ہوم << انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور اور ہمارا مسکین دماغ - ابومحمد مصعب

انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور اور ہمارا مسکین دماغ - ابومحمد مصعب

ابومصعب جب آپ کا کمپیوٹر یا موبائل نیا ہوتا ہے تو وہ بہت تیزرفتاری کے ساتھ کام کر رہا ہوتا ہے، ادھر ہم نے کوئی کمانڈ جاری کی، ادھر چند لمحوں میں وہ کام ہوگیا۔ مگر کچھ دن کے بعد، آھستہ آہستہ وہ سست ہونا شروع ہوجاتا ہے اور اس میں پہلے کی سی سرعت اور تیزی باقی نہیں رہتی۔ یہ صرف نئے موبائل یا کمپیوٹر کے ساتھ نہیں ہوتا بلکہ جب آپ اپنے کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک فارمیٹ کرواتے ہیں اور دوبارہ ونڈوز ڈلواتے ہیں تو بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے؟
اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ شروع شروع میں ہارڈڈسک میں ڈیٹا بہت تھوڑ سا تھا بعد میں آپ نے اس میں بہت سی چیزیں اسٹور کردیں جس کی وجہ سے کمپیوٹر کے دماغ (پراسسر) کو ایک ایک چیز دیکھ بھال کرآگے بڑھنا ہوتا ہے۔
بلکل یہی حال ہمارے دماغ کا بھی ہے۔ جتنا زیادہ ڈیٹا ہم اپنے دماغ کی طرف بھیجیں گے، اس پر اتنا ہی زیادہ بوجھ بڑھے گا۔ دماغ کو input دینی والی چیزوں میں ہماری آنکھیں اور کان کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ یوں سمجھ لیں کہ ہماری آنکھیں اور کان ہمارے دماغ کے لیے کی بورڈ کا کام کر رہے ہیں جن کے ذریعہ ہم ہمہ وقت ڈیٹا کے بھاری بھرکم بنڈل دماغ کی طرف روانہ کر رہے ہیں۔ دماغ، ڈیٹا کے وہ بنڈل کھولتا ہے، ان کا جائزہ لیتا ہے، ایک ایک چیز کے بارے میں فیصلہ کرتا ہے کہ اس کا کیا کرنا ہے۔ اگر معاملہ ڈیٹا کے مستقل اسٹور کرنے کا ہے تو اسے میموری میں ڈال دیتا ہے، اگر ڈیٹا انسانی جذبات سے متعلق ہو تو اسے جذبات کے اظہار کے شعبہ کی طرف بھیج دیتا ہے جو خود انواع و اقسام کے خانے رکھتا ہے۔ ایک خانہ غصہ کا ہے، ایک رنج و الم کا ہے، ایک خوشی اور مسرت کا ہے، ایک حیرت و تجسس کا ہے، اور یہ لسٹ بھی خاصی طویل ہے۔ پھر جسم، حاصل کیے گئے ڈیٹا کی بنیاد پر ردعمل کا اظہار کرتا ہے۔
اس ساری گفتگو کو ذہن میں رکھتے ہوئے ذرا اپنی آج کی زندگی کے شب و روز کا جائزہ لیجیے۔ ہمارے چنے منے دماغوں کو ڈیٹا کا ہیوی ٹریفک کریش کر رہا ہے۔ بلکل ایسے جیسے مونٹیسری کے بچے کی پیٹھ پر آٹھ دس کلو کتب کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے جو اس کی کمر دہری کرکے رکھ دیتا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دؤر میں، ’’ویلے‘‘ ہونے کے باوجود ہم کس قددر اپنے آپ کو مصروف محسوس کرتے ہیں اگر اس چیز کا تجربہ کرنا ہو تو چند دن کے لیے الیکٹرانک میڈیا، انٹرنیٹ یا پرنٹ میڈیا سے دور رہ کر دیکھیں آپ بہت ہلکا پھلکا محسوس کریں گے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ انسانی دماغ کو اللہ نے ایک محدود برداشت دی ہے۔ اس کے اندر خوشی، غم، حیرت وغیرہ کے جذبات بھی محدود ہی ہیں۔ ہم جب چھوٹے تھے تو قتل کے واقعات کبھی کبھار ہی سنتے تھے۔ شاید مہینوں میں ایک آدھ۔ گاڑیوں کے حادثات یا سانحات کے بارے میں بھی اخبارات میں ایک دو ہی خبریں ہوتی تھیں مگر اب اگر آپ کسی ہوٹل پر ناشتہ کے لیے بیٹھیں اور سامنے ٹی وی لگا ہوا ہو تو ناشتہ کے ساتھ سو دوس آدمیوں کو مار کر اٹھیں گے۔ اندوہناک حادثات کے مناظر اور اسی طرح کی بری خبریں جن کو دیکھ کر آدمی یقیناََ غمگین ہوجائے، اب معمول کی چیزیں بن گئی ہیں۔ اور یہ عمل تقریباََ دن کے چوبیس گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن اور سارا سال چلتا رہتا ہے۔ انفارمیشن کی اس بہتات نے انسانی جذبات اور اس کی حسیت کو کچل کر رکھ دیا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا لامحدود معلومات کے حصول کا یہ عمل درست ہے؟ ناچیز کی رائے میں یہ ایک نہایت ہی خطرناک اور بے فائدہ عمل ہے جس کا انسانی صحت، دماغی حالت اور معمولاتِ زندگی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اب مجھے کوئی بتائے کہ اگر لاہور میں نرسوں نے ہڑتال کی ہے اور پولیس ان پر ڈنڈے پرسا رہی ہے تو دبئی میں بیٹھا ہوا ایک شخص اس سے کیا اخذ کرسکتا ہے اور وہ کیا کرسکتا ہے، اسی طرح اگر پی آئی اے کی فلائٹ لیٹ ہوگئی ہے اور مسافر احتجاج کر رہے ہیں تو لندن میں بیٹھے ہوے ایک شخص کو اس خبر سے کیا لینا دینا۔ یا پھر کھٹمنڈو میں موسم کی پہلی بارش ہو رہی ہے تو اس کا مجھے یہاں بیٹھے بیٹھے کیا فائدہ؟ پھر الیکٹرانک میڈیا پر ان خبروں کو جس طرح مرچ مصالحہ لگا کر پیش کیا جاتا ہے، خبر پڑھنے کا جو لب و لہجہ اور انداز چل پڑا ہے وہ خبر سے زیادہ ٹینشن دینے والا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسکرین پر دائیں سے بائیں اور اوپر سے نیچے، شراپ شراپ کرکے جو ٹکرز اور سلائیڈز چل رہی ہوتی ہیں وہ خود سنسنی پھیلانے کے یے کافی ہیں۔
جب ہم چھوٹے تھے تو ایک ہی چینل تھا جس کا نام پی ٹی وی تھا۔ وہ بھی دن کے تین بجے کھلتا تھا اور رات کے گیارہ یا بارہ بجے بند ہوجاتا تھا۔ اب ماشاءاللہ سینکڑوں چینل ہیں، خبریں ہیں نہیں تو کیا کریں، غیر اھم اور فضول چیزوں کو خبر بنا کر سنسنی پھیلاتے ہیں. ٹی وی والوں کا تو یہ بزنس ہے۔ وہ جان بوجھ کر معمولی باتوں کو ’’بریکنگ نیوز‘‘ قرار دے کر آپ کے سامنے لے آتے ہیں۔اور انداز بھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتا۔ مقصد ان کا یہ ہوتا ہے کہ آپ کو زیادہ سے زیادہ وقت کے لیے اپنے چینل کے ساتھ چپکا کر رکھیں تاکہ آپ کو زیادہ اشتہار دکھا کر زیادہ دولت کما سکیں۔
یہی حال فیس بک اور سوشل میڈیا کے دیگر پیجز کا ہے۔ آپ کی فرینڈلسٹ میں اگر پانچ ہزار لوگ ہیں تو آپ کی نیوز فیڈ ہر لمحے ایک خبر اگل رہی ہے اور تجزیہ کرکے دیکھ لیں، نناوے فیصد تحریریں فضول ہوتی ہیں۔ تو پھر بندہ کیا کرے؟َ کیا سوشل میڈیا چھوڑ دے، ٹی وی دیکھنا چھوڑ دے، اخبارات پڑھنے سے باز آجائے؟َ نہیں، یہ مراد ہرگز نہیں مگر ایک حد ہونی چاہیے۔ طے کرلیا جائے کہ چوبیس گھنٹہ میں کتنا وقت ان چیزوں کو دینا ہے اور کتنا وقت اپنی اصل اور نارمل لائف کو۔
تو میرے بھائیو، بہنو تے مترو!
انفارمیشن ٹیکنالوجی کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے کہ ہمیں دنیا کی ہر چیز کے بارے میں لازماََ علم ہو۔ ہم ہر طرح کی معلومات نہیں چاہتے، بس اتنی چاہتے ہیں جس کو ’’جنرل نالج‘‘ کہا جاسکے، جو ہمارے کامن سینس کو مہمیز دے، جس سے ہمارے رزق، ہماری صحت، ہمارے بچوں کی تعلیم و تربیت پر اچھے اثرات مرتب ہوں اور ہم کچھ وقت زندہ انسانوں کو بھی دے سکیں۔

Comments

Click here to post a comment