ہوم << زندگی کی بہار ہو تم.ہادیہ جنید

زندگی کی بہار ہو تم.ہادیہ جنید

کہا جاتا ہے رشتے ہی زندگی کا رنگ ہیں۔گو آگے بڑھتی ٹیکنالوجی نے فاصلے کم کر دیے مگر رشتوں کی بہار اگر ہر سو پھیلی نہ ہو تو زندگی کتنی پھیکی پڑجاتی ہے،اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں۔سو رشتے تو ہر سو بکھرے ہوتے ہیں.

اب یہ ایک سمجھدار ذہن پہ منحصر ہے کہ کس طرح رشتوں کی بہار سے اپنے لیے ہر رنگ اور ہر طرح کے پھول سجا کر زندگی کو خوب صورت بنایا جائے اور کس طرح ان سے زندگی کا لطف اٹھایا جائے.زندگی تو گزرتے وقت کا نام ہے،اور وقت تو کٹ ہی جانا ہے،سو کیوں نا اپنے پرائے سب کو محبّت بانٹ کر رشتوں کی قدر کریں،کیونکہ رشتے بہت قیمتی ہوتے ہیں۔ایسی ہی ایک،ندا کی کہانی ہے جس کو وقت کی اونچ نیچ نے سمجھایا کہ زندگی کی بہار رشتوں کی چہچہاہٹ میں پوشیدہ ہے۔

"اس کو موزے کیوں پہنا دیے اتنی گرمی میں،بچّہ شرابور ہو جائے گا پسینے میں،گرمی دانے پھر کیا باقی گھر والوں کو ہونگے؟"امّی نے تقریباً ڈانٹتے ہوئے کہا۔"وہ امّی ایکچولی۔ہیں کیا کہ رہی ہو؟"ندا کی "ایکچولی" ساس کو سمجھ نہ آئی۔"وہ امّی دراصل شوز کے ساتھ سوکس سوٹ کرتے ہیں،وہ میرا مطلب جوتوں کے ساتھ موزے ٹھیک لگتے ہیں،پارٹی میں جانا ہے نا"ندا نے صفائی دی۔ہاں تو یہ کوئی دلہن کا دادا ہے جو سب پہلے اس سے مل کر آگے بڑھینگے؟ڈھائی ماں کا بچّہ ہے،اتارو اسکے لوکس! امّی سوکس،اچھا میں اتار دیتی ہوں."ندا نے بادل نخواستہ بچے کے موزے اتارے۔

ندا اور ماجد کی پسند کی شادی تھی،ماجد نے ندا سے کہا تھا کہا امّاں کچھ دیسی مزاج کی ہیں،مگر دل کی بہت اچھی ہیں،ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں،میں ہی ان کا سب کچھ ہوں ،ہم نے مل کر زندگی کے نشیب و فراز دیکھے ہیں،لہذا ان کا بہت خیال رکھنا،پلیز۔۔اور ندا نے بھی ساتھ نبھانے کا وعدہ کیا تھا۔لہذا وہ ہر سختی گرمی کو خوش اسلوبی سے برداشت کرنے کی پوری کوشش کرتی۔پارٹی میں سے آکر ندا کا تھکن سے برا حال تھا،ریّان بھی سو رہا تھا،ندا کچھ دیر سستانے کو بستر پر ٹک گئی کہ ایک لمبی پھونک سے ندا کی آنکھ کھلی،"ہووووووو"ایک لمحے کو ندا ڈر سی گئی،اسکی سمجھ نہ آیا کہ کیا ہوا ہے۔

"تمہاری اور گڈّے کی نظر اُتار رہی تھی،چاند کا ٹکڑا لگ رہیں تھیں" "کون میں؟" ندا نے مسکراتے ہوئے سوال کیا۔ "نہیں ریّان کی آنکھیں،لاؤ اس کے کپڑے بدلوا دوں"
ندا کی خوش فہمی ہوا میں اڑ گئی۔اس نے اٹھنا چاہا۔۔"لیٹی رہو،میں منہ بھی دھلاؤنگی،پتہ نہیں کس نے لپس ٹک والے پیار کیے ہونگے"یہ کہ کر انہوں نے ابکائی کا منہ بنایا اور گڈّے کو اٹھا کر لے گئیں۔ اگلے دن ہر دعوت کی طرح اس دعوت کے بعد بھی ندا کے منہ میں چھالے ہو گئے،وہ جب مرچ مصالحوں والے مرغن کھانے کھاتی،اس کے منہ میں چھالے ہو جاتے۔جب اس نے امّی سے اس بات کا ذکر کیا تو۔۔ہئے اللہ،میرے گڈّے کی خیر،وہ تو ماں کا دودھ ہی پیتا ہے،اللہ پوچھے ان بازار کے کھانے بنانے والوں سے،ہر کھانے میں سوئر کی چربی ڈالتے ہیں،ہئے بچّی کھائے گی کیسے۔

اور پھر خود ہی انہوں نے ندا کا ہونٹ پکڑ کے اوپر کرلیا،دن میں تارے نظر آگئے۔"اتّے بڑے بڑے سفید چھالے۔۔یا اللہ یا اللہ"پھر وہ یکدم اٹھیں اور گھر سے کہیں چلی گئیں۔واپسی پر ان کے ہاتھ میں سلاد کے پتّے،کھیرا،دیگر ہری سبزیاں اور دہی موجود تھی۔"ان سے تمہارے منہ میں آرام آئیگا" ہانپتی کانپتی امّی کہ رہی تھیں۔"میں کاٹ رہی ہوں۔فلحال پانی پیو،پانی کی کمی نہ ہونے پائے،جگر میں ویسے ہی گرمی بھری ہوئی ہے"دن یونہی گزرتے رہے،امّاں کو ایک ندا نے اُلٹا ہاتھ دباتے دیکھا اور پھر کوئی دوسرا کام ہونے کی وجہ سے نظر انداز کر دیا۔رات کو امّاں کے سینے میں شدید درد اٹھا،سب کی تکلیف پر شور مچانے والی،اپنی تکلیف پر کوئی خاص واویلہ نہیں کر رہی تھی۔ماجد امّاں کو ہسپتال لے گئے۔دو دن امّاں سی سی یو میں رہیں،دل کا دورہ تھا،حالت خطرے میں تھی۔

ادھر وہ ندا،جو امّاں کی باتوں سے پریشان ہو کر دل میں کبھی کبھی الگ گھر کی تمنّا کرتی،خالی گھر اسکو کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا۔ابھی ادھر امّاں کی آواز کی گونج،اِدھر ریّان سے لاڈ کی آوازیں،یا اللہ میں کہاں جاؤں!"ماں کو بائے پاس کے لیے لے کر جارہے ہیں،دعا کرنا"ماجد کا پیغام آیا۔آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔"گرمی دانے پھر کیا باقی گھر والوں کو ہونگے"امّاں مجھے معاف کردیں۔"یہ کوئی دلہن کا دادا ہے جو میں نے آپ کی قدر نہیں کی"پتہ نہیں کس نے لپس ٹک والے پیار کیے ہونگے۔میرے گھر کی،میری زندگی کی بہار آپ ہیں۔"ان سے تمہارے منہ میں آرام آئیگا" اے اللہ!امّی کو آرام دے دے۔

نجانے کتنی دیر نئے زمانے کی ندا اپنی ساس کے لیے سجدوں میں روتی رہی،وجہ رشتوں سے ملنے والی محبّت تھی،احساس تھا،دل کے فاصلوں کو کم کرنے والے میٹھے بول تھے،اور پھر گھٹا ٹوپ اندھیروں کے بعد ایک روشن صبح بھیجنے والا رب،خلوص سے مانگی گئی دعائیں رد نہیں کرتا۔"امّی کی حالت خطرے سے باہر ہے"ماجد نے ندا کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔"کیا میں مل سکتی ہوں؟""تمہیں ہی لینے آیا ہوں،وہ پوچھ رہی ہیں تمہارا"ندا نے آنسو صاف کیے اور امّی کے پاس پہنچ گئی۔"امّاں،میری پیاری امّاں!"
"میرے گھر کی رونق،میری زندگی کی بہار۔"امّاں،آپ کو زیادہ بولنا نہیں ہے"ماجد نے ٹوکا۔اور پھر وہ سوچنے لگا،اللہ نے زندگی کا سکون اور گھر کی رونق ان عورتوں کے ہاتھ ہی رکھا ہے۔اللہ سب کے گھر کی بہار سلامت رکھے. آمین