اپنا خیال رکھنا - نورین تبسم

پہلی دعا ،پہلی توبہ
قالا رَبّنا ظلمنَا اَنفسَنا، (الاعراف 7، آیت 23)
"اور ہم نے اپنی جان پرظلم کیا"

ہم جتنی زیادتی اپنے آپ کےساتھ کرتے ہیں، اتنی کوئی بھی ہمارے ساتھ نہیں کرسکتا۔ ہم ساری زندگی کسی ساتھی، کسی چاہنے والے کی تلاش میں رہتے ہیں، جو ہمارا خیال رکھے، ہمیں جانے، ہمیں پھول کی طرح سنبھالے۔ جو ہر وقت اپنی نظر کے حصار میں رکھے اور جس کے لمس کی پھوار سے ہماری برسوں کی تشنگی دور ہو جائے۔ ہوتا یوں ہے کہ وقت کی لہریں سیراب تو کرتی ہیں لیکن ہم کسی اَنجان لمحے کےمنتظر ہی رہتے ہیں۔ اِسی انتظارمیں ہمارا وجود خشک ٹہنی کی طرح چٹخنے لگتا ہے۔ عمر بیت جاتی ہے، وقت گُزرتا جاتا ہے لیکن ہم وہیں کے وہیں رہتے ہیں۔ ایک ضدّی بچے کی طرح۔ اگر خلوصِ نیت سے محبت کے طلب گار ہوں تو مُہلت ختم ہونے سے پہلے آگہی کا در کُھل جاتا ہے، پھر ہمارے پاس کم عقلی کا ماتم کرنے کے سِوا کچھ نہیں بچتا۔

کہانی یوں ہے کہ ہر رشتہ ہرجذبہ ہمیں کچھ نہ کچھ عطا ہی کر رہا ہے، ہم خود ترسی اور محرومی کا شکار رہتے ہیں۔ جب اس آیتِ قرآنی کا مفہوم ہمارے اندر اُترتا ہے تو پھر معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے تو کچھ بھی نہیں کیا سوائے اپنی جان پر ظلم کرنے کے، اپنے وجود کے بخیے اُدھیڑنے کے، اپنے آپ کو ریزہ ریزہ کر کے اپنا آپ تباہ کرنے کے۔ ہمارا محبوب تو ہرلمحہ ہمارے ساتھ تھا۔ ہمارا خالق تو ہر پل نگاہ رکھے ہوئے تھا، ہمیں کس وقت کس شے کی طلب ہوگی، اور کس وقت وہ ملنی چاہیے، سوائے اُس کے کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ خود ہم بھی نہیں.

ہمارے راستے میں آنے والی ہر اِک چیز، ہر ایک تجربے میں ہماری اپنی ہی ذات کا ادراک پوشیدہ ہے۔ انسان ساری عمر نفس سے حالتِ جنگ میں رہتا ہے۔ نفس کو جھٹلانا، اُس کے مخالف چلنا، اُس کو مارنا، یہ وہ اسباق ہیں جن کو سمجھنا اور عمل کرنا اُس کا مقصدِ حیات بن جاتا ہے۔ رٹّا لگا کر یہ اسباق حفظ ہو جائیں تو اپنے تئیں اتھارٹی بن کر دوسروں کو ازبر کرانا اگلا قدم ہوتا ہے۔ ایسے لوگ زندگی کے امتحان کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں، پرچہ حل کرتے وقت نہ صرف نفسِ مضمون بلکہ اُس کی خوبصورتی کا بھی دھیان رکھتے ہیں۔ پوری توجہ کے ساتھ اہم سوالات پڑھتے ہیں۔ مقرّرہ وقت میں پرچہ حل کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ ایک ایک پل کا حساب رکھتے ہیں۔ اللہ کے ہاں یقیناً اُن کا بڑا اجر ہو گا۔ اللہ سے ہمیشہ اچھا گمان رکھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   زندگی کو خوشگوار بنائیں - مریم صدیقی

لیکن کیا کیا جائے کہ ایک اور قسم کے لوگ بھی ہیں جو پرچے میں آنے والے ہر سوال پر نظر ڈالنا چاہتے ہیں، چاہے وہ اہم ہو یا غیر اہم، اُن کی نظر میں پرچہ بنانے والا اہم ہوتا ہے پرچہ نہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ پرچہ بنانے کا مقصد حل کرنے والے کا امتحان لینا ہے کہ اُس نے کتنی گہرائی میں جا کر مطالعہ کیا۔

ہم لوگ بعض اوقات اُن بچوں کی طرح سوچتے ہیں جو پرچہ آؤٹ آف کورس آنے کا شور مچاتے ہیں، یہ نہیں دیکھتے کہ جو سوال بھی ہے، وہ ہمارے نصاب میں کسی نہ کسی حد تک تو شامل ہے۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ انگریزی کے پرچے میں اُردو کا سوال آجائے یا حساب کے پرچے میں سائنس کا سوال۔ شور مچانے والے پرچہ منسوخ کرانا چاہتے ہیں۔ یہ جلدباز کند ذہن نہیں جانتے کہ ایک تو دوبارہ تیاری کرناپڑے گی، دوسرا وقت اور پیسہ الگ ضائع ہوگا۔ یہاں وہ طالبِ علم بھی ہوتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ اسی وقت پرچہ حل کر لیں، جیسا بھی ہے جتنا بھی آتا ہے، پاسنگ نمبر آجائیں، کافی ہے کہ باقی پرچوں کی تیاری اچھے طریقے سے ہو سکے۔ ایسے لوگ قلیل تعداد میں ہوتے ہیں اور اکثریت کے سامنے اُن کی ایک نہیں چلتی۔ وہ اپنے حق کے لیے آواز بھی نہیں اُٹھا سکتے کہ پھر عالم فاضل اور نرالے ہونے کے طعنے سننا پڑتے ہیں۔

یہ تمہید اس سوال کے بارے میں تھی جو کہ ایک ناپسندیدہ اور غیر اہم سوال ہے، اس کا جواب صرف اور صرف اس کو کاٹ دینے میں ہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کو مسترد کرنے سے پورے نمبر مل جائیں گے تو بلاوجہ باریکیوں میں جا کر وقت ضائع کیا جائے۔ ہم جان کر بھی نہیں جان پاتے کہ یہ تو ہمارے پرچے کا سب سے اہم سوال تھا، اس کو حل کرنا شروع کرتے تو خود بخود ہی دوسرے سوالوں کے جواب مل جاتے۔ پرچے میں یوں روانی آتی کہ سیاہی ختم ہو جاتی پر الفاظ ختم نہ ہوتے۔ اس سوال کے جواب کا سب سے بڑا 'اشارہ' جب مل چکا ہے تو کسوٹی کھیلنے کے لیے ہمیں اور کیا درکار ہے، سوائے اپنی عقل پر ماتم کرنے کے۔

یہ بھی پڑھیں:   سوچنے کی بات ہے - ماہ گل عابد

"جس نے اپنے نفس کو پہچانا اُس نے اپنے رب کو پہچانا"
ہم ساری زندگی اپنے نفس سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ اپنے اندر اس خوف سے نہیں جھانکتے کہ نفس دِکھتا ہے، جو ایسا بدبودار جوہڑ نظر آتا ہے، جس میں ہماری ذات ڈبکیاں کھا رہی ہوتی ہے۔ اُس کو ڈوبنے کے لیے تنہا بھی نہیں چھوڑنا چاہتے، اور نکالنے کی سعی بھی نہیں کرتے کہ کسی کو پتہ نہ چل جائے۔ ہاتھ بڑھا کر اُس کی مدد کی کوشش بھی کریں تو بیش قیمت خوشبو اور بناؤ سنگھار سے اپنی بدبو اور بدنمائی چھپاتے ہیں۔

"نفس سے فرار اس کی طلب میں مزید اضافہ کر دیتا ہے"۔
یقین نہ ہو تو کبھی ایک عورت کی آنکھ سے ان جبہ ودستار پہنے "اللہ والوں" کو دیکھیں، ان کی نظر میں وہ کچھ ہوتا ہے جو کسی دنیا دار اور نفس سے جھگڑتے عام انسان میں بھی نہیں ملتا

"نفس کیا ہے؟"
ہماری کہانی کا ایک کردار، ہماری کتاب ِزیست کا فقط ایک باب، جس کو پڑھنا، سمجھنا اور اُس پرعملدرآمد کرنا ہماری زندگی کا ایک حصہ (پوری زندگی نہیں) ہونا چاہیے۔
نفس بھی اللہ کی عطا ہے، دوسری نعمتوں کی طرح۔ اہم یہ ہے کہ ہم اپنی عقل کس طرح استعمال کرتے ہیں اس کو سمجھنے کے لیے۔ یہ کوئی عُذر نہیں کہ اللہ کے ہاں جا کر کہہ دیں
"باری تعالٰی یہ سبق وہاں ناپسندیدہ تھا، اس لیے اس پر کراس لگا دیا، یا اس وقت اس کو جاننا وقت ضائع کرنا تھا، اب سمجھایا جائے"۔

جب ہر چیزکھول کھول کر بیان کر دی گئی ہےکہ عمل کا وقت صرف اسی دنیا میں ہے، جس طرح چاہو کرو، جو چاہو آگے بھیجو۔ تو پھر صرف ہمارے غور و فکرکا فقدان ہے، اور کچھ بھی نہیں۔
"ہمیں جو سبق جس وقت مل جائے، اُسی وقت اُس کو سمجھا جائے، اور پرکھا جائے۔ مہلتِ زندگی ختم ہونے سے پہلے ادھوری کہانیاں پڑھ لی جائیں تو اُن میں پوشیدہ جوابات خود ہی سامنے آجاتے ہیں۔"

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.