ہماری خوشیاں ہمارے غم - نورین تبسم

”خوشیاں بانٹنے سے دُگنی ہوتی ہیں اورغم بانٹنےسےآدھے رہ جاتے ہیں.“

یہ بات سوفیصد دُرست ہے پر یہ سچائی اتنی کڑواہٹ رکھتی ہے کہ اس کا ذائقہ چکھنا سخت نادانی ہے۔ پہلے آتے ہیں خوشیوں کی جانب، خوشی میں انسان اتنا بےخود ہوتا ہے کہ کسی کو اس رقص میں شامل کرے یا نہ کرے، سب خود اس کی جانب کھنچے چلے آتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض خلوص سے آگے بڑھتے ہیں تو بعض رشک سے یا پھر حسد و بُغض کے مخملی لبادے پہن کر سامنے آتے ہیں. جو بھی ہے ایک ہجوم ِعاشقاں انسان کو مرکزِ نگاہ بنا لیتا ہے۔

غم کے حوالے سے پہلے تو یہ طے ہو کہ غم کیا ہے اور غم کیوں؟ اگر ہر چیز من جانب اللہ ہے تو آنکھ کے آنسو اور دل کی بےچینی بھی اُسی کی عطا ہے۔ جب ہم خوشی کو سنبھال سنبھال کر نہیں تھکتے تو ذرا سی تکلیف بلکہ ابدی زندگی کے مقابلے میں ایک پل کی خلش بھی گراں کیوں گزرتی ہے۔ مان لیا کہ ہم انسان ہیں، اور انسانوں میں رہتے ہیں، اور مشکل وقت میں اُن کی طرف ہی دوڑتے ہیں، لیکن جب ہم بہت سوچ کر صرف اپنے غمگُسار دوستوں کے حلقے میں کوئی بات کریں تو یہ بھی بہت بڑا سراب ہے۔ ہمارا پیارا اُس درد کو بالکُل ایسے ہی محسوس کرے گا جیسے اُس پر یہ سانحہ گُزرا ہے۔ ہماری آنکھوں سے ٹپکنے والےآنسو اُس کے دل پر اثرانداز ہوں گے۔ ہم خود تو بہت ہلکے پُھلکے ہوجائیں گے لیکن ذرا غور کریں تو ہم نے اپنی محرومی کا ایک حصہ اپنے ہنستے مُسکُراتے دوست کو دے کر اُسے اُداس کر دیا۔ یہی ہے ہماری محبت، یہی ہے ہمارا خلوص۔ بات بظاہر چھوٹی سی ہے لیکن غور کیا جائے تو بہت بڑی ہے. دُنیا میں لوگ ہمیں ڈسٹ بِن کی طرح استعمال کرتے رہے، جب ہمارا وجود مایوسی کے کثیف انبار سے بھر گیا تو ہم نے وہی ڈسٹ بِن اپنے دوست کے سر پر اُلٹ دیا۔ یہ ہے ہمارا فہم؟ یہ ہے ہمارا شعور؟

”ہمیں اپنے دوستوں کو ڈسٹ بن کی طرح نہیں بلکہ پھولوں کے گُلدستے کی طرح سنبھال کر رکھنا چاہیے اور اس میں اپنی چاہت کے خوش رنگ پھولوں کا اضافہ کرتے رہنا چاہیے۔ ضمنی سی بات ہے کہ پھول کے پاس کانٹے لازمی ہیں تو دوست جب اِن کانٹوں کو بھی دل سے لگائیں گے تو ہمارے وجود میں پیوست نادیدہ سوئیاں خود بخود ہی نکل جائیں گی۔“

اہنے ذاتی مسائل سے نپٹتے ہوئے ہر وہ غم، پریشانی یا صدمہ جو ناقابلِ برداشت دِکھائی دے، اِسے اپنے دماغ کی فائلوں میں محفوظ کر لیں یا دوسرے لفظوں میں ڈاؤن لوڈ کر لیں۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم خوشی ہو یا غم، ہر فائل کو اُسی وقت دیکھنے کی لت کا شکار ہیں۔ غم اگر مجبوری ہے تو خوشی ہوس بن جاتی ہے۔ اور کچھ نہیں تو اپنے انٹرنیٹ سے سبق سیکھیں، جہاں فیس بک یا گوگل پلس کے ہوم پیج پر آنے والے عکس اور لفظ نظر کے سامنے سےگزرتے رہتے ہیں۔ کسی کے سیاق و سباق میں ذرا دیر کو دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے۔ زیادہ ہی اچھا لگے اور وقت نہ ہو تو بک مارک لگا کر آئندہ پڑھنے کو محفوظ کر لیتے ہیں۔ جب دل کسی کو اس احساس میں شریک کرنے کی خواہش کرے تو فوراً شئیر کرنا چاہتے ہیں۔ اپنی بات لگے تو اس کے ساتھ اپنا احساس بھی شامل کر دیتے ہیں۔ جب دل کسی صورت اس سے جدا ہونے پر آمادہ نہ ہو تو اپنے پاس رکھنے کے لیے ڈاؤن لوڈ کر کے سنبھال لیتے ہیں۔ ہم یہ سب محض انگلی کے ہلکے سے لمس سے جب چاہیں کر سکتے ہیں۔ بالکل یہی سبق ہماری زندگی کہانی کے لیے بھی ہے کہ محض سوچنے کے انداز میں تبدیلی سے ہم کسی بھی ناقابلِ برداشت یا لاینحل مسئلے کو برداشت کرنے اور کسی حد تک سمجھنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ جو ہو چکا یا ہو رہا ہے، اِسے بدلنا ہمارے اختیار میں نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   انکل! انسان کیا ہوتا ہے؟ - اسد علی

دُنیا میں ملنے والی ہر آسائش ہر آسانی باعثِ سکون نہیں ہوتی اور دُنیا میں ملنے والی ہر پریشانی، ہر تنگی باعثِ آزار نہیں ہوتی، بظاہر وہ کتنی ہی خوشنما یا بدنما نظر آ رہی ہو۔ صرف وقت ہی ہے جو ہمیں ہر احساس، ہر چیز کی اصلیت سے آگاہ کرتا ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ دُنیا میں کسی بھی شے کو دوام نہیں۔ عام گاڑی کی طرح زندگی کی گاڑی کو چلانے کے لیے بھی ایندھن درکار ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ خرچ ہوتا رہتا ہے۔ ہماری خوشیاں محرومیاں ایندھن کی طرح ہیں، گاڑی چلتی رہے تو اِن کی ضرورت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ایندھن نہ ملے، پھر گاڑی نے تو رُک ہی جانا ہے، یہ کہیں بھی بند ہو سکتی ہے، کسی مصروف سڑک کے درمیان یا کسی سُنسان موڑ پر، اندھیری رات میں کسی خطرناک علاقے میں یا پھر اپنے گھر کے محفوظ قلعے میں۔ اگر بروقت پتہ چل جائے تو انسان حفاظتی اقدامات کر سکتا ہے، مگر کبھی کبھی آنکھوں پر ایسا پردہ پڑ جاتا ہے کہ یک دم پتہ چلتا ہے کہ اب گاڑی آگے نہیں چل سکتی۔ یہ وقت نہایت خطرناک ہوتا ہے۔ ایک صورت یہ بھی ہے کہ گاڑی میں ضرورت سے زیادہ ایندھن ہو، یہ بھی مُہلک ہے۔ ہر شے ایک خاص تناسب میں ہو تو فائدہ مند ہوتی ہے۔ اس میں کامیابیاں اور ناکامیاں یکساں اہمیت رکھتی ہیں، جیسے ترقی یافتہ ممالک میں جب انسان سب کچھ حاصل کر لیتا ہے تو اُس کے پاس رونے کو آنسو بھی نہیں بچتے. ہر شے اُس کے قدموں میں ہوتی ہے تو پھر بھی وہ ڈپریشن میں چلا جاتا ہے، اور خود کشی کر لیتا ہے۔ اسی طرح کُچلے ہوئے پسے ہوئے لوگوں کے پاس تو لُٹانے اور گنوانے کو کچھ باقی نہیں بچتا تو وہ اپنی زندگی دے کر یہ آخری قرض بھی لوٹا دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   استقامت، خوف و غم سے رہائی کا وسیلہ - مفتی شاکر اللہ چترالی

ہمارے مسئلے یا پریشانیاں پانی کی لہروں کی طرح ہیں اور اِن کے بیچ ہمارا وجود ایستادہ چٹان کی صورت رہنا چاہیے، جسے پانی کی بپھرتی ہوئی موجیں ہر آن نم تو کرتی ہیں، مدوجزر سر تا پا شرابور بھی کر دیتے ہیں اور کبھی سونامی ہمیشہ کے لیے نگاہ سے اوجھل بھی کر دیتے ہیں، لیکن ہمیشہ کے لیے فنا صرف مالک کا حکم ہے، اُس کی مرضی ہے، اُس کی قائم کردہ وقت کی عدالت میں ہی یہ فیصلہ سنایا جا سکتا ہے۔ ہمیں نہ صرف دوسروں کی زندگی بلکہ اپنی زندگی میں بھی تقدیر کے کسی فیصلے کے خلاف ڈٹے رہنے کا اختیار نہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ آنے والے وقت میں آج کی خوشی کے پیچھے کیا غم پوشیدہ ہیں اور آج کے نہ بھولنے والے صدمات کے پہلو میں خوشیوں کی کون سی گھڑیاں منتظر ہیں۔

کسی بھی شے کے ملنے یا نہ ملنے کی خوشی یا غم نہ ہونا ہی اصل کامیابی ہے، کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ ہمیں ملنے والی شے خوشی کا باعث ہوگی یا پھر ملنے والی محرومی واقعی اس قابل ہے کہ اس کا سوگ منایا جائے۔ وقتی پسپائی ہمیشہ کی شکست کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں اور جس نے ہار کا ذائقہ نہیں چکھا، وہ کبھی جیت کی ابدی لذت نہیں پا سکتا۔

خوشی وہ جنس، وہ دولت ہے جو کسی بھی وقت کہیں سے مفت تو مل سکتی ہے لیکن اُسے لوٹا نہیں جا سکتا۔ یہ بھیک مانگ کر تو مل سکتی ہے لیکن کسی سے چھین کر کبھی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ خوشی بھرے ہوئے برتن کی طرح ہے حد سے بڑھ جائے تو چھلک جاتی ہے۔ غم تو شرابور کر دیتا ہے اندر باہر سے، اگر اسے سمجھنے کا گر نہ آئے۔ انسان کو اگر معلوم ہو جائے کہ اس کو آئندہ کیا غم ملیں گے تو وہ ایک پل بھی زندہ نہ رہے اور اگر انسان کو یہ معلوم ہو جائے کہ آئندہ اُسے کیا خوشیاں ملنے والی ہیں تو وہ کبھی مرنے کے لیے تیار نہ ہو۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • میں آپ کے سارے مضامین پڑھے نہایت ہی عمدہ اور حوصلہ افزا ہیں اللہ آپکو اور زورِقلم عطا کرے