توہینِ رسالت ؐ کی سزا کے لیے عالمی قانون بنایا جائے- حاجی محمد لطیف کھوکھر

دنیا کی 8 ارب کی کل آبادی میں تقریباً 2ارب مسلمان بستے ہیں، یعنی دنیا میں تقریباً 52فیصد لوگوں کا یہ ایمان وعقیدہ ہے کہ خالق کائنات کے بعد سب سے افضل اور سارے نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کے نام پر جان ومال ووقت قربان کرنے میں دونوں جہاں کی کامیابی پوشیدہ ہے۔چند روز قبل فرانس کے ایک اسکول ٹیچر نے ذات اقدس ؐ کا کارٹون کلاس روم میں بنا کر گستاخی کا مرتکب ہوا ۔

سوال یہ ہے کہ اْس ٹیچر کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے پیشوا کا کارٹون بناکر درسگاہ میں بچوں کو دیکھائے جبکہ ان میں مسلم بچے بھی شامل ہوں۔ ملعون استاد کی اس مذموم حرکت کے خلاف غصہ آنا فطری بات تھی، چنانچہ ایک طالب علم نے اس کو قتل کردیا۔ جس کو پولیس نے گولی مارکر قتل بھی کردیا۔ بعد ازاں گستاخ رسول ؐ مقتول استاد کو نہ صرف اعلیٰ ترین ملکی اعزاز سے نوازا گیا بلکہ آخری نبی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کارٹونوں کو سرکاری عمارتوں پر چسپاں کیا گیا، جس کے نتیجہ میں پوری دنیا کے مسلمانوں میں فرانس کی موجودہ حکومت کے خلاف غم وغصہ پھوٹ کر باہرآ ٓگیااور مسلمانوں نے فرانسیسی اشیاء کے بائیکاٹ کی آوازیں بلند کرنا شروع کردیں۔ دنیا کے کسی بھی مذہب کے پیشوا کے خلاف اس نوعیت کا قدم اظہار خیال کی آزادی نہیں بلکہ کھلم کھلا دہشت گردی ہے کیونکہ ایسی حرکت سے دنیا میں چین وسکون کے بجائے نفرت، عداوت اور دشمنی پیدا ہوگی اور یہی تو دہشت گردی ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ مسلمان اپنے نبی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق شان میں ادنی سی گستاخی برداشت نہیں کرسکتا۔ مسلمان ہی نہیں بلکہ کسی بھی مذہب کے لوگ اپنے پیشواوئں کے خلاف اس نوعیت کی پوسٹ برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔

اس سے قبل بھی سید البشر ونبیوں کے سردار حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف گستاخانہ کلمات کہے گئے تھے۔ ایسے لوگوں کو جرم کے کٹہرے میں کھڑا کرکے ان کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے کیونکہ اس طرح کے واقعات سے امن وامان کے بجائے افراتفری، عدم رواداری اور عدم تحمل میں اضافہ ہی ہوگا، جس سے دنیا میں ترقی کے بجائے عدم استحکام پیدا ہوگا، لوگوں میں نفرت اور عداوت پیدا ہوگی۔اکتوبر 2018 ء کو یورپی یونین کی عدالت برائے انسانی حقوق نے بھی اپنے تاریخ ساز فیصلہ میں پوری دنیا کو بتایا کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی دوسرے نبی کی شان میں توہین آمیز بات کہنا یا لکھنا آزادی رائے نہیں، بلکہ اس سے لوگوں میں نفرت وعداوت پیدا ہوتی ہے اور اس طرح کے واقعات سے دنیا میں امن وامان کے بجائے عدم رواداری اور عدم تحمل میں اضافہ ہی ہوگا۔ تاریخ شاہد ہے کہ دین اسلام نے غیر مسلموں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنے کی درخشاں روایات قائم کی ہیں۔ ایک مرتبہ آپ ؐ کے سامنے ایک یہودی کا جنازہ گزرا تو آپ ؐ اس کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ صحابہ کرام ؓ نے پوچھا کہ غیر مسلم کے لیے ایسا احترام کیوں؟ تو آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: کیا وہ انسان نہیں ہے؟ (بخاری) لیکن جس طرح مذہب اسلام میں دیگر مذاہب کے پیشواؤں کی توہین کرنے کی اجازت نہیں ہے، اْسی طرح پور ی انسانیت کے نبی حضرت محمد ؐ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں ہے خواہ اْس کا مرتکب مسلم ہو یا غیر مسلم۔ مسلمان اپنے نبی کے احترام کے ساتھ دیگر انبیاء کرام کا مکمل احترام کرتا ہے بلکہ قر آن وحدیث کی روشنی میں کسی بھی شخص کے کامل مؤمن ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ آخری نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ دیگر انبیاء کرام پر بھی ایمان لائے، جبکہ دیگر آسمانی کتابوں کو ماننے کا دعویٰ کرنے والوں کی مذہبی تعلیمات کے مطابق حضرت محمد ؐ کو نبی ماننے پر اْن کے مذہب سے ہی نکل جاتا ہے۔

اس سے قبل ہا لینڈ حضرت محمد مصطفی ؐ کی شخصیت سے متعلق کارٹون بنانے کا مقابلہ منعقد کرنا چاہتا تھا لیکن مسلمانوں کے پر امن احتجاج کے بعد اسے اپنے فیصلے سے رجوع کرنا پڑا۔ مذہب اسلام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق اس نوعیت کا کوئی عمل کرنا تو درکنار اس کا ارادہ کرنا بھی غلط ہے، چنانچہ ایک مسلمان یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جن کو عیسائی حضرات اپنا پیشوا مانتے ہیں یا حضرت موسیٰ علیہ السلام جنہیں یہودی اپنا پیشوا تسلیم کرتے ہیں، کہ اْن کے متعلق کوئی غلط بات بھی اْن کی طرف منسوب کی جائے چنانچہ عملی طور پر پوری دنیا میں ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ملتا کہ جس میں کسی مسلمان نے مسیحی یا یہودیوں کے پیشوا کی شان میں گستاخی کی ہو۔ جو واقعات بھی وقتاً فوقتاً پیش آتے ہیں وہ صرف اور صرف آخری نبی حضرت محمد مصطفی ؐ کے متعلق آتے ہیں، لہٰذا عالمی برادری کو چاہئے کہ توہین رسالت کے مرتکبین کی سزا کے لیے سخت قانون بنائے تاکہ اظہار رائے کے نام پر حضرت محمد ؐ کی شان میں گستاخی کا سلسلہ بند ہو۔۔ سوال یہ ہے کہ کسی شخص کی ہتک عزت کرنے والے کو قانوناً مجرم تسلیم کیا جاتا ہے، تو مذاہب کے پیشواؤں اور خاص طور پر انبیاء کرام کے لئے یہ حق کیوں تسلیم نہیں کیا جارہا ہے۔ اور مذہبی رہنماؤں کی توہین وتحقیر کو رائے کو آزادی رائے کہہ کر جرائم کی فہرست سے نکال کر حقوق کی فہرست میں کیسے شامل کیا جارہا ہے؟ یہ آزادی رائے نہیں بلکہ صرف اور صرف اسلام مخالف تنظیموں اور حکومتوں کی انتہاپسندی اور فکری دہشت گردی ہے۔

اسلام نے ہمیشہ دنیا میں امن وسلامتی قائم کرنے کی ہی دعوت دی ہے۔ پوری امت مسلمہ متفق ہے اور دیگر مذاہب بھی اس کی تایید کرتے ہیں کہ حضرات انبیاء کرام کی توہین وتحقیر سنگین ترین جرم ہے۔ اس لئے کہ اس میں مذہبی پیشواؤں کی توہین کے ساتھ ساتھ ان کے کروڑوں پیروکاروں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور امن عامہ کو خطرے میں ڈالنے کے جرائم بھی شامل ہوجاتے ہیں، جس سے اس جرم کی سنگینی میں بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ قرآن وسنت اور دیگر مذاہب میں اس کی سزا موت ہی بیان کی گئی ہے کیونکہ اس سے کم سزا میں نہ حضرات انبیاء کرام کے احترام کے تقاضے پورے ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کے کروڑوں پیروکاروں کے مذہبی جذبات کی جائز حد تک تسکین ہوپاتی ہے۔ ہاں یہ بات مسلم ہے کہ موت کی سزا دینے کا اختیار صرف حکومت وقت کو ہی حاصل ہے کیونکہ عام آدمی کے قانون کو ہاتھ میں لینے سے معاشرہ میں لاقانونیت اور افراتفری کو ہی فروغ ملے گا۔ لہٰذا ہر مسلمان کے دل میں حضور اکرم ؐ کی محبت دنیا کی ہرچیز سے زیادہ ہے کیونکہ شریعت اسلامیہ کی تعلیمات کے مطابق ہر مسلمان کا حضور اکرم ؐ اور آپ ؐکی سنتوں سے محبت کرنا لازم اور ضروری ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */