تنہائی و گوشہ نشینی - نورین تبسم

تنہائی ایک گوہرِ نایاب ہے۔ اس میں جو خزانے پوشیدہ ہیں،دُنیا کا ہرانسان چاہے مومن ہو یا مشرک، اس پر یکساں طورپرظاہر ہو جاتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ مومن ایمان کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے، وہ پہچان کےساتھ اس کو حاصل کرتا ہے۔

اللہ کو نہ ماننے والا اگرچہ جان تو جاتا ہے کہ کوئی ہے جوعطا کر رہا ہے لیکن وہ ہمیشہ شک اور یقین کے درمیان رہتا ہے۔ غوروفکراورتلاش کا یہ سفرتنہائی سے شُروع ہوتا ہے۔ اپنے آپ کو جاننے کی طلب اُسے دوسرے انسانوں سےلاتعلق سا کر دیتی ہے۔ وہ اس دنیا میں رہتے ہوئے ایک اور دنیا کے عشق میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ اپنی ذات کے حصار سے نکل کر وہ کائنات کے سربستہ رازوں کے کھوج میں نکل جاتا ہے۔ جوں جوں اندر کا شور بڑھتا ہے وہ باہر کی دنیا سے بےخبر اور خاموش ہوتا جاتا ہے۔ انسانوں کے ہجوم میں وہ اجنبی اورناپسندیدہ جانا جاتا ہے۔ تنہائی اور سوچ بچار کے بعد جب اسےعطا کیا جاتاہے تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ عام انسانوں کو اس اکرام میں شامل کرے۔دُنیا کے سائنسدانوں،عظیم مفکّروں اور،فلسفیوں نے جیسے جیسےنامعلوم سے معلوم کے اس سفر میں انسانوں کو شامل کرنا چاہا،انہیں قدم قدم پر مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ نت نئی ایجادات کرنے والوں کی ہمیشہ حوصلہ شِکنی کی گئی۔انتہائی نامساعد حالات میں انہوں نے صرف اپنی لگن کے سہارے کام جاری رکھا۔ بہت کم ایسے تھے جن کے خیالات وافکار کو اُن کی زندگی میں تسلیم کر لیا گیا ہو۔بیشتر کو اپنی سوچ اپنی جدوجُہد کو سچ ثابت کرنے کے لیے جان ومال کی قربانی دینا پڑی۔

یہاں پہنچ کربُزرگانِ دین اوردُنیا کے بُلند پایہ مفکرین اورتحقیق وتجربات کرنے والوں کے درمیان فرق واضح ہو جاتا ہے۔ عرفان ِحقیقت کے بعد اولیاءاللہ کےعاجزانہ اندازسے لوگ غیر محسوس طور پرخود بخود اُن کی طرف کھنچے چلے آئے جبکہ مغربی مشاہرین نے دلیل کے زور پر لوگوں کو قائل کرنا چاہا اورلوگوں نے اپنے موروثی علم کی بدولت اسے ردّ کیا۔یہ ظاہری علم اور باطنی علم کا معاملہ تھا۔

مثال کے طور پر ذہین وفطین افراد نے جب یہ علم حاصل کیا کہ سورج کیسے روشنی دیتا ہے؟اس کا زمین سے فاصلہ کتنا ہے ؟اس کی روشنی کے اثرات کیا ہیں؟ تواللہ والے اس سوچ میں محّو تھے کہ سورج کو روشن رکھنے والی ذات کتنی عظیم ہے؟ اس کائنات کی تخلیق کے کیا مقاصد ہیں؟ ہم کس طرح اس کرم کا حق ادا کر سکتے ہیں؟ اس روشنی کو کس طور آگے منتقل کیا جا سکتا ہے۔

ظاہری تلاش کا سفر اپنے آپ سے شروع ہو کرایک ادارے پر ختم ہوتا ہے۔ انسان نت نئی ایجادات کرتا ہے، نئے نظریات پیش کرتا ہے، دوسرے لوگوں کو اس سے آگاہ کرتا ہے، آنے والے کام میں مزید بہتری لاتے ہیں۔ یوں کڑی سے کڑی ملتی جاتی ہے انسان نہ صرف انسانیت کی بھلائی کے کاموں میں میں بلکہ اپنی برتری قائم رکھنے کے لیے بنی نوع انسان کو تباہ کرنےکی کشمکش میں عروج تک جا پہنچتا ہے۔ 'میں'سےشروع ہونےوالا سفر'میں' پرہی ختم ہوجاتا ہے۔ تحقیق وجستجو کے مسافر آگے سے آگے بڑھنے اورجاننے کی خواہش میں اپنی طلب اپنی پیاس ورثے میں چھوڑ کرراہیء مُلکِ عدم ہوتے ہیں۔

باطنی تلاش کے لیے انسان دوسرے انسانوں سے رفتہ رفتہ دُورہونے لگتا ہے۔ اگرچہ اُسے بےکلی تورہتی ہے کہ وہ ایسی زبان جاننے لگا ہے جسے دوسرے بالکل نہیں جانتے لیکن وہ کسی پرحاوی نہیں ہونا چاہتا۔ وہ اپنی ذات میں اپنی کائنات آپ ہوتا ہے۔ اپنے رب سے رابطہ ہو یہی کافی ہے۔ چاہ ہے توفقط یہ اُسے اُس کے حال پرچھوڑدیا جائے اگرہم کسی کو کچھ دے نہ سکیں تو لینے کا حق بھی نہیں رکھتے۔ اللہ والے علم کے راستے پر چلنے کے بعد اتنا جان گئے وہ کچھ بھی نہیں جانتے۔ جو کچھ بھی ہے وہ اُن کی محدودعقل و شعورسے ماورا ہے۔ جوبنیادی احکامات ہیں ان پرعمل کرنا اور آگے پہنچانا ہی ان محدود ماہ و سال کا مقصد ہے۔ یہ ایسا سفر ہے جس میں اپنی "میں" کی نفی کرکے اپنے رب کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو کر اپنے آپ کی تلاش ہے۔ موت اس سفر کا اختتام نہیں صرف ایک سنگِ میل ہے، آگے کیا ہو یہ صرف رب جانتا ہے۔


پسِ تحریر

"تنہائی"(اکتوبر 2011ء)۔یہ اس وقت کی تحریر ہے جب میرے سامنے کوئی پڑھنے والا دور دور تک نہیں تھا اور مجھے خود بھی نہیں پتہ تھا کہ میں کیوں لکھتی ہوں ؟ اور پھر بجائے ضائع کرنے کے بڑے اہتمام سے چھپا کر رکھ دیتی ہوں ؟

لیکن لکھنا اس وقت بھی میرے لیے ایک عجیب مسرت کا باعث ہوتا تھا جیسے خود سے باتیں کرنا، اپنے آپ کو سمجھانا۔ اور لکھنے کے بعد کبھی اضافہ نہیں کیا کہ ہوتا بھی نہیں۔اس لیے اکثر تحاریر آپ کو ادھوری یا الجھی ملیں گی۔ میری تحاریر ایک طرح سے میری اپنے آپ سے بات چیت ہے جس میں سوال بھی میرے ہیں اور جواب بھی مجھی کو دینا پڑتے ہیں۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.