رمضان کی ڈیجیٹل برکات – ریحان خان

رمضان المبارک کی آمد کا طریقہ واقعی ایک عجیب مہمان جیسا ہے جو دبے پاؤں رحمتوں، برکتوں اور نعمتوں سے لدا پھندا آتا ہے، وہ بھی چند دنوں كے لیے جو نجانے کب اتنی تیزی سے گزر جاتے ہیں کہ پتہ ہی نہیں چلتا۔ ہمیشہ ایک افسوس سا رہ جاتا ہے کہ اِس مقدس مہینے کی وہ قدر نہ کر سکے جو اس کا حق تھا اور اس کے جانے كے بعد ہمیشہ ایک پچھتاوا اور اُداسی سی رہ جاتی ہے جیسے کسی اچھے مہمان كے رخصت ہو نے پر کسی مہمان نواز انسان کو ہوتا ہے۔

ایک وقت ہوا کرتا تھا جب رمضان کی آمد سے پہلے ہی اس کی تیاری کی جاتی تھی، انتظار کیا جاتا تھا اور رمضان شروع ہوتے ہی ہر بندہ اپنی بساط كے مطابق نیک اعمال کرنے لگ جاتا تھا۔ پانچوں وقت کی نماز اور قرآن پاک کی تلاوت کا اہتمام کیا جاتا تھا، جہاں نوافل کی کثرت اور زیادہ سے زیادہ صدقہ خیرات کرنے کی کوشش کی جاتی تھی وہیں سحری اور افطار کی مبارک ساعتوں میں الله تعالیٰ کا خصوصی قرب حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔

لیکن پِھر الیکٹرونک میڈیا آ گیا اور اپنے ساتھ جہاں بے شمار خرافاات لایا، وہیں رمضان كے اِس مبارک مہینے کو بھی نہ بخشا اور رمضان کی نشریات كے نام پر وہ طوفان بدتمیزی مچایا کہ آج سینکڑوں لوگوں کو اِس با برکت مہینے میں عبادتوں سے دور ہیں۔ ساده لوح لوگ سحری اور افطار كے وقت بس ٹی وی كے آگے جم کر بیٹھ جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں كے اللہ پاک کا خاص قرب حاصل کر رہے ہیں۔

کبھی ہم نے سوچا کہ یہ رمضان نشریات ہیں کیا آخر ؟

میں ابھی یہ بحث بھی نہیں کرتا کہ کس طرح لوگوں کی عزت نفس کو مجروح کرکے رمضان كے ان گیمز شوز میں ان سے ایسی حرکتیں کروائی جاتی ہیں، محض موبائل اور موٹر سائیکل كے لالچ میں اور کس طرح ایک مداری كے بندر کی طرح عوام کو ان شوز میں نچایا جاتا ہے کہ یہ ابھی میرا موضوع نہیں اور اِس پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے۔ چلیں یہ سوالات بھی آپ پر چھوڑتے ہیں کہ خود ہی اپنے گریبان میں جھانک لیں جن لوگوں کو ان نشریات کا نشے کی حد تک شوق ہے وہ اپنا رمضان ضائع کر رہے ہیں یا اس کا پورا حق ادا کر رہے ہیں ۔ مفہوم حدیث ہے کہ “ہلاک ہو جائے وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اپنی مغفرت نہ کروا سکا۔”

چلیں، یہ بھی مان لیتے ہیں کہ الیکٹرونک میڈیا کا دور ہے اور اس جدید دور میں رہتے ہوئے ٹی وی نشریات كے ذریعہ رمضان مبارک کی برکات اور کچھ اسلامی معلومات مل رہی ہیں تو کیا برائی ہے ؟چلیں یہ بھی مان لیتے ہیں کہ کوئی برائی نہیں، مگر کیا یہ ضروری ہے کہ اِس طرح کی نشریات میں بھانت بھانت كے بھانڈوں کو لایا جائے جو عوام کو دین سکھانے اور اس کے قریب لانے كے لیے ایک مہینے کے لیے بہروپ بَدَل لیتے ہیں اور پِھر وہ بے تکی باتیں اور حرکتیں کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ!

کیا کہا ؟ کیا حرج ہے اگر کوئی بھانڈ ایسی نشریات کا حصہ بن کر پورا مہینہ آپ کو اپنی معلومات اور عقل و شعور كے مطابق تھوڑا بہت دین سکھانے کا ذریعہ بن جائے ؟

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ دنیا جہاں میں کسی بھی پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں اگر کسی مخصوص ٹاپک پر یا سبجیکٹ پر بات کی جاتی ہے یا اس پر پروگرام کیا جاتا ہے تو اسی شعبے كےماہرین کی خدمات لی جاتی ہیں جو اس پر تبصرہ کرتے ہیں اور اس پروگرام کا میزبان بھی وہی ہوتا ہے جو اس مخصوص عنوان یا معاملے کا ماہر ہو اور اس میں اتنی صلاحیت اور معلومات ہو كے اِس قسم کو کوئی پروگرام ہوسٹ کر سکے۔ مگر ایسا کیوں ہے کہ ہمیشہ دین کو ہی ایسے تجربات سے گزارا جاتا ہے اور اسے تختہ مشق بنایا جاتا ہے ۔

اگر ملک كے معاشی معاملے کا پروگرام ہو گا تو اس کا میزبان بھی اس بارے میں معلومات رکھ کر آئے گا، اور انہی لوگوں کو اس پروگرام میں بلائے گا اور ان کی رائے لے گا جو اِس موضوع پر اپنا ایک وسیع تجربہ اور علم رکھتے ہوں۔

سیاسی امور و حالات كے پروگرام میں تو کوئی بھانڈ نظر نہیں آئے گا، دفاعی تجزیے کرتے ہوئے بھی کسی میراثی کو دیکھا ہے؟ اور نہ ہی تعلیم کے نظام پر ان سے رائے طلب کی جاتی ہے۔ بس یہ نظر آئیں گے تو صرف اور صرف رمضان کی “اسلامی نشریات” میں۔

ان سوالات پر ضرور غور کیجیے اور اگر سمجھ آ جائے تو توبہ استغفار کرکے جتنے بھی دن رمضان میں باقی بچے ہیں، اس میں اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کریں۔

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam