اللہ کے نام پر پانی دے دو - قدسیہ ملک

"قریشی صاحب پانی آیا آپ کے گھر؟"نہیں کہاں آیا آج 30 روز ہوگئے۔پانی کی ایک بوند نہیں آرہی نلکوں میں۔نہانے دھونے وضوکرنے تک کاپانی ختم ہوتاجارہاہے۔ہر گلی سے ٹینکر نکل رہا ہے۔ہماری تو ٹینکرجتنی استطاعت بھی نہیں۔خدا خیر کرے"قریشی صاحب اکرم صاحب کو بتاتے ہوئے روہانسے ہوگئے۔"آپ پریشان ناہوں اللہ کرم کرے گا۔ان شاءاللہ جلد پانی آجائے گا"۔

اکرم صاحب جلدی سے بولے اور گھر کے لئے روانہ ہوگئے مبادا وہ دوبارہ واٹر بورڈ کو بددعائیں دیناناشروع کردیں۔ حقیقت میں وہ خود بھی واٹر بورڈ کی مجرمانہ غفلت پر مسلسل پریشان تھے۔اسی مسلسل پریشانی کیوجہ سےخرابی صحت کے باعث ان کو ڈاکٹر نےٹینشن لینے کو منع کیا ہوا تھا۔ اس بات سے ہم بخوبی واقف ہیں کہ انی قدرت کا ایک انمول تحفہ اور ہماری زندگی کا انتہائی اہم جزو ہے۔ پانی ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ہمارےپیارے نبی ﷺ نے فرمایا کہ پانی پلانا بہترین صدقہ ہے۔ بی بی سی کے مطابق واشنگٹن ڈی سی کے تھنک ٹینک ورلڈ ریسورسز انسٹیٹیوٹ (ڈبلیو آر آئی) کے مطابق پاکستان سمیت دنیا میں ایسے تقریباً 400 علاقے ہیں جہاں کے رہنے والے شدید آبی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی آبادی، گوشت خوری میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی اقتصادی سرگرمیوں نے دنیا کے پانی کے ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پانی کی کمی لاکھوں لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دے گی اور اس کی وجہ سے کشیدگی اور سیاسی عدم استحکام پیدا ہو گا۔ چلی سے لے کر میکسیکو تک، افریقہ سے لے کر جنوبی یورپ کے سیاحتی مقامات تک آبی مسائل میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ آبی مسائل سے درپیش علاقوں یعنی ’واٹر سٹریسڈ‘ علاقوں کا تعین اس معیار پر کیا جاتا ہے کہ وہاں موجود پانی کے وسائل کے مقابلے میں وہاں زیرِ زمین ذخائر اور دیگر سطحی ذخائر سے کتنا پانی استعمال کیا جا رہا ہے۔

پڑوسی ملک اور پاکستان کاازلی دشمن بھارت بھی مسلسل سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان جانے والے دریاؤں کا پانی روک کر آبی جارحیت کا مرتکب ہورہا ہے ۔ لیکن عالمی برادری اس سلسلے میں بالکل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے ۔ کشمیر میں بھارت نے متعدد نئے بند تعمیر کیے اور مسلسل کر رہا ہے ۔ کشمیر پر قبضہ اوربھارتی آئین کی شق 370کو سبوتاژ کرنا ، کشمیریوں کی نسل کشی اور 48 روز سے کشمیری مسلمانوں پر کرفیو اور مظالم کے پہاڑ توڑنا بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں ۔ ویسے بھی بھارت زمین سے پانی کھینچ کر استعمال کرنے کے معاملے میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے ۔ یہاں پینے کے پانی کی 80 فیصد ضرورت اسی سے پوری کی جاتی ہے ۔ حکومت پاکستان نے بھی اقوام متحدہ کی مدد سے بھارتی بند بازیوں پر توجہ دلائی ہے ۔ لیکن یہ بھی ایک المیہ ہے کہ اقوام متحدہ سوائے زبانی دعوؤں اور وعدوں سے آگے نہیں بڑھ پا رہی ۔ وطن عزیز پانی کی قلت کے لحاظ سے دُنیا کے 15بدترین ممالک میں شامل ہوچکا ہے آج کالا باغ ڈیم ملکی ترقی کے لیے نہیں بلکہ ملکی زندگی کے لئے ناگزیربن چکا ہے ۔ فرینڈ زآف پاکستان ڈیموکریٹک پاکستان ( FOPDP ) نے کچھ عرصہ پہلے کالا باغ ڈیم پراجیکٹ کا ترجیحی بنیادوں پر ازسرنوجائزہ لینے کی تجویز دِی تھی ۔

افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ پچھلے 50 برسوں میں پاکستانی حکومتیں آبی منصوبوں میں صرف اور صرف دو چھوٹے چھوٹے اضافے کرپائی ہیں جن میں صرف ’غازی بروتھا‘اور’ہائیڈروالیکٹریسٹی‘ کی گنجائش میں اضافہ سرفہرست ہے جو آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے مون سون کی بارشوں میں لاکھوں کیوسک پانی سمندر کے پیٹ میں اُتر جاتا ہے اور ہم نے کالا باغ ڈیم کو سیاست کی سُولی پرچڑھا رکھا ہے۔ صوبہ سندھ کے بارہ لاکھ سے زائد آبادی والے صحرائی علاقے تھرپارکر میں زندگی کا تمام تر انحصار مون سون میں ہونے والی بارش کے پانی پر ہے، کیونکہ یہاں قلت آب کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کبھی بھی حکومتی سطح پر خاطرخواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔یہ علاقہ گزشتہ دنوں شدید خشک سالی کا شکار ہوا جس کے باعث سو سے زیادہ انسان اور سینکڑوں کی تعداد میں مویشی لقمہ ہلاک ہوئے۔ سندھ کے دارلحکومت اور پاکستان کے گنجان آبادی والے شہروں میں سے ایک شہرکراچی کی آبادی تو ہر سال بڑھ رہی ہے مگر پانی کی فراہمی کے لئے کوئی خاطر خواہ انتظام تادم تحریر موجود ہی نہیں۔کراچی میں گزشتہ 13 سال سے پانی کی فراہمی میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔کراچی میں یومیہ بارہ سو ملین گیلن پانی کی طلب ہے اور رسد صرف بمشکل پانچ سو ملین گیلن ہے۔ یومیہ 80 ایم جی ڈی حب ڈیم اور باقی کا 420 ایم جی ڈی پانی پیپری سے فراہم کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کراچی کے مسائل کا حل، ناکہ سیاست ! - شیخ خالد زاہد

دوسری جانب اضافی پانی کی فراہمی کا منصوبہ "کے فور" کئی سال سے تاخیر کا شکار ہے۔قیامت خیز گرمی اور اس پر پانی کی قلت سے کراچی کے شہری شدید پریشانی میں مبتلا ہے ۔ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں بلدیہ ٹاون، اورنگی ٹاون، کیماڑی، حسین آباد اور دیگر علاقے شامل ہیں ۔ واٹر بورڈ حکام کے مطابق شہر بھر میں صرف چھ قانونی ہائڈرینڈز موجود ہیں جن کو یومیہ اٹھارہ ایم جی ڈی پانی دیا جاتا ہے۔ وزرات منصوبہ بندی کے سالانہ پلان 14-2013 میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی پانی ذخیرہ کی صلاحیت صرف نو فیصد ہے جبکہ دنیا بھر میں یہ شرح چالیس فیصد ہے۔ اسی طرح فلڈ کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ 2013ء کے مطابق پاکستان کے مشرقی اور مغربی دریاؤں میں سالانہ ایک سو چوالیس ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) پانی آتا ہے جس کا صرف چھیانوے اعشاریہ آٹھ فیصد حصہ صوبوں کے استعمال میں آتا ہے اور بقیہ پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ ڈان نیوز کے مطابق کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ایک ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر نے انکشاف کیا کہ "بحریہ ٹاؤن کراچی کو فائدہ پہنچانے کے لیے ڈملوٹی انٹرسیکشن سے 3 انچ قطر کے چار کنکشن جاری کیے گئے ہیں۔"
یہ کراچی کا پانی ہے، اور اس کا رخ بحریہ ٹاؤن کی جانب موڑا جانا پہلے سے پانی کی کمی کے شکار 2 کروڑ سے زائد آبادی والے شہر کے لیے مزید مشکلات کھڑی کر دے گا، جہاں شہری یا تو ٹینکر مافیا کے ہاتھوں مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں، یا پھر میونسپلٹی کے نلکوں کے سامنے قطاریں بنانے پر۔

محمد سلیم وائس آف انڈیجینیئس کمیونٹی امپاورمنٹ نامی تنظیم کے صدر ہیں۔ یہ کراچی اور اس کے مضافات کے ان مقامی لوگوں کی تنظیم ہے جنہیں اپنی زمینوں سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں۔ محمد سلیم کے مطابق بحریہ ٹاؤن نے انتہائی گہرے کنوئیں کھودے ہیں جس کی وجہ سے علاقے میں پانی کا واحد ذریعہ یعنی زیرِ زمین پانی میلوں تک تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔
12 سال قبل سندھ ہائی کورٹ میں سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ (ایس آئی یو ٹی) اور دیگران کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے 567/2004 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ (جو کہ اب سپریم کورٹ کے جج ہیں) نے نیسلے پاکستان کو NaClass No. 106، دیہہ چوہڑ، ملیر میں پانی کی بوتلیں تیار کرنے کا پلانٹ لگانے سے روک دیا تھا۔
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے توانائی اور آبی امور کے ماہر جہانزیب مراد کے مطابق اگر ہم نے فوری اقدامات نہ کئے تو مستقبل میں ہم تباہی سے دو چار ہو سکتے ہیں۔اس مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’پانی کو ذخیرہ کرنے والے ڈیموں کی استعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ صرف ہم نے ایک ڈیم کی گنجائش کو بڑھانے کی کوشش کی ہے لیکن ہم نئے ڈیموں کے بارے میں نہیں سوچ رہے۔ کالا باغ ڈیم کو ہم نے سیاست کی نظر کر دیا ہے جب کہ بھاشا ڈیم میں کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے اس کے باوجود بھی ہم اس ڈیم کو نہیں بنا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   جماعت اسلامی کراچی، جائزہ لینے میں کیا حرج ہے - حبیب الرحمن

دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیم نہ بننے سے سب سے زیادہ نقصان سندھ اور جنوبی پنجاب کو ہوگا اور سندھ سے ہی سب سے زیادہ ڈیم کی مخالفت کی جاتی ہے۔ ہمیں اس مسئلے پر سب سے پہلے ایک بیانیہ تیار کرنے کی ضرور ت ہے تاکہ ہم لوگوں کو اس حوالے سے آگاہی دے سکیں اور پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے بھی شروع کر سکیں۔‘‘ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے آبی امور کے ماہر عرفان چوہدری کے خیال میں پاکستان میں بارش کا پیٹرن بہت مختلف ہے اور اب اس پیٹرن کے ساتھ گلوبل وارمنگ کا مسئلہ بھی سنگین ہوتا جا رہا، جس کی وجہ سے پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک متاثر ہو رہے ہیں،’’مسئلہ یہ ہے کہ یورپی ممالک کے برعکس ہمارے ہاں مختصر مدت کے لئے زیادہ بارش ہوتی ہے، جو صحیح طرح زیر زمین جذب نہیں ہوتی اور چونکہ ہمارے پانی جمع کرنے کے ذخائر بھی کم ہیں۔ اس لئے ہم اس پانی کا ذخیرہ بھی نہیں کر پاتے جس کی وجہ سے یہ پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ میرے خیال میں بڑے ڈیموں کو تعمیر کرنے کے لئے پہلے ہمیں بہت سے سیاسی مسائل سے لڑنا پڑتا ہے۔ اس لئے ہمیں گوٹھ اور دیہات کی سطح پر چھوٹے اسٹوریج ٹینک بنانے چاہیں، جس سے نہ صرف پانی جمع ہوگا بلکہ زیرِ زمین پانی کی سطح بھی بلند ہوگی، جو بلوچستان سمیت کئی علاقوں میں خطرناک حد تک نیچے جا چکی ہے۔

ہمیں سیلابی نہریں بنانی چاہیں اور اگر مون سون کے دور میں بارش بہت زیادہ ہو اور سیلابی شکل اختیار کر لے تو ان سیلابی نہروں کے ذریعے ایک طرف ہم اپنی فصلوں کو تباہ ہونے سے بچا سکتے ہیں اور دوسری طرف ان نہروں کی بدولت بھی زیرِ زمین پانی کی سطح کو بلند کیا جا سکتا ہے۔‘‘ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے انرجی کے ماہر فیصل بلوچ کے مطابق اس رین پیٹرن کو بہتر کرنے کے لئے شجر کاری بہت ضروری ہے،’’پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے کئی ممالک میں بڑے ڈیموں کی تعمیر کے تجربے ہوئے ہیں لیکن اب کئی ماہرین کا خیال ہے کہ ان بڑے ڈیموں کا نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے۔ اسی لئے دنیا کے کئی ممالک میں ان ڈیموں کو بتدریج ختم کیا جا رہا ہے۔ ڈیموں کے لئے ایک خطیر سرمایہ چاہیے ہوتا ہے جب کہ اس سے سیاسی مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں مصنوعی جھیلیں بنا کر پانی کو ذخیرہ کرنا چاہیے، جس سے نیچرل اکوافر ریچارج ہوگا۔ اس بات کو سب جانتے ہیں کہ جہاں پانی نہیں وہاں زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ لیکن پھر بھی لوگ پانی کی اہمیت کو نہیں سمجھتے یا سمجھنا نہیں چاہتے۔ پانی کے بغیر زندگی ممکن نہیں ۔ آج ہم پانی کی اہمیت کو سمجھ کر پانی کومحفوظ کریں گے۔پانی کابے دریغ استعمال نہیں کریں گےتو کل ہم اپنی آنے والی نسلوں کوایک پرسکوں اور مستحکم مستقبل دے سکتے ہیں۔

Comments

قدسیہ ملک

قدسیہ ملک

قدسیہ ملک شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی میں ایم فل سال اوّل کی طالبہ ہیں۔ مختلف رسائل، اخبارات اور بلاگز میں لکھتی ہیں۔ سائنس، تعلیم، سماجی علوم، مذہب و نظریات دلچسپی کے ایسے موضوعات ہیں جن پر آپ قلم اٹھاتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.