بی این پی غیر جمہوری قوتوں کیساتھ شانہ بشانہ ہے -گہرام اسلم بلوچ

اصل میں اس وقت بات کسی بھی جماعت کی ساتھ دینے یا نا دینے کی نہیں ہے بلکہ اپنی اصولی سیاست کیساتھ قائم رہنے کی ہے۔ شاید کوئی یہ سوچ رہا ہو گا کہ میں وقتی طور پر اسٹیبلشمٹ مخالف بیانیے کو اپنا کر کسی بھی مقام پر ریلیف ملنے پر منحرف کیمپ میں شریک ہوکر اپنی وافاداریاں تبدیل کرونگا مگر اس پوری صورتحال میں بہت سی سیاسی جماعتوں کا روز اول سے جمہوریت اور اپنی اصولوں پہ قائم رہنے پر کسی بھی صورت میں اپنے بیانیے کو تبدیل کرنے میں سوچ بھی نہیں سکتے ہیں کیونکہ اُنکی پوری سیاسی تاریخی جدوجہد عوامی و پارلیمان کی بالادستی پر قائم ہے وہ ہر دور میں جمہوریت اور جمہوری قوتوں کیساتھ کھڑے رہے ہیں ۔

اس حوالے سے بلوچستان کی سیاست اور اسکی اسمبلیوں کو تجربہ گاہ بنانے میں اقتدار اور طاقت کے پیاسے لوگوں کیساتھ ملکر بلوچستان کی عوامی و جمہوری جدوجہد کو کمزور کرنے میں طرح طرح کے حربے استعمال کئے گئے ، مگر جمہوری انداز میں جمہوری و سیاسی قوتوں کی جانب سے شدید سیاسی مذاحمت کا سامنا کرنا پڑا ۔ ملکی سطح پر ہر آمر دور میں جمہوریت کو کمزور کرنے میں سیاسی جماعتوں زیر عتاب کرنے اور انکی قیادت پہ غداری کے مقدمات چلائے گئے تو بلوچستان میں سب سے زیادہ سیاسی مذاحمت ہوئی۔ نیشنل عوامی پارٹی سے لیکر آج کے سیاسی قیادت تک ( سیولین سُپرمیسی) کے لیے جمہوری قوتوں کےساتھ شانہ بشانہ اپنی اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کے حوالے سے نیشنل پارٹی کا روز اول سے ایک واضع موقف تھی۔ اور نیشنل پارٹی نے ہر دور میں اپنے ہم خیال ملک گیر سیاسی و جمہوری جماعتوں کیساتھ جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لیے ایک دوسرے کیساتھ شانہ بشانہ رہے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے موڑ بھی آئے کہ نیشنل پارٹی کووقتی طور پر اکیلا ہونا پڑ ا نکے ساتھ چلنے والے کمزور ہو گئے مگر انکی قیادت اپنی اصولوں پہ قائم رہے ۔

اس ملک کے حکمرانوں نے جب بھی اپنی سیاسی مفادات کی خاظر ضرورت پڑی تو بلوچستان اور بلوچستان کے پارلیمنٹیرین اور پارلیمنٹ کو دنیا کے سامنے تماشہ بنانے میں ذرا بھی دیر نہیں کی ۔اور جب بھی ضرورت محسوس کی تو راتوں رات سیاسی جماعتیں بنانے میں اقتدار اور طاقت کے پیاسے نام نہاد روایتی سیاستدانوں نے اپنی وفادریاں تبدیل کرنے میں بھی ذرا تاخیر نہیں کی۔ بلوچستان کی جمہوری سیاست کو سب سے بڑی داغ اُس وقت لگا جب غیرجمہوری طریقے سے بوچستان میں سردار ثنااللہ زہری کی حکومت کے خلاف ان ہاؤس تبدیلی کے کے لیے عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لیے قدوس بزنجو کو مین کردار سونپا گیا تو عین اُنکے مطابق اپنے گیم کامیاب ہو گئے ۔ اور جمہوریت کا جنازہ نکالا۔

اسی دن بلوچستان کے مختلف سیاسی جماعتوں نے سیاسی مذاحمت کا راستہ اختیار کیا اور اس کے فورا بعد سینیٹ چئیرمین کے الیکشن میں جس طرح پولیٹیکل انجینئرنگ کے ذریعے جناب صادق سنجرانی کو چئیرمین سینیٹ منتخب کیا ۔ اُسکے فورا ردعمل میں نیشنل پارٹی کے اُسوقت کے صدر سینیٹر میر حاصل خان بزنجو نے اپنے اپنی جماعت کی موقف اور بیانیے کو بیان کرتے ہوئے ان تمام صورت حال پر پارلیمان اور جمہوری اداروں کیساتھ مذاق کرار دیا۔

اس کے بعد جب سینیٹ چئیرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی تو اُسوقت کے متحدہ اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار میر حاصل بزنجو صاحب تھے چونکہ اس ملک میں المیہ یہی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنما مشکل وقت میں کم پارٹی پیج پہ ہوں گے کیونکہ اُنکو تھوڑنے میں طرح طرح کی حکمت عملی اپنائی جاتی ہے اسی طرح انہوں نے اس باز بھی عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنانے میں وہی کیا جو وہ کرتے آرہے تھے۔ اُسوقت بھی میر حاصل بزنجو کا انتہائی سخت اور موقف اختیار کرتے ہوئے تمام کرداروں کو آشکار کی۔

حالانکہ اگر بنیادی طور پر دیکھا جائے تو یہی بیانیہ نیشنل عوامی پارٹی سے لیکر نیشنل پارٹی تک کا رہا ہے چونکہ اسوت پنجاب نے اہمت کی اور متحدہ اپوزیشن کے نام پارلیمان اور سول سُپرمیسی کے لیے ایک صف میں تھے تو انہیں تھوڑنے میں حکمران بہت جلد کامیاب ہوئے۔ مگر نیشنل پارٹی اور اسکے ساتھ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی، جماعت اسلامی اور جماعت اسلامی اپنے اصولوں پہ قائم رہے ۔

کوئی مانے یا نا مانے اسوقت ملکی سیاست میں نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو اپنے اصولوں پہ قائم رہنے اور جماعت کے بیانیے کے حوالے سے انہیں بے حد مقبولیت ملی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ نیشنل پارٹی کی قیادت کا روز اوّل سے ایک ہی بیانیہ تھا کہ سول سُپرمیسی ، پارلیمان اور جمہوری اداروں کی مضبوطی اور طاقت کا سر چشمہ عوام ہے۔ وہ اپنے واضع سیاسی لائن اور وژن پہ ہمیشہ ثابت قدمی کیساتھ قائم رہا۔ نیشنل پارٹی کی سیاسی بصیرت اور جماعت کی فعالیت اور مقبولیت کی وجہ سے انکی حریف جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل ہمیشہ بے چین رہا ہے کیونکہ نیشنل پارٹی نے روز اوّل سے نوجوانوں کو جزباتی نعروں سے دور رہنے کی تلقین کی ہے بی این پی اور اسکی قیادت نے ہمیشہ اپنے جزباتی نعروں سے نوجوانوں کے جزباتوں پہ موج کرنے کی جو حکمت عملی اپنائی تھی اس ہمارا بنیادی اختلاف تھا۔

کھبی چھ نکات اور لاپتہ افراد کے مسلے کو اپنے سیاسی مقاصد کی خاطر استعمال کر کہ وقتی طور پر شہرت حاصل کی۔حال ہی میں جب آرمی ایکٹ ترمیمی بل میں قانون سازی کے لیے پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی نے متحدہ اوپزیشن کا ساتھ چھوڑ کر خود کو داغدار کیا۔ اسی اثنا میں تمام سیاسی حلقوں کی نظریں بلوچستان پہ تھی کہ اس بار بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کا کیا رول ہوگا ، وہی ہوا جو حسب ِ معمول میں ہوتا رہا ۔ مینگل صاحب نے پر اسرار طریقے سے آرمی ایکٹ کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اپنے بے شمار نظریاتی و فکری سیاسی کارکنوں کی جزباتوں پہ کھیلا۔ اور اسکی اس عمل سے ملک گیر سطح پر انکی سیاسی قد و خال پہ شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور سوشل میڈیا پر انکے حامی بھی انکے اس عمل کی وجہ سے شدید مایوسی کا شکار ہیں اور ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔

آرمی ایکٹ بل کو ووٹ کرنے کے بعد سردار اختر جان مینگل صاحب کا ایک اور موقف سامنے آرہا ہے کے اس کے بدلے میں ہم گوادر کے حوالے سے قانون سازی کریں گے ۔ امید یہی ہے کے ایک بار پھر عوام اور اپنے ہمدردوں کو اسی نعرے کے ذریعے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرے گی مگر یہ ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا کیونکہ وہ جو قانون سازی میں شریک ہوتے ہیں وہ ابھی تک اٹھارویں ترمیم کو شیخ مجیب کے نکات سے زیادہ خطرناک تصور کرتے ہیں۔ اگر واقعی سردار صاحب گوادر کے حوالے سے قانون سازی میں پرامید ہیں تو وہ عوام کو ایک ٹائم پیریڈ دیں تاکہ اس نعرے کے تحت مزید مظلوم عوام کو گمرہ نہ ہونا پڑے۔ سردار صاحب نے جس پر اسرار طریقے سے قدم بقدم غیرجمہوری قوتوں کا ساتھ دیا وہ اب عیاں ہوگیا اور تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔

اب نا وہ اس کا دفاع کرسکتے ہیں اور نا ہی انکے نظریاتی سیاسی کارکن جو اس امید کیساتھ بی این پی کیساتھ شانہ بشانہ تھے کہ کچھ کر کے دیکھائے گی مگر میں پچھلے چند دنوں سوشل میڈیا پر انکے ہمدردوں کا ردعمل اور مایوسی کو محسوس کرتے ہوئے بہت تکلیف ہوتی ہے کہ فکری ساتھیوں( سنگتوں) کے جزباتوں پہ موج کرنا کوئی ان سے سیکھے۔۔۔ اب اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ بی این پی مینگل غیر جمہوری قوتوں کیساتھ شانہ بشانہ ہوکر عوام کو مسلسل گمرہ کرنے کی کوشش کر رہئ ہے۔