سوال جواب - نورین تبسم

زندگی کے پرچے کو حل کرتے وقت ہمیں قدم قدم پر سوالوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اسی لمحے اُن کے جواب بھی دینا پڑتے ہیں۔ نصاب طے ہے۔ وقت طے ہے تو سوال بھی طے ہیں۔ وہی سوال جن کے جواب ہم بار بار لکھ کر تھک جاتے ہیں تو وہ مٹ کر پھر کہیں سے ذہن کی شفاف سلیٹ پر نمودار ہوجاتے ہیں۔

اہم یہ ہے کہ سوال اُنھی کے سامنے آتے ہیں جو جواب دینے کی اہلیت رکھتے ہیں، اور اگلے سوال کا انتظار کرتے ہیں، ورنہ ہم میں سے بہت سے تو سوال جواب کی تکرار سے بیزار ہو کر، بغیر پڑھے بنا سمجھے، اِدھر اُدھر سے نقل کر کے جان چھڑاتے ہیں۔ ایک بات کا یقین کر لو، پھر جواب دینے میں آسانی ہو جاتی ہے کہ سوال کبھی غلط نہیں ہوتے، چاہے بار بار سامنے آئیں۔ ہر بار نئے سرے سے اُن کا جواب تلاش کرنا ہی ہمارا اصل امتحان ہے۔

سوال کرنا اچھا ہے، چاہے ہم اپنے جیسے انسان سے کریں یا اپنے رب سے۔ یہ ہمارے تعلق کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے اور جواب دل کو چھو جائے تو جواب دینے والے کی سچائی کو۔ سوال کرنا اہم ہے، جواب ملنا بعد کی بات ہے۔ سوالوں کے جواب نہ ملنا ہی انسان کو مزید چلنے پر اکساتا ہے، جب تک ہم میں سوال پوچھنے، سوال سوچنے کی اہلیت پیدا نہیں ہوگی، ہم کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔

زندگی میں کوئی ایسا سوال نہیں جس کا جواب ہمیں اپنے اندر سے نہ مل سکے۔ انسانوں کو چھوڑ کر پہاڑوں کی بلندیاں چھونے، صحراؤں کی خاک چھاننے اور جنگلوں میں گیان دھیان کرنے سے بھی تلاش کا سفر مکمل نہیں ہوتا۔ جب باہر کی دنیا سے جواب نہ ملیں تو اور بھی اچھا ہے کہ پھر انسان اپنے آپ سے رجوع کرتا ہے، اپنی ذات کی گہرائی میں جا کر آسمانوں کی جستجو کرتا ہے۔ یہی وہ کھلا راز ہے، جو نہ صرف دانشوروں اور مفکرین بلکہ دنیا کے ہر تحقیق کار، ہر دریافت کنندہ اور ہر سائنس دان کے فکروعمل کا پہلا پائیدان ہے۔ اسی عمل پر ربِِ کائنات عقیدے اور ایمان سے بےنیاز ہو کر نوازتا چلا جاتا ہے، اور ہم جیسے پیدائشی مؤمنین بس اسی سوال پر اٹکے رہ جاتے ہیں کہ اللہ تو صرف ہمارا ہے، وہ کافروں پر کیوں مہربانی کرتا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   پیغام رسانی کی مشکلات - بشارت حمید

حق یہ ہے کہ انسانوں کے جواب ہمیں کبھی بھی مکمل طور پر مطمئن نہیں کر سکتے اور مالک ہمارے قلب و روح میں چھپی ہوئی پھانس بھی نکالنے پر قادر ہے۔ اپنے ہرقول اور ہر فعل کو پہلے اللہ کے سامنے پیش کریں، اُس کی تائید مل جائے تو قدم بڑھائیں۔ دل مطمئن نہ ہو تو اللہ سے سوال جواب ضرور کریں۔ بےشک اللہ ہمارے ہر سوال سے واقف ہے۔

انسانوں کے درمیان رہ کر اُن کو جانچنے کے بعد انسان تلاش ِحق کے سفر پر نکلتا ہے تو پھر اُس کو راہ نمائی نصیب ہوتی ہے، اور یہ رہنمائی اُسے دوبارہ انسانوں تک لے آتی ہے۔ پہچان کے بعد جب تک بندوں کو اس سے فیض یاب نہ کریں تو ہمارا علم محض کتابی علم ہوگا۔ علم کے ساتھ عمل لازم ہے۔ یہ ہم پر فرض ہے تو مجبوری بھی کہ اس کے بغیر ساری تپسیا سارا کشت سفرِ رائیگاں ہے اور کچھ بھی تو نہیں۔

"لا"، جان لینا کہ ہم کچھ نہیں جانتے، تلاش کی سیڑھی پر پہلا قدم ہے۔ ہم بہت کچھ جاننے کےبعد صرف یہ سمجھ جائیں کہ ہم کچھ بھی نہیں جانتے، جواب توصرف ایک ذات جانتی ہے، یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

اپنے اندر سے اٹھنے والے سوال اہم ہیں تو ملنے والے جواب بھی قابلِ غور ہیں۔ ہم ایک ہی راستے پر چلنے کے خواہش مند ہوں، من و عن اس فیصلے کو تسلیم کرنے پر تیار بھی ہو جائیں اور سفر جاری رہے تو جواب ضرور ملتا ہے۔ جواب مل جائے تو بتاتے ہوئے جھجھک یا خوف نہیں ہونا چاہیے، بس الفاظ کا چُناؤ ہو کہ بات کہہ بھی دی جائے اور اپنے اوپر اعتماد بھی برقرار رہے۔

سوال کرو خوب کرو لیکن جواب کے لیے دوڑ بھاگ نہ کرو۔ وقت خود ہی بہت سے سوالوں کے جواب دیتا چلا جائے گا۔
آخر کب تک ہم سوال کرتے رہیں گے؟ زندگی میں وہ وقت جلد آ جانا چاہیے جب سوالوں کے جواب ملنا شروع ہو جائیں۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.