تمہارا رب بھولنے والا نہیں - ڈاکٹر سیما سعید

کوئی بھی واقعہ اچانک رونما نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے اسباب و عوامل کی ایک لمبی فہرست ہے جن کی وجہ سے کوئی بھی انسان اس درندگی پر آمادہ ہو جاتا ہے ایک چھ سال کی بچی پر ہوس کی نگاہ ڈالتا ہے۔ اس معاشرے میں بہت سارے عوامل بھی اس سانحے کا سبب بنے ہیں۔

زینب کا کیس نیا نہیں ہے، ابھی کچھ ہفتہ پہلے کی بات ہے جب وہ ننھی بچی پڑوس میں گئی، واپس نہ لوٹی اور چند دن بعد لاش ملی۔ ایسے کئی بچے اور بچیاں لاپتہ ہوئیں اور لاشوں کی صورت واپس ملے اور میڈیا خاموش رہا جبکہ کچھ کیس ایسے بھی ہوں گے جن کی میڈیا کو خبر بھی نہ لگی ہوگی۔

یہ مسئلہ صرف قصور یا کراچی کا بھی نہیں۔ یہ درندگی کا یہ کھیل تو ملک ہر جگہ کھیلا جارہا ہے کہیں کی خبر مل جاتی ہے اور کہیں دبا دی جاتی ہے، خاندان کی بدنامی کے ڈر سے۔

پاکستان ہی نہیں یہ ظلم امریکہ جیسے تر قی یافتہ ممالک میں بھی جاری ہے۔ لیکن یہاں بات تو میری اور آپ کی حیا اور غیرت و ایمان کی ہے، حکمرانوں کی بے حسی وبے ضمیری کی ہے کہ جن کی آشیر باد سے آزاد میڈیا اور معاشرتی آزادی یا عورت کی آزادی کے نام پر وہ زہر پھیلایا جا رہا ہے جو ہماری رگوں میں پھیل کر ہماری حیاء کو ختم کرکے وہ تعفن پیدا کر رہا ہے کہ شیطان بھی پناہ مانگے۔

کھلے گریبان ، جذبات کو بھڑکاتے ادھورے لباس، نیم برہنہ خواتین کس اشتہار میں نہیں؟ کسی اشتہار کو دیکھ لیں صابن سے لیکر ایک ببل گم تک چائے کی پتی سے موٹر سائيکل اور شیونگ کریم تک … موبائل فون کے اشتہاروں نے تو حد ہی کردی !

کس ڈرامہ میں لو اسٹوری کے نام پر فحاشی نہیں ہے؟ وہ شاید کسی آئسکریم کا اشتہار تھا جس میں بہن بھائی آئس کریم کے لیے دوڑ رہے تھے۔ کیمرہ مسلسل بچی کو فوکس کیے رہا، جس کے بڑھتے ہوئے جسم پر چھوٹی سی ٹی شرٹ اور ٹائٹس، آخر کیا دکھانا مقصود ہے؟ یہ نیم برہنہ کنسرٹس، مخلوط محفلیں، ناچ گانے کہاں لے جارہے ہیں؟ اخبارات رسائل کسی کو بھی اٹھا کر دیکھ لیجیے، خواتین کی تصاویر کو کس طرح نمایاں کیا جاتا ہے؟ جب میڈیا انٹرٹینمنٹ کے نام پر 24 گھنٹہ غلاظت آپ کے ذہنوں میں انڈیل رہا ہو تو تعفن تو اٹھے گا نا ؟ اور آپ بھی بلا جھجھک یہ سب کچھ اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھتے ہیں اور کوئی احتجاج بھی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   حجاب :حسن نسوانیت - ڈاکٹر ساجد خاکوانی

سونے پہ سہاگہ چند روپے میں انٹرنیٹ کی سہولت سے دنیا میری جیب میں ہے۔ سامان لذت میری انگلیوں پر، جس پر جہاں چاہوں، جب چاہوں اپنے نفس کی تسکین کا سامان کروں ..... تعفن تواٹھنا ہے نا؟ گوگل پر کسی چیز کو سرچ کرلیجیے، ذرا سے لفظوں کی غلطی پر کیا سے کیا دکھا دیتا ہے۔

میڈیا کو چھوڑیں کسی مارکیٹ کسی یونیورسٹی کسی تقریب میں چلے جائیں، عورتیں اور بچیاں کس قسم کے لباس میں ہیں؟ ٹائٹس جیسی واہیات چیز جو کبھی سردیوں میں ہم بچیوں کو شلوار پاجاموں کے اندر پہناتے تھے، وہ بچیاں کیا؟ بڑی عمر کی خواتین پہنے گھومتی دکھائی دیتی ہیں۔ کپڑے پہن کر ننگی دکھائی دینے والی یہ خواتین بھی تو باپ، بھائي اور شوہروں کی مرضی سے ہی پہنتی ہیں نا؟ یہ لباس دیکھ کر کہاں سو جاتی ہے ان کی غیرت ؟ کاش کبھی مردوں کی ان ہوس زدہ نگاہوں کو بھی دیکھ سکیں، محسوس کرسکیں کہ جن نظروں سے وہ ان کی بہن بیٹیوں کو دیکھتے ہیں، انہیں دیکھتے ہیں۔ موٹر سائیکل پر بیٹھی ٹائٹس پہنی بہن بیٹی یا بیوی کس طرح دعوت نظارہ دے رہی ہوتی ہے؟ آزادی کے ہیجان میں مبتلا یہ خواتین خود کو کسی نہ کسی طرح ایکسپوز کرنا چاہتی ہیں کہ ستائشی نظروں سے دیکھی جائیں، ساتھ اپنی ننھی معصوم کلیوں جیسی بچیوں کو بھی ایسے ہی لباس پہناتی ہیں۔ دیکھنے والے کی کن نظروں سے دیکھتے ہیں احساس تک نہیں ہوتا انہیں۔

آپ کہتے ہیں اپنی بچیوں کی خود حفاظت کریں، اکیلے کسی کے ساتھ نہ جانے دیں۔ ابھی گزشتہ جمعرات کے درس میں ہی بات نکلی تو ڈیفینس کی ایک ڈاکٹر کے مطابق ، روح کانپ جاتی ہے جب بچیاں اپنے محرم رشتوں یا قریبی رشتوں سے لٹ کر آتی ہیں۔ انتہائی پستی کا مقام ہے ، محافظ لٹیرے ہوگئے۔

میں اپنی بچیاں باہر کے درندوں درندوں سے تو بچا لوں ، قریبی اور رشتوں سے کیسے بچاؤں ؟ شیطان نما خاندان اور گھر میں بھی ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   عالمی یوم حجاب اور پاکستان - میر افسر امان

آپ کہتے ہیں صرف حکمرانوں کو برا کیوں کہتے ہو پورا معاشرہ خراب ہے تو معاشرہ خراب کون کر رہا ہے؟ حکمرانوں کی ایما پر ہی تو یہ ناسور پھیل رہا ہے۔

اس سے پہلے پھر کوئی زینب کسی کچرے کے ڈھیر سے ملے، مجرموں کیفرکردار تک پہنچا دیں۔ لوگوں کو فوری انصاف اور مجرم کو فوری سزا ہو تو جرائم پنپ ہی نہیں سکتے۔ اس مسئلے کا حل فوری انصاف اور سخت ترین سزائیں ہیں اور شرعی قانون سزاؤں کو نافذ کرنا ہے۔ چور کے ہاتھ کاٹ دو، زانی کو سنگسار کردو ، سر عام پھانسی دو، معاشرہ جرائم سے پاک ہوجائے گا اور اگر آپ کچھ نہیں کر سکتے تو انتظار کرو کہ زلزلہ تمہارے محلوں کی چھتوں کو زمیں بوس کردے کیونکہ

"وما کان ربک نسیا" تمہارا رب بھولنے والا نہیں ہے (سورہ مریم)۔