یہ تصویر دیکھیں اور پھر اپنی حیثیت - میاں جمشید

آپ ذرا اس تصویر پر بنے اس چھوٹے سے نقطہ کو دیکھیں جس کو ایک پیلے دائرے کے اندر ہائی لائٹ کیا گیا ہے۔ غور سے دیکھیں اسے۔ پتا ہے یہ کیا ہے؟ یہ ہمارا گھر ہے۔ اس کائنات کے اندر ہمارا چھوٹا سا گھر۔ "ہماری زمین"۔ وہ جگہ جہاں آپ رہتے ہیں، میں رہتا ہوں، ہمارے رشتہ دار، دوست، احباب رہتے ہیں۔ وہ تمام بھی جن سے ہم پیار کرتے ہیں اور وہ بھی جن سے ہم اختلاف رکھتے ہیں۔ وہ جگہ جہاں ہم مسکراتے ہیں، روتے ہیں، اداس ہوتے ہیں، جیتے ہیں، مرتے ہیں۔ جہاں کوئی بہت امیر ہے تو کوئی بہت غریب، بہت طاقتور، بدمعاش قسم کے لوگ بھی موجود تو بہت سادہ، شریف اور بے بس و مجبور لوگ بھی۔

سال 1977ء میں ناسا نے خلائی جہاز "وائجرون" روانہ کیا جس کا کام نظام شمسی کے بیرونی سیاروں کا مشاہدہ کرنا تھا۔ پہلے خیال یہ تھا کہ سال 1980ء میں زحل کے مشاہدے کے بعد مشن ختم ہوجائے گا۔ لیکن مشہور مصنف اور سائنس دان "کارل ساگان" کی تجویز پر اس کے مشن کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جب یہ جہاز زحل کا مشاہدہ کرنے کے بعد آگے بڑھنے والا تھا تو کارل ساگان نے ایک اور تجویز پیش کی کہ جہاز کے کیمرے سے زمین کی ایک الوداعی تصویر لی جائے۔ چونکہ اتنے طویل فاصلے سے لی گئی تصویر کا کوئی سائنسی فایدہ نہیں تھا، اس لیے اس کی مخالفت ہوئی۔ تاہم بعد میں ایک یادگار کے طور پر تصویر لینے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ تصویر سال 1990ء میں لی گئی، جب جہاز زمیں سے 6 ارب کلومیٹر کی دوری پر تھا۔ تصویر میں زمین ایک مدھم نقطے کے طور پر بمشکل نظر آتی ہے۔ روانہ ہونے کے 42 سال بعد یہ جہاز 60 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اب بھی 18 ارب کلومیڑ کی دوری پر محو سفر ہے۔ یہ اب بھی باقاعدگی سے تصویریں اور معلومات زمین پر بھیج رہا ہے۔ جہاز کو نظام شمسی کی اخری حدود سے نکل کر ہمارے قریب ترین ستارے الفا سینٹوری کی حدود میں داخل ہونے میں ابھی 20000 سال اور لگیں گے۔

ساگان نے اس تصویر کو کائنات میں ہماری حیثیت کو واضح کرنے کے لیے ایک علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسی زردی مائل نیلے نقطے پر ساری انسانیت اپنی تاریخ، مشاہیر، ان کے عظیم کارناموں کے ساتھ رہتی ہے۔ ساگان نے اس تصویر کو بنیاد بنا کر ایک کتاب لکھی جس کا نام Pale Blue Dot: A Vision of the Human Future in the Space رکھا۔ کتاب میں کائنات اور خصوصا نظام شمسی میں انسان کی حیثیت کا اور اس کے ممکنہ مستقبل پر بحث کی گئی ہے۔ اگر ہو سکے تو آن لائن سرچ کر کے لازمی پڑھیے گا۔

تو دوستو! دیکھ لیں پھر اتنی بڑی کائنات میں بس اتنی چھوٹی سی حیثیت ہے ہماری۔ مگر پھر بھی اللّه نے ہمیں اشرف المخلوقات اور احسنِ تقویم بنایا ہے۔ ہمیں اتنی سمجھ بوجھ عطا فرمائی کہ ہم کائنات کو تسخیر کر رہے ہیں۔ نت نئی مفید ایجادات ہو رہی ہیں۔ اگر ہم اپنے ویژن کو بڑا اور مثبت رکھ کر سوچیں تو کوئی مشکل ہمیں ڈیپرس نہ کرے۔ ہم مستقل اداس نہ ہوں، ہمت و حوصلہ نہ ہاریں بلکہ سر اٹھا کر اور مسکرا کر اس خوبصورت زندگی کو گزاریں۔ ایک دوسرے کا خیال رکھتے، امن و سکون کے ساتھ نہ کہ جنگ، فساد اور ظلم زیادتی کے ساتھ۔ اللّه ہمیں اچھا سوچنے، سمجهنے، عمل کرنے کی توفیق دے، ہر حال میں اپنا شکر گزار بنائے۔ آمین

(نوٹ : مضمون کی تیاری میں اس عمدہ معلومات کے لئے سائنس کی دنیا گروپ کے ممبر ممتاز حسین کا شکر گزار ہوں۔)

Comments

میاں جمشید

میاں جمشید

میاں جمشید، زندگی کے مشکل حالات کا مسکرا کر مقابلہ کرنے کے ساتھ رسک لینے اور ہمت سے آگے بڑھتے رہنے پر یقین رکھتے ہیں۔ کچھ نیا و منفرد کرنے اور سیکھنے و سکھانے کا شوق بھی ہمیشہ ساتھ ساتھ رہا ہے اسی لیے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ مختلف معاشرتی موضوعات پر اصلاحی اور حوصلہ افزاء مضامین لکھتے ہیں۔ اسی حوالہ سے ایک کتاب "حوصلہ کا گھونسلا" کے مصنف بھی ہیں۔ان سے فیس بک پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.