قیام پاکستان اور آج کے لکھاری - نورین تبسم

تاریخ تحریکِ پاکستان سے قیام پاکستان تک کی کہانی ایک ایسی داستان ہے جس کے گواہ نہ صرف ہجرت کر کے آنے والے پاکستانی ہیں بلکہ پاکستان میں پہلے سے مقیم پاکستانی بھی بہت سے واقعات کےعینی شاہد ہیں۔ پاکستان کے قیام کو ستر برس مکمل ہوچکے۔ اس وقت نہ صرف وہ نسل اپنی صحت کے مسائل سے نپٹتے ہوئےتمام واقعات بیان کر سکتی ہے جو اُن کی جوانی کے دور میں پیش آئے بلکہ اس دور میں ذرا سا ہوش سنبھالنے والے بچے (جو آج اپنے گھروں کی عافیت میں ہمارے بزرگ ہیں) اس بارے میں بہت کچھ کہتے بھی رہتے ہیں۔ ہر باشعور پاکستانی کے گھر میں اس کےبچپن میں یا کبھی نہ کبھی اس نے کہیں نہ کہیں پاکستان کہانی ضرور سنی ہوگی۔ آج کے لکھاری کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ کانوں سے سنا وہ احوال سامنے لائیں جو کسی اپنے یا غیر کی آنکھوں نے دیکھا۔ ان کی یاد میں سمٹےاحساس کو اپنے لفظ کی زبان دیں۔ کوئی واقعہ، کوئی بات جو ہم نے اپنے بڑوں سے سنی اور یقیناً سنی ہوگی۔ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ قیام پاکستان ایک معجزہ ہے اور اُس وقت ہوش و حواس کی دنیا میں سانس لینے والا ہر پاکستانی اس بارے میں کچھ نہ کچھ جانتا ضرور ہے۔

ایک بات پڑھنے والے دل سے محسوس کریں گے کہ تیس کے ہندسے کو تیزی سے پھلانگتی، چالیس اور بچاس کے عشروں کی بےیقینی میں سانس لیتی اور ساٹھ کے سکون کی خام خیالی میں قدم رکھتی ہماری یہ نسل بس آخری نسل ہے جو تجربات وحوادث کی بھٹی میں حدت محسوس کرتی کندن ہوگئی، اور جس کی آنکھ وطن کے حوالے سے ناقابل یقین معاشرتی اور سیاسی اتارچڑھاؤ کی گواہ ہے۔ ہمارے بعد آنے والے شاید وہ درد اور دکھ نہیں جانتے جو ہم نے نہ صرف ذاتی طور پر بلکہ اجتماعی طور پر بھی برداشت کیے۔ ایک کڑوا سچ یہ بھی ہے کہ نئے سفر کے نئے مسافروں کو اِن الف لیلوی قصوں سے کوئی سروکار ہے اور نہ ہی یہ سب جاننا اُن کی تیز رفتار زندگی میں اولین ترجیح رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نئے لکھنے والوں کا درد - عبد الباسط بلوچ

آج کی نسل سے کوئی شکوہ ہرگز نہیں کہ آسودگی میں آنکھ کھولنا ان کی غلطی نہیں۔ انسان جس دور میں پیدا ہوتا ہے اسی دور کے حالات اس کی ساری زندگی کے احساسات میں لاشعوری طور پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ جیسے دُنیا خصوصاً برصغیر میں گذشتہ صدی کے پہلے پچاس سال والا دور افراتفری اور بےیقینی کا دور تھا۔ تقسیمِ بنگال کے بعد پہلی جنگِ عظیم سے شروع ہونے والے پےدرپے حالات و واقعات بڑی تیزی سے سیاسی منظرنامہ بدل رہے تھے۔ عام انسان کے لیے کسی بھی راستے کا انتخاب کرنا دشوار سے دشوار تر ہوتا چلا جا رہا تھا۔ خصوصاً جب قوم کے رہنما بھی کسی ایک منزل کی نشاندہی کرنے سے قاصر دکھتے تھے۔ اس دور میں (1947ء سے پہلے اور اس کے فوراً بعد) بیتے گئے وہ چھوٹے چھوٹے واقعات بھی بہت اہم ہیں جن کا تذکرہ ہم نے بڑوں سے سنا۔ ایسی باتیں چاہے ہندوستان میں رہنے والوں کی اس وقت کی یاد میں ہیں یا ہجرت کرنے والوں کی اور یا ہمیشہ سے پاکستان میں رہنے والوں کے پاس۔ پڑھے پڑھائے اور رٹےرٹائے سے ہٹ کر جو محسوس کرنے والی آنکھ نے کسی دوسری آنکھ سے ”سن“ کر اپنی روح میں جذب کیا، اُسے لفظ کے قالب میں ڈھالنے کی سعی ایک لکھاری پر فرض ہے۔

خیال رہے کہ برہنگی جسم کی ہو یا لفظ کی حدود و قیود کے اندر ہو تو دیکھنے اور پڑھنے والے پر بار نہیں بنتی۔ لیکن بہت کم کوئی اس میں فرق روا رکھتا ہے، ہم جسم کی برہنگی تو سمجھتے ہیں لیکن سفاک حقائق کو بیان کرنا آزادی اظہار۔ بات سچ جاننا یا سچ ماننا نہیں بلکہ اس کو دنیا کے سامنے ثابت کرنا ہے اور یہ سب سے بڑا کڑوا سچ ہے۔ ہم عام لوگ ہیں جومحض اپنی زندگی کے وہ سچ سامنے لاتے ہیں جن کی گواہ ہماری آنکھیں اور ہمارے لمس ہیں۔ تاریخ کے حوالے اور تاریخ کی باتیں اُن تاریخ دانوں کا دردِ سر ہیں جو کبھی شاہوں کے دربار میں آنے والی نسلوں سے سچائی چھپانے کو قصیدہ گوئی کرتے اور لکھتے تھے، یا کبھی نسلی یا مذہبی تعصب اور پیدائشی تنگ نظری ان کی نظر کا کینوس محدود کر دیتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   "پاکستان" ایک وعدہ بھی ہے - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

”اعلیٰ ذہنوں“ کے حامل پڑھے لکھے ڈگری یافتہ دانشور صرف ایک بات نہیں جانتے کہ تاریخ نہ صرف اپنے آپ کو دہراتی ہے بلکہ وقت کے ساتھ بہت سے بےرحم سچ خود بخود عیاں بھی کر دیتی ہے، لیکن صرف اُن کے سامنے جن کی آنکھیں کھلی ہوں۔ اہم بات یہ بھی کہ تاریخ کے سچ کی ”برہنگی“ دکھانے کا کوئی حاصل بھی تو نہیں۔ یہ صرف گڑے مردے اکھاڑنے والی بات ہے۔ بس جو جان لو اس کو اپنے اندر اتار لو اور محض وقتی بحث یا زبان کے چٹخارے کے لیے اس کوبیان نہیں کرنا بلکہ کہیں کوئی دلیل اس کے حق میں ملے تو ضرور سامنے لاؤ۔

یاد رہے ہماری اس نسل کے پاس سب سے قیمتی تُحفہ یادوں اور احساس کی دولت ہے تو معاشرتی اقدار کی حیران کن رنگ بدلتی تصویریں جن کی گواہی لفظ کی صورت کتابوں میں تو ملتی ہے لیکن بدقسمتی سے آنے والے نہ صرف کتابوں بلکہ اپنی زبان کے رنگ سے بھی کوسوں دورہیں۔ بقول شاعر، ہم ہیں چراغِ آخرِ شب۔ اور ہمارے بعد اجالے تو یقیناً ہوں گے اور خوب ہوں گے، لیکن مٹی کے چراغ کی روشنی نہیں۔ جو ہماری نسل کی کمائی ہے۔ کسی غرض سے بےنیاز ہو کر اپنے حصے کا چراغ روشن کرنا ہمارا فرض ہے۔
پاکستان پائندہ باد

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!