خالص "جماعتیے" کے جے این یو کے دورے پر تاثرات - تزئین حسن

ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن کے نائب مدیر محترمی سلیم منصور خالد کے جواہر لعل یونیورسٹی کے دورے کے تاثرات اس لیے اہم ہیں کہ وطن عزیز میں اس بات کا شعور بہت کم پایا جاتا ہے کہ چین اور ہندوستان جو ہمارے ساتھ آزاد ہوئے تھے، علم اور تحقیق کے میدان میں ہم سے کتنے آگے ہیں۔ حالانکہ کثیر آبادی کے با عث ان دونوں ممالک کے مسائل ہم سے بہت زیادہ تھے۔ یہاں میں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ان معاشروں میں کوئی خرابیاں نہیں ہیں۔

چین اور بھارت علم اور تحقیق میں اب آسمان پر ہیں اور اسی سبب ان کا شمار دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں میں ہوتا ہے۔ جب ہم کشکول لیکر کھڑے ہیں وہاں یہ دونوں اس وقت دنیا کی بڑی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتی ہیں اور ان کا شمار قرض دینے والوں میں ہوتا ہے۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے طرز پر یہ بھی ہم جیسے غریب ممالک کے فیصلوں پر اثر اندازہ ہو رہے ہیں، لیکن ان کا انسانی حقوق کا ریکارڈ ہمارے مقابلے میں بہت خراب ہے۔ کشمیر سمیت بھارت کی کئی ریاستوں میں آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں جنھیں سختی سے کچلا جا رہا ہے۔ چین تبت، ہانگ کانگ، تائیوان اور خود اپنی سر زمین پر انسانی حقوق کی بےانتہا خلاف ورزیوں میں ملوث ہے، اور اس کی اپنی عوام شدید بے چینی کا شکار ہے- مشرقی ترکستان (سنکیانگ) میں جو مظالم روا رکھے جا رہے ہیں، وہ فرعون کی بچہ کشی، ہٹلر کے ہولو کوسٹ، ازابیلا اور فرڈیننڈ کے اسپینش inquisition، سب کو مات کر رہا ہے۔ بھارت میں جہیز، ماں کے پیٹ کے اندر، اور پیدائش کے بعد بچیوں کے قتل، گھریلو تشدد، بہوؤں کو جہیز نہ لانے کے جرم میں زندہ جلانا عام ہے۔ اتفاق سے میں اس وقت وطن عزیز میں جنسی ہراسانی کے مضمون پر کام کر رہی ہوں۔ اس حوالے سے بھی ہمارا بھارت سے کوئی مقابلہ نہیں۔ دہلی کو اس وقت ریپ کیپیٹل آف دی ورلڈ قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان دونوں ممالک کی علم اور تحقیق کی ضرورت کو محسوس کر کہ پچھلے ستر سال میں جو طاقت حاصل کی ہے اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ جبکہ ہمارے ہاں ابھی تک دانش وران تک اس بات پر متفق نہیں کہ تحقیق عیاشی ہے یا اس دنیا میں بقا کی بنیادی ضرورت۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک اور سیاہ دن ؟ نذیر ناجی

ذیل کی تحریر سلیم منصور خالد کی ہے:
''جواہر لال یونی ورسٹی، دہلی میں دو بار گیا ہوں اور بیس بار جانے کو جی چاہتا ہے۔ وہاں علم اور جستجو کی لپک، طبقاتی دھونس سے آزادی، اور حریت فکر کی لہروں نے دیر تک مسحور کیے رکھا۔ اس مرکز دانش جیسا ماحول نہ لمز میں ہے، نہ بیکن یونی ورسٹی اور نہ جی سی یونی ورسٹی میں۔ فیشن اور کپڑوں کے جوڑ جڑاؤ کی دھونس سے بے نیاز، جنوری کی سردی اور ہوائی چپلوں میں سادہ جرابوں سے لپٹے پاؤں، مگر کم و بیش ہر طالب علم لٹریچر، فلسفے، تاریخ اور سماجی علوم کا جویا۔

لڑکا ہو یا لڑکی کوئی کمپلیکس نہیں، زیادہ تر لیفٹ سے وابستہ ، انسانی درد سے آشنا چہرے۔ لیفٹ بھی ایسا کہ جس میں اعتدال ہے، وقار کی روایت غالب ہے۔ جھوٹ اور پراپیگنڈے کی کثافت نہ ہونے کے برابر۔ لگتا ہے کہ لیفٹ کی یہ روایت اسی یونی ورسٹی کا پودا، پھول اور پھل ہے۔ آٹے میں نمک کے برابر اونچی جاتی کے طالب علم، وگرنہ عظیم اکثریت پسے طبقے اور نچلی قوموں کے لڑکے لڑکیاں۔

لائبریری ایسی کہ ایک بھی نشست خالی نظر نہ آئی، خاموشی ایسی کہ سوئی گرے تو پتہ چل جائے۔ ایسی لائبریری میں جی یہی چاہا کہ ان نوجوان اسکالرز کے چہروں پر فکر مندی اور احساس ذمہ داری کی لکیروں کو اپنی آنکھوں میں جذب کر لوں۔

کاش ، میرے ملک کی بھی کوئی ایسی یونی ورسٹی ہو، جس میں اصلی پاکستان نظر آئے۔ مگر یہاں پر جہل اور جعل نے ہماری درس گاہوں سے دانش کی قدراور علم کی مٹھاس کو چاٹ لیا ہے۔ کوئی ہے کہ جس کے در پر دستک دی جاسکے؟ کوئی ہے کہ جس سے التجا کی جا سکے۔''

اس تحریر پر حسب حال کے جنید سلیم کا تبصرہ حسب ذیل ہے: ''دنیا کو دیکھنا ہو تو بسا اوقات پہلے سے لگی عینک کو تبدیل کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ خالص "جماعتیے" سلیم منصور خالد نے نہرو یونیورسٹی کے دو دوروں کے بعد جو محسوس کیا، وہ مکمل ایمانداری سے تحریر کر کے ایک شاہکار تخلیق کر دیا۔''

حسب توقع سلیم منصور صاحب کو سوشل میڈیا پر ٹرول کیا جا رہا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کی نیت صاف ہے۔ راقم کے شیئر کرنے کی اجازت پر ان کا کہنا تھا کہ کوئی حرج نہیں، اس میں یہ پہلو بھی شامل کر سکیں تو مناسب ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   اور پاکستان ٹوٹ گیا - طلعت نفیس

"میں نے نہ یہ کہا ہے کہ ہندو بن جاؤ، نہ یہ کہا ہے کہ کمیونسٹ بن جاؤ۔ بس یہ کہا ہے کہ یونی ورسٹی کو یونی ورسٹی ہونا چاہیے، اور طالب علم کو طالب علم۔
اور یہ چیز استاد کے ذریعے بنتی ہے، بلڈنگ یا طالب علم سے نہیں، یہ دونوں لازمی مگر ثانوی چیزیں ہیں اور استاد ہمارا غائب ہے۔"

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ "ایسا تعلیم و جستجو کا ماحول تو میں دینی مدرسوں میں بھی دیکھنا چاہتا ہوں۔ جہاں اول تو لائبریری ہوتی نہیں، ہو تو استعمال نہیں ہوتی۔ (گنتی کی چند دینی جامعات میں لائبریریاں ہیں، مگر استعمال کم ہی ہوتا ہے۔)"

ہمارا بھارت سے تعلق کچھ ایسا ہے کہ ہم میں سے بہت سن کو یہ باتیں بہت بری محسوس ہوئیں ہیں۔ خصوصاً کشمیر کے حالیہ حالات میں۔ لیکن میرے نزدیک مسئلہ کشمیر کے تناظر میں سلیم منصور خالد کی تحریر اس لیے بھی اہم ہے کہ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ بھارت نے اتنی طاقت کیسے پکڑی کہ دنیا سے ڈرے بغیر آرٹیکل ٣٧٠ کو یکطرفہ طور پر آئین سے نکال دیا، اور اسے دنیا کے رد عمل کا کوئی خوف نہیں۔

اب بھی ہم سمجھنے پر راضی نہیں اور صرف ریلیاں نکال کر خوش ہو رہے ہیں تو آگے بھی کسی خیر کی توقع نہیں۔ دنیا میں بقا کے لیے دنیا کو سمجھنا ضروری ہے اور دنیا کو سمجھنے کے لیے تحقیق۔ اسی لیے قرآن بار بار غور و فکر کا حکم دیتا ہے۔تحقیق مغرب کی پیروی نہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے، "حکمت مومن کی میراث ہے جہاں سے ملے حاصل کرو۔"

بھارت اور چین بھی اپنے ماضی اور عظیم الشان تہذیبوں پر نازاں ہیں لیکن انھوں نے اس حقیقت کو کھلے دل سے تسلیم کیا کہ ایک وقت تھا جب وہ تاریخ کی سپر پاورز تھے لیکن آج مغربی تعلیم حاصل کے بغیر وہ طاقت حاصل نہیں کر سکتے نہ دنیا میں سر اٹھا کے جینے کی حیثیت۔

سلیم منصور خالد کی یہ مختصر سی تحریر بتا رہی ہے کہ حق پرستی کسے کہتے ہیں؟ اور آج بھی جماعت اسلامی میں ایسے لوگ موجود ہیں جنھیں حق بات کرتے ہوئے نہ لیفٹ نظر آتا ہے نہ رائٹ، نہ ہندوستان اور پاکستان کا شریکے کا رشتہ، اور نہ اس بات کا ڈر کہ مسئلہ کشمیر کے تناظر میں سوشل میڈیا کی عوام کیا کہے گی۔ در اصل یہی سید مودودی تربیت ہے۔