ویک اپ کال - افشاں نوید

کرونا وائرس کی پاکستان میں تشخیص کے بعد، کراچی میں مریض کا پایا جانا اس کے بعد جو شہر بھر میں خوف کی فضا ہے، تعلیمی ادارے بند کیے جارہے ہیں۔احتیاطی تدابیر بتائی جارہی ہیں۔گھروں میں صرف ایک موضوع ہے۔ میڈیا پر ایک ہی بحث ہے۔

اس وقت ہم سورۃ قریش کا فہم حاصل کرسکتے ہیں ۔ بظاہر ہم سے کچھ نہیں چھنا،کوئی سونامی نہیں جس کو کیمروں کی آنکھ دیکھ رہی ہو۔ایک مائیکرو اسکوپک جرثومہ نے ہم سے نیندیں چھین لیں۔ خوف دل کی اسی کیفیت کا نام ہے کہ پھر نہ انسان کو گھر اچھا لگتا ہے نہ دوست نہ کھانا پینا۔

ڈپریشن ایسی چیز ہے جو انسان کو حاضروموجود سے بیزار کر دیتی ہے۔ ہم بھی اس وقت آٹے،شکر اور مہنگائی کو بھول کر صرف "کرونا" ہی کی بات کر رہے ہیں،اسی موضوع کی شیئرنگ کر رہے ہیں، پوسٹیں ڈال رہے ہیں ۔یہ خوف کیا چیز ہوتا ہے اور جو خوف سے نجات دیتا ہے وہ ہی خوف میں مبتلا بھی کرتا ہے تو اس کی کوئی تو وجہ ہوگی کیونکہ اللہ نے اپنے احسانات کے ضمن میں تذکرہ کیا کہ"ہم نے اہل قریش کو بھوک اورخوف سے نجات دی۔" اگر ہمیں من حیث القوم ایک خوف میں مبتلا کیا گیا ہے اس کی کوئی تو وجہ ہو گی کیا یہ "ویک اپ کال" نہیں ہے؟کیا آپ بھی بیدار ہونے کا وقت نہیں آیا؟

کیا ہم حکومتی ذمہ داریوں اور بچاؤ کے طریقوں پر ہی بات کرتے رہیں گے؟سائنسی توجیہات تلاش کرتے رہیں گے؟اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسمان پر گہرے بادل دیکھتے تھے یا تیز آندھی چلتی تھی تو اپنے اصحاب کے ساتھ مسجد کا رخ کرتے تھے۔آپ نے بارش کی دعا سکھائی۔کسوف وخسوف کی امت کو تعلیم دی کہ ہم مادہ پرستوں کی طرح مادے کی بحثوں میں ہی نہ الجھے رہیں۔ ہمارے شعور کی سطح کو بلند کیا کہ ہم جانیں کہ ...
وہی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے - وہی خدا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہی خدا ہے
اگر ہمیں آزمائش میں وہ خدا نظر نہیں آتا تو ہماری اور ایک منکر حق کی نگاہ میں کیا فرق ہے جس کی طرف اقبال نے اشارہ فرمایا کہجو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کوئی طبعی عوامل جاننے والا نہ تھا۔ جب طاعون یا کسی بیماری کی وبا عام ہوتی تھی تو آپ علاج پر زور دینے کے ساتھ دعا وظائف بھی بتاتے تھے۔

علاج بھی سنت نبویّ ہے لیکن ساتھ ساتھ پلٹنے والا دل جو صرف سائنسی توجیہات پر مطمئن نہ ہو جائے۔ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رجوع کرتے تھے، مسجد کا رخ کرتے تھے اور ذکر کی تلقین کرتے تھے تو آپ سے زیادہ کون صاحب فہم پیدا ہوسکتا ہے قیامت تک؟؟ لہذا اس کو بیداری کا لمحہ بنایا جائے. اب مسجدیں بھری ہونا چاہئیں۔اب فجر کے وقت گھر کے دروازے کی کنڈی کھلنا چاہئیے،اب ہر گھر کو قرآن مرکز ہونا چاہیے جہاں قرآن کھولا جائے اور اہل خانہ کے ساتھ پڑھا جائے۔ یہ کرونا جس کی کوئی ویکسین دریافت نہیں ہوئی، جو سانسوں کے ذریعے منتقل ہو رہا ہے، جو اتنا خطرناک ہے کہ ممالک اپنی سرحدیں بند کر رہے ہیں ۔سعودی عرب نے عمرہ زائرین پر پابندی لگادی ہے۔یہ بہت خوفناک وائرس ہے۔یہ خوف سورہ قریش والے خوف کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یہ پلٹنے کی گھڑی ہے، معرفت کی گھڑی ہے۔ہم کیا حاصل کرتے ہیں ان لمحوں سے کیا کھوتے ہیں اور کیا پاتے ہیں؟؟اللہ اس آزمائش کو ہمارے لیے معرفت کا ذریعہ بنا دے۔اللہ پاک آپ ہمیں اپنے غضب اور عذاب سے ہلاکت میں نہ ڈالیے۔ہمیں اپنی عافیتوں کی چادر میں ڈھانپ لیں۔آمین یا رب العالمین۔