نباتات اور جمادات کے لئے رحمت ہیں الغرض عالَم میں جتنی چیزیں داخل ہیں ، سیّدْ المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ان سب کے لئے رحمت ہیں۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہْمَا فرماتے ہیں کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا رحمت ہونا عام ہے، ایمان والے کے لئے بھی اور اس کے لئے بھی جو ایمان نہ لایا۔ مومن کے لئے تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ دنیا و آخرت دونوں میں رحمت ہیں اور جو ایمان نہ لایا اس کے لئے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ دنیا میں رحمت ہیں کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی بدولت اس کے دْنیَوی عذاب کو مْوخَّر کر دیا گیا اور اس سے زمین میں دھنسانے کا عذاب، شکلیں بگاڑ دینے کا عذاب اور جڑ سے اکھاڑ دینے کا عذاب اٹھا دیا گیا۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحمَۃْ اللہ تَعَالٰی عَلَیہِ فرماتے ہیں ’’عالَم ماسوائے اللہ کو کہتے ہیں جس میں انبیاء وملائکہ سب داخل ہیں ۔ تو لاجَرم (یعنی لازمی طور پر) حضور پْر نور، سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ان سب پر رحمت و نعمت ِربّْ الارباب ہوئے ، اور وہ سب حضور کی سرکارِ عالی مدار سے بہرہ مند وفیضیاب۔ اسی لئے اولیائے کاملین وعلمائے عاملین تصریحیں فرماتے ہیں کہ’’ ازل سے ابد تک ،ارض وسماء میں ، اْولیٰ وآخرت میں ،دین ودنیا میں ، روح وجسم میں ، چھوٹی یا بڑی ، بہت یا تھوڑی ، جو نعمت ودولت کسی کو ملی یا اب ملتی ہے یا آئندہ ملے گی سب حضور کی بارگاہ ِجہاں پناہ سے بٹی اور بٹتی ہے اور ہمیشہ بٹے گی

اور فرماتے ہیں ’’حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَسَلَّمَ رحمۃ لِّلعالَمین بنا کر بھیجے گئے اور مومنین پربالخصوص کمال مہربان ہیں ، رؤف رحیم ہیں ، ان کامشقت میں پڑنا ان پرگراں ہے، ان کی بھلائیوں پرحریص ہیں ،جیسے کہ قرآن عظیم ناطق: ’’لَقَد جَآء کْم رَسْول مِّن اَنفْسِْکم عَزِیزعَلَیہِ مَا عَنِتّْم حَرِیص عَلَیکْم بِالمْؤمِنِینَ رَئوف رَّحِیم‘‘(توبہ:۱۲۸)

بیشک تمہارے پاس تم میں سے وہ عظیم رسول تشریف لے آئے جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا بہت بھاری گزرتا ہے، وہ تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے، مسلمانوں پر بہت مہربان، رحمت فرمانے والے ہیں۔)

’’وَ استَغفِر لِذَنبَِ وَ لِلمْؤمِنِینَ وَ المْؤمِنٰتِ‘‘(سورہ محمد:۱۹) اور اے حبیب!اپنے خاص غلاموں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو۔)آیت’’وَ مَا اَرسَلنک اِلَّا رَحمَۃً لِّلعٰلَمِینَ‘‘ اور عظمت ِمصطفی : یہ ایتِ مبارکہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی عظمت و شان پر بہت بڑی دلیل ہے، یہاں اس سے ثابت ہونے والی دو عظمتیں ملاحظہ ہوں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ مخلوق میں سب سے افضل ہیں۔ چنانچہ امام فخر الدین رازی رَحمَْ اللہ تَعَالٰی عَلَیہِ فرماتے ہیں ’’جب حضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ تمام عالَمین کے لئے رحمت ہیں تو واجب ہو اکہ وہ ( اللہ تعالیٰ کے سوا) تمام سے افضل ہوں۔

تفسیر روح البیان میں اَکابِر بزرگانِ دین کے حوالے سے مذکور ہے کہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کوتمام جہانوں کے لئے خواہ وہ عالَمِ ارواح ہوں یا عالَمِ اجسام ، ذوی العقول ہوں یا غیر ذوی العقول سب کے لئے مْطلَق، تام، کامل، عام، شامل اور جامع رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے اور جو تمام عالَموں کے لئے رحمت ہو تو لازم ہے کہ وہ تمام جہان سے افضل ہو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور پْر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ دونوں جہاں کی سعادتیں حاصل ہونے کا ذریعہ ہیں کیونکہ جو شخص دنیا میں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان لائے گا اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اطاعت و پیروی کرے گا اسے دونوں جہاں میں آپ کی رحمت سے حصہ ملے گا اور وہ دنیا وآخرت میں کامیابی حاصل کرے گا اور جو آپ پر ایمان نہ لایا تو وہ دنیا میں آپ کی رحمت کے صدقے عذاب سے بچ جائے گا لیکن آخرت میں آپ کی رحمت سے کوئی حصہ نہ پا سکے گا۔

امام فخرالدین رازی رَحیمَْ اللہ تَعَالٰی عَلَیہِ فرماتے ہیں ’’لوگ کفر ،جاہلیت اور گمراہی میں مبتلا تھے ، اہلِ کتاب بھی اپنے دین کے معاملے میں حیرت زدہ تھے کیونکہ طویل عرصے سے ان میں کوئی نبی عَلَیہِ السَّلَام تشریف نہ لائے تھے اور ان کی کتابوں میں بھی (تحریف اور تبدیلیوں کی وجہ سے) اختلاف رو نما ہو چکاتھا تو اللہ تعالیٰ نے اس وقت اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو مبعوث فرمایا جب حق کے طلبگار کو کامیابی اور ثواب حاصل کرنے کی طرف کوئی راہ نظر نہ آ رہی تھی،چنانچہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے لوگوں کو حق کی طرف بلایا اور ان کے سامنے درست راستہ بیان کیااور ان کے لئے حلال و حرام کے اَحکام مقرر فرمائے ،پھر اس رحمت سے(حقیقی) فائدہ اسی نے اٹھایا جو حق طلب کرنے کا ارادہ رکھتا تھا (اور وہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان لا کر دنیا و آخرت میں کامیابی سے سرفراز ہوا اور جو ایمان نہ لایا) وہ دنیا میں آپ کے صدقے بہت ساری مصیبتوں سے بچ گیا۔

تم ہو جواد و کریم تم ہو رؤف و رحیم

بھیک ہو داتا عطا تم پہ کروڑوں درود

قرآن کریم کی سورہ الفتح کی آخری آیت کا ترجمہ ہے

محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ، آپس میں نرم دل ہیں۔ تْو انہیں رکوع کرتے ہوئے، سجدے کرتے ہوئے دیکھے گا ،اللہ کا فضل و رضا چاہتے ہیں ، ان کی علامت ان کے چہروں میں سجدوں کے نشان سے ہے۔یہ ان کی صفت تورات میں (مذکور) ہے اور ان کی صفت انجیل میں (مذکور) ہے۔ (ان کی صفت ایسے ہے) جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی باریک سی کونپل نکالی پھر اسے طاقت دی پھر وہ موٹی ہوگئی پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہوگئی، کسانوں کو اچھی لگتی ہے (اللہ نے مسلمانوں کی یہ شان اس لئے بڑھائی) تاکہ ان سے کافروں کے دل جلائے۔ اللہ نے ان میں سے ایمان والوں اور اچھے کام کرنے والوں سے بخشش اور بڑے ثواب کاوعدہ فرمایا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو ایمان اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی سچی محبت کی دولت سے مالا مال فرمائے اور ہمیں اس دور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی سنتوں پر عمل کرنے اور حرمت رسول کے لیے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ جو پوگ دین اسلام کی تبلیغ اور اس حوالے سے کام کرنے والے اداروں اور تنظیموں کے لیے بھی آسانیاں پیدا فرمائے۔ آمین

Comments

Click here to post a comment