متحدہ مجلس عمل بننا کیوں ضروری ہے؟ - احسن سرفراز

گزشتہ پیر کو جنیوا میں یونیورسل پریوڈک رویو (یو آر پی) کے اجلاس میں مختلف ممالک کے نمائندوں نے وزیر خارجہ خواجہ آصف مطالبات کیے کہ پاکستان میں توہین مذہب (یعنی توہین رسالت ) پر سزائے موت ختم کی جائے، غیر ملکی این جی اوز پر پابندی کا خاتمہ ہو، اقلیتوں کو انتخابات میں آزادی سے حصہ لینے دیا جائے اور اقلیتوں کی زبردستی شادی کے واقعات کو روکا جائے۔

ان مطالبات پر خواجہ صاحب کو تو ڈٹ جانا چاہیے تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل آزادی حاصل ہے - زبردستی شادی، صرف اقلیتوں ہی کی نہیں بلکہ کسی کی بھی ہو، پہلے ہی سے جرم قرار دی جا چکی ہے اور رہی بات پہلے دو مطالبات ان پر کوئی بات نہیں ہو سکتی کیونکہ ایسی این جی اوز، جن پر ملک دشمن سرگرمیوں کی بنیاد پر پابندی لگائی گئی، ان کو کس طرح کام کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے ؟ اسی طرح توہین رسالت کا قانون ہے کہ اس پر کوئی بات نہیں کی جا سکتی۔ لیکن ...خواجہ صاحب نے کہا "اجلاس میں پیش کی گئی سفارشات قابل قبول ہیں ۔"

کیا اب بھی کسی کو شک ہے کہ "گڈ گورننس" اور ایک "خوشحال پاکستان" کے حصول کے ساتھ ساتھ ملک کی نظریاتی بنیادوں کا تحفظ بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اگر یہ ان سیکولر لبرل پارٹیوں پر چھوڑ دیا گیا تو یہ اپنے بیرونی آقاؤں کی ایماء پر پاکستان کو ایک مقروض اور کرپٹ ملک کے ساتھ ساتھ غیر ملکی این جی اوز کی چراگاہ اور ایک نظریاتی بانجھ مملکت بھی بنا کر چھوڑیں گی۔

در ایں حالات دینی جماعتوں کے اشتراک عمل اور ان کا اسمبلیوں میں ایک مناسب تعداد میں پہنچنا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے تاکہ ایک تو فرقہ وارانہ مخاصمت اور قتل و غارتگری کا توڑ ہو اور دوسرا پاکستان کی اسلامی پہچان کو بدلنے کی سازشوں کا مقابلہ کیا جائے۔ نیز، آئین میں موجود اسلامی دفعات کا نفاذ یقینی بنایا جائے۔ سودی معیشت کا خاتمہ، اسلامی قانون سازی پر عملدرآمد، امیر و غریب میں تفاوت اور وی آئی پی کلچر کا خاتمہ، ہر ایک کو قانون کے سامنے برابر کا جوابدہ ہونا، ایک جانور کی ہلاکت تک پر حکمرانوں کی جوابدہی، شاہانہ طرز حکومت اور بڑے بڑے محلات کی بجائے سادہ طرز حکمرانی، بے لاگ یکساں اور سستے انصاف کی فراہمی، معاشرے کے مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کے لیے ریاستی امداد کی فراہمی وغیرہ، یہ سب باتیں ایک اسلامی حکومت کے بنیادی کرنے کے کام ہیں۔

ماضی میں متحدہ مجلس عمل حکومت کو گوکہ ایک آمر کی مخالفت اور موجودہ NFC ایوارڈ کی عدم موجودگی کی وجہ سے خاصے مسائل کا سامنا رہا لیکن پھر بھی اس دور میں خیبر پختونخوا میں مفت تعلیم، ہسپتالوں میں مفت ایمرجنسی سہولیات کی فراہمی، بچیوں کے لیے تعلیمی وضائف کا اجراء، پانچ مرلہ اور اس سے کم کے مکانات پر ٹیکس ختم کرنا، پانچ سال صوبے میں سرپلس بجٹ پیش کرنا، غیر سودی بنکاری کے لیےخیبر بنک کا قیام، وفاق سے بجلی کے منافع کا حصول، اسلامی وسماجی قانون سازی کے لیے حسبہ بل کی تیاری و منظوری، عام فرد کی آسانی کے لیے اردو کو سرکاری زبان قرار دینے سمیت کافی انقلابی اقدامات اٹھائے گئے جبکہ دوسری حکومتوں کے برعکس وزراء بھی عوام کی پہنچ میں رہے جن سے ملنے میں عوام کو پہلے کی طرح پروٹوکول کی روکاوٹوں کا سامنا نہ تھا۔ جبکہ خاص طور پر خیبر پختونخوا حکومت کی حد تک اتحادیوں کے اندر مکمل ہم آہنگی رہی اور ایک دوسرے کے ساتھ حکومتی معاملات چلانے میں مکمل تعاون رہا۔ ہاں ایل ایف او وغیرہ کے معاملات اور 2008ء الیکشن کے بائیکاٹ فیصلے نے مجلس عمل کو دولخت کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا اور اگر آج یہ جماعتیں دوبارہ اس اتحاد کے احیاء کے بارے میں سنجیدہ ہوئی ہیں تو یقیناً یہ ایک مثبت اقدام ہے۔

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.