ماہ رمضان نیکیوں کی بہار - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 23-شعبان- 1438 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان "ماہ رمضان نیکیوں کی بہار" ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان کو اللہ تعالی نے نیکیوں کا بہار بنایا ہے اور ایک بار پھر زندگی میں اسے پانے کی سعادت نصیب کی، لہذا اس ماہ میں عبادات کیلیے کمر کس لیں اور اپنے آپ کو بخشے ہوئے لوگوں میں شامل کروا لیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ : روزے کا مقصد بھوک پیاس نہیں بلکہ متقی بنانا روزے کا ہدف ہے، اس ماہ میں قیام، صیام اور لیلۃ القدر تلاش کرنے والوں کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں، روزے داروں کیلیے جنت کا ایک دروازہ مختص کر دیا گیا ہے، اس ماہ میں جس طرح نیکی کا ثواب زیادہ ہے، بدی کا گناہ بھی زیادہ ہے، پھر دوسرے خطبے میں انہوں نے امن و امان کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے مملکت حرمین شریفین میں کی جانے والی تخریب کاری کی سخت لفظوں میں مذمت کی اور آخر میں تمام مسلمانوں کیلیے جامع دعائیں فرمائیں۔

پہلا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلیے ہیں اس نے رمضان میں قرآن نازل فرمایا جو : تمام لوگوں کے لیے ہدایت ہے نیز اس میں ہدایت اور حق و باطل میں امتیاز کرنے والے واضح دلائل بھی ہیں [البقرة: 185] اللہ تعالی نے ماہ رمضان کو تمام مہینوں اور اوقات پر فضیلت والا بنایا، میں حق سچ اور ایمان پر مبنی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ اولاد عدنان کے سربراہ اور سب جہان والوں کیلیے اس دن شفاعت کریں گے جس دن کی ہولناکی سے بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل، صحابہ کرام اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں پر رحمت نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

اللہ کے بندو میں آپ سب کو خلوت و جلوت میں تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں، اللہ تعالی نے پہلے گزر جانے اور بعد میں آنے والے سب لوگوں کو اسی کی نصیحت فرمائی ہے: اور یقیناً ہم نے تم سے پہلے کتاب دیئے جانے والے لوگوں کو اور تمہیں یہی نصیحت کی ہے کہ تقوی الہی اختیار کرو۔[النساء: 131]

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے اپنی عنایتوں ،مہربانیوں اور بندگی کیلیے خصوصی بہاریں بنائی ہیں، ان میں رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور سب کو برکتیں ملتی ہیں، ان پاکیزہ بہاروں اور اوقات میں ایک ایسا مہینہ بھی ہے جس میں جہنم کے دروازے اچھی طرح بند کر دئیے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے چوپٹ کھول دئیے جاتے ہیں، یہ مہینہ انتہائی قریب آ گیا ہے اس کے شروع ہونے میں چند دن ہی باقی ہیں۔

اللہ کے بندو!

اس لیے اب کمر کس لو! سستی اور کاہلی سے اپنے آپ کو بچاؤ، یہ گنتی کے دن ہیں، یہ کوئی لمبا چوڑا وقت نہیں ہے، اس معمولی وقت میں لہو و لعب میں پڑنے کی گنجائش نہیں ، اس میں سستی اور کاہلی کا کوئی موقع نہیں، یہ ماہ گناہوں اور برائیوں کیلیے نہیں ؛ کیونکہ اس میں کسی بھی عمل کا بدلہ بڑھا کر دیا جاتا ہے۔

اب کوئی بخل سے کام لے گا تو وہ اپنے آپ سے بخیلی کرے گا[محمد: 38]

اور گناہ کا ارتکاب کرنے والا اپنا ہی نقصان کرے گا [النساء: 111]

اب خود ہی اللہ تعالی کو اپنا مثبت کردار دکھاؤ؛ کیونکہ اس ماہ میں رحمت الہی سے محروم کر دیا جانے والا شخص بد بخت ہے!!

اس ماہ کیلیے تیاری انتہائی ضروری ہے اور تیاری کیلیے سچی توبہ کے ساتھ تقوی مل جائے تو یہ بہترین زادِ راہ ہے: اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کئے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تا کہ تم متقی بن جاؤ۔[البقرة: 183]

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے تم پر روزے اس لیے فرض نہیں کیے کہ تم بھوکے ، پیاسے اور نقاہت سے چور ہو جاؤ، فرضیت کا مقصد تقوی ہے، لہذا روزوں کے فرض کرنے کا ہدف متقی بنانا ہے، تو بہت سے روزے دار ایسے بھی ہیں جنہیں روزے سے بھوک پیاس کے علاوہ کچھ نہیں ملتا!! اور کتنے ہی قیام کرنے والے ہیں جنہیں قیام کی وجہ سے تھکاوٹ اور بے خوابی ہی میسر آتی ہے!!

[رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے] (جو شخص خلاف شریعت بات کہنے اور بولنے سے احتراز نہ کرے تو اللہ تعالی کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی ضرورت نہیں )

(روزہ ڈھال ہے، چنانچہ جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو بیہودہ باتیں کرنے اور چیخنے چلانے سے گریز کرے اور اگر کوئی اسے گالی دے یا لڑائی کرے تو اسے بتلا دے: میں روزے سے ہوں)

لہذا روزے کی حالت میں محض [کھانے پینے جیسے]جائز امور چھوڑ کر مکمل قربِ الہی حاصل نہیں ہوگا، بلکہ اس کیلیے ان تمام گناہوں کو چھوڑنا بھی ضروری ہے جو ہر حال میں حرام ہیں جیسے کہ جھوٹ بولنا، ظلم کرنا، لوگوں پر زیادتی کرنا، چاہے ان کا تعلق خون، مال اور عزت آبرو کسی بھی چیز سے ہو۔

لہذا رمضان کے روزے رکھو تو روزوں کا خیال بھی کرو: اللہ تعالی سے ڈرو اور جان رکھو کہ تم اس سے ملنے والے ہو۔[البقرة: 223]

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جو شخص رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ ثواب کی امید سے رکھے تو اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں، جو شخص رمضان میں قیام ایمان کے ساتھ ثواب کی امید سے کرے تو اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں، اور جو شخص لیلۃ القدر کا قیام ایمان کے ساتھ ثواب کی امید سے کرے تو اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں)

اللہ کے بندو!

روزہ افضل ترین عبادت اور اطاعت ہے، اس کا ثواب بھی سب سے عظیم ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   یوم عرفات کا روزہ کِس دِن رکھا جانا چاہیے؟ - عادل سہیل ظفر

روزہ صبر کرنے والوں کی عبادت، متقی لوگوں کا زادِ راہ، کامیاب لوگوں کیلیے ذخیرۂ آخرت ہے۔

روزے کا ثواب بہت بڑا ہے، اس سے ملنے والی بھلائی بہت زیادہ ہے، ثواب میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔

روزہ بیماریوں سے شفا کا باعث ہے، روح اور جسم کی صحت، طاقت اور علاج کا ذریعہ ہے، نیز جسمانی تربیت بھی ہے، پھر ان سب سے بڑھ کر پروردگار کی اطاعت اور گناہوں کی مغفرت کا باعث بھی ہے۔

روزے کی فضیلت میں اتنا ہی کافی ہے کہ اللہ تعالی نے ابن آدم کے اعمال دو قسموں میں تقسیم کئے ہیں، اور روزوں کو مستقل الگ قسم قرار دے کر اسے اپنی طرف منسوب فرمایا ، جبکہ ابن آدم کے دیگر تمام اعمال کو دوسری قسم میں شامل فرمایا، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (ابن آدم کی تمام نیکیاں دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہیں، لیکن اللہ تعالی کا فرمان ہے: سوائے روزے کے؛ کیونکہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا، روزے دار میری وجہ سے اپنی خواہشات اور کھانا پینا چھوڑتا ہے، روزے دار کیلیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی روزہ افطار کرتے ہوئے اور دوسری خوشی اپنے پروردگار سے ملاقات کے وقت)

(روزے دار کے منہ کی مہک اللہ تعالی کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ اچھی ہے)

جنت میں اللہ تعالی نے روزے داروں کیلیے ایک دروازہ مختص کر دیا ہے، وہاں سے کوئی اور داخل نہیں ہو گا، اسی طرح روزے داروں کیلیے خصوصی مہمان نوازی بھی تیار کی ہوئی ہے جس میں کوئی اور شریک نہیں ہوگا، چنانچہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (بیشک جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، یہاں سے قیامت کے دن روزے دار داخل ہوں گے، ان کے ساتھ کوئی اور داخل نہیں ہو گا، کہا جائے گا: روزے دار کہاں ہیں؟ تو روزے دار اس میں سے داخل ہو جائیں گے ، جب آخری روزے دار داخل ہو جائے گا تو وہ دروازہ بند کر دیا جائے گا اور روزے داروں کے علاوہ کوئی بھی وہاں سے داخل نہیں ہو سکے گا، اس دروازے سے داخل ہونے والا پانی پیے گا اور جو پانی پی لے گا اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی)

اللہ کے بندو!

رمضان مغفرت کا مہینہ ہے، اس میں گردنوں کو آزاد کیا جاتا ہے، اس لیے رمضان میں اللہ تعالی کی رحمتیں لوٹ لو ، حصولِ رحمت کے اسباب اور ذرائع اپناؤ؛ بیشک وہ بہت ہی سخی، کرم کرنے والا اور عطا کرنے والا ہے۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: "نبی ﷺ منبر پر چڑھے اور فرمایا: (آمین) پھر دوسری سیڑھی چڑھے اور فرمایا: (آمین) پھر تیسری سیڑھی چڑھے اور فرمایا: (آمین)، پھر آپ منبر پر بیٹھ گئے، تو صحابہ کرام نے پوچھا: آپ نے کس چیز پر آمین کہا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: (میرے پاس جبریل نے آ کر کہا:

اس شخص کا ستیاناس ہو جس کے پاس آپ کا ذکر کیا جائے اور وہ آپ پر درود نہ پڑھے تو میں نے کہا: آمین۔

پھر جبریل نے کہا: اس شخص کا ستیاناس ہو جو اپنے والدین کو پا کر بھی جنت میں نہ جا سکے، تو میں نے کہا: آمین

پھر جبریل نے کہا: اس شخص کا ستیاناس ہو جو رمضان تو پائے لیکن اس کی مغفرت نہ ہو سکے، تو میں نے کہا: آمین) "

اس محرومی ،رسوائی ، برے فیصلے اور ناکامی سے ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔

گزشتہ رمضان میں کوتاہی برتنے والے! اب سابقہ رمضان تو گزر چکا ، لیکن اللہ تعالی نے ایک بار پھر زندگی میں رمضان کا موقع دیا ہے، اللہ کی اس نعمت پر شکرانہ ادا کرو، اچانک موت آنے سے پہلے اپنے رب سے ناتا جوڑ لو، مبادا عمر ضائع ہو جائے، تو اس وقت واویلہ کرتے ہوئے ہائے افسوس! ہائے بربادی! ہائے مر گئے! ہائے تباہ ہو گئے! کہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

پروردگار! کاش توں مجھے تھوڑی سی مہلت دے دیتا تو میں صدقہ خیرات کر کے نیک لوگوں میں شامل ہو جاتا۔[المنافقون: 10]

اسی طرح فرمان باری تعالی ہے: پروردگار! مجھے واپس لوٹا دیں [99] امید ہے کہ میں چھوڑی ہوئی دنیا میں جا کر نیک عمل کر لوں۔ ہر گز ایسا نہیں ہو گا، یہ تو ایک بات ہے جو اس نے کہہ دی ہے، اور ان کے دوبارہ جی اٹھنے تک ایک رکاوٹ حائل ہو چکی ہے۔[المؤمنون: 99، 100]

اور اللہ تعالی کسی نفس کا وقت آنے پر ہرگز تاخیر نہیں فرماتا۔ [المنافقون: 11] آہ !! افسوس در افسوس ہے ایسے شخص پر!!!

اللہ کے بندو!

نیکی کی تھکاوٹ ، مشقت، اور تکان ختم ہو ہی جاتی ہے لیکن اس کی لذت اور اجر اخروی زندگی کیلیے ذخیرہ اور خزانہ بن جاتی ہے۔

جبکہ گناہ کی لذت وقتی ہوتی ہے لیکن اس کے بد اثرات ہمیشہ اور پوری زندگی رہتے ہیں، نیز آخرت میں عذاب اور عقاب کا باعث بھی بنتے ہیں۔

تَفْنَى اللَّذَاذَةُ مِمَّنْ نَالَ صَفْوَتَهَا مِنَ الْحَرَامِ وَيَبْقَى الوِزْرُ وَالْعَارُ

حرام کام سے لذت حاصل کرنے والے کی لذت ختم ہو جاتی ہے جبکہ حرام کام کا گناہ اور اس کی عار باقی رہتی ہے

تَبْقَى عَوَاقِبُ سُوْءٍ فِيْ مَغَبَّتِهَا لَا خَيْرَ فِيْ لَذَّةٍ مِنْ بَعْدِهَا النَّارُ

حرام کام کے برے نتائج باقی رہتے ہیں، اور ایسی لذت میں کوئی خیر نہیں جس کے بعد آگ ملے

کوئی مرد ہو یا عورت ایمان کی حالت میں وہ نیک عمل کرے تو ہم اسے پاکیزہ زندگی عطا فرمائیں گے، اور ہم اسے اس کے اعمال کا اعلی ترین اجر لازمی نوازیں گے[النحل: 97]

اللہ تعالی میرے اور آپ کیلیے قرآن مجید کو بابرکت بنائے، ہمیں اپنے نبی کریم کی سنت اور آپ کی رہنمائی کے مطابق چلنے کی توفیق دے، میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور عظمت و جلال والے اللہ سے اپنے اور سب مسلمانوں کیلیے تمام گناہوں کی بخشش طلب کرتا ہوں، اس لیے آپ بھی اسی سے بخشش طلب کرو، بیشک وہ بخشنے والا ہے اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   یومِ عرفہ کا روزہ کب ہوگا؟ - محمد رضی الاسلام ندوی

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اللہ تعالی نے امن کو ایمان کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے فرمایا: جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم [شرک] سے داغ دار نہیں کیا تو انہی لوگوں کیلیے امن ہے اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔[الأنعام: 82]

اللہ کے بندو!

عبادت میں اطمینان، سکون اور امن کی ضرورت ہوتی ہے چنانچہ اگر دلوں میں دہشت ، رعب، خوف و ہراس گھر کر جائے تو عبادت میں خشوع و خضوع پیدا نہیں ہوتا، بلکہ رکوع و سجود میں لذت ہی نہیں رہتی۔

اللہ تعالی نے ہم پر ڈھیروں نعمتیں برسائیں، ہمیں امن و امان کی دولت سے نوازا، اس وقت جن فتنوں سے دیگر لوگ نبرد آزما ہیں ہمیں ان سے محفوظ رکھا ، ان فتنوں کی وجہ سے ان کے مال و جان، املاک اور اتفاق و اتحاد سب کچھ تباہ و برباد ہو گیا ہے۔

امن و امان بہت بڑی اور انمول نعمت ہے اس کی قدر اسی کو معلوم ہے جن کا امن و امان چھن گیا؛ اس لیے ہم پر ہر وقت اور ہر لمحے اللہ کا شکر ادا کرنا واجب ہے، امن و امان اور نعمتِ ایمان پر یا اللہ ! تیری ہی شکر کرتے ہیں، اللہ! تو نے ہمیں رمضان ایک بار پھر نصیب فرمایا ، اس پر بھی ہم تیرا شکر کرتے ہیں۔

ہم سب کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ جو بھی ہمارے امن و امان سے کھلواڑ کرنے کی کوشش کرے تو ہم اس کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں، جو ہمارے اتفاق و اتحاد میں رخنے ڈالنے کی کوشش کرے یا ہمیں کمزور کرنے کی سازش کرے ہم اس کے خلاف متحد ہو جائیں۔

بھائیو! اغیار کا ہدف ہمارا عقیدہ اور دین ہے، جب بھی مسلمان اپنے کسی مذہبی تہوار کیلیے تیاری کرتے ہیں تو اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کیلیے مکاریاں کی جاتی ہیں، مسلمانوں کے خلاف فتنہ پروری کی کوشش کی جاتی ہے۔

ارکان اسلام کی اجتماعی ادائیگی، ماہِ رمضان کی رونق اور حج عمرے کی پر امن ادائیگی یہ سب امور [اس ملک کے حق میں]شاہد عدل ہیں۔

اللہ تعالی پر مکمل اعتماد کے بعد ہم اپنی ملکی قیادت اور عقیدے پر بھروسا کرتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ دھوکا باز کبھی کامیاب نہیں ہو ں گے، ان کے حصے میں ہمیشہ ناکامی ہی آئے گی، ان کی مکاری انہی کی تباہی کا باعث بنے گی۔

اپنے نفس کے دھوکے میں آنے والا! شیطان کے دھوکے میں آ کر اس ملک کے امن و امان اور استحکام کے خلاف مکاریاں کرنے والا ہمیشہ اپنے کھودے ہوئے گڑھے میں گرے گا؛ کیونکہ: مکاری کی تباہی مکار کو ہی لے ڈوبتی ہے۔[فاطر: 43]

اللہ کے حکم سے ہمارا ملک اپنے عقیدے اور اتحاد پر ذرہ برابر بھی لچک نہیں دکھائے گا، اور اللہ تعالی ہمارے ملک کے امن و امان اور دین کو تحفظ عطا کرے گا۔

وہ اس گھر کے پروردگار کی عبادت کریں [3] جس نے انہیں بھوک میں کھلایا اور دہشت سے امن عطا کیا۔ [قريش: 3، 4]

اللہ تعالی اس ملک کی شدت پسند بیوقوفوں، دغا بازوں اور شیطان مردود سے حفاظت فرمائے، اکھڑ مزاج اور بد نام زمانہ لوگوں سے اس کی حفاظت فرمائے جو ہمیشہ اس ملک کے خلاف مکاری کرتے ہیں، ان کی یہ مکاری انہی کی تباہی کا باعث ہوگی، اللہ تعالی ان کی عیاری انہی کی بربادی کا باعث بنائے، ان کی نسلیں تباہ و برباد فرمائے اور انہیں دوسروں کیلیے عبرت بنا دے۔

یا اللہ! اس ملک کی خصوصی حفاظت فرما، اس ملک پر خصوصی کرم فرما، یا اللہ! اس ملک کو دائمی امن و امان، اتحاد اور اتفاق عطا فرما، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے اس ملک کو ظاہری اور باطنی تمام فتنوں سے محفوظ فرما، یا ارحم الراحمین

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کے حالات بہتر فرما، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ہمارے ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو امن و امان والا اور مستحکم ملک بنا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیری مرضی کے مطابق اقدامات کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! نیکی اور تقوی کے کاموں کیلیے انہیں مکمل رہنمائی عطا فرما، یا اللہ! انہیں اور ان کے دونوں نائبوں کو اسلام اور مسلمانوں کیلیے بہترین اقدامات کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! انہیں ملک و قوم کی بہتری کیلیے اقدامات کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہماری سرحدوں کی حفاظت فرما، ہمارے فوجیوں کی مدد فرما، یا قوی! یا عزیز!

یا اللہ! ہمیں ماہ رمضان نصیب فرما، یا اللہ! ہمیں ماہ رمضان نصیب فرما، یا اللہ! ہمیں ماہ رمضان نصیب فرما، یا اللہ! ہمیں ماہ رمضان میں قیام و صیام کی طاقت عطا فرما، یا اللہ! ہمیں ماہ رمضان میں قیام و صیام کی طاقت عطا فرما، یا اللہ! پھر ہماری عبادات قبول بھی فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ چاہتے ہیں، تیری سزاؤں سے تیری معافی کی پناہ چاہتے ہیں، اور تیری ذات سے تیری ہی پناہ مانگتے ہیں، ہم تیری ایسے حمد بیان نہیں کر سکتے جیسے تو نے خود بیان کی ہے۔

اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

یا اللہ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو، خلفائے راشدین : ابو بکر، عمر، عثمان اور علی سے راضی ہو، یا اللہ! ان کے ساتھ ساتھ اپنی رحمت کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو، یا ارحم الراحمین!

پی ڈی ایف فارمیٹ میں پرنٹ کیلیے کلک کریں

عربی آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ کیلیے کلک کریں