ہوم << شعراء کی محفل – محمد شفیق اعوان
600x314

شعراء کی محفل – محمد شفیق اعوان

آج سرِ راہ ’’بے غمؔ الہ آبادی‘‘ سے ملاقات ہو گئی۔ دعا سلام کے بعد فرمانے لگے: ’’صدر بازار کے قہوہ خانے میں احبابِ کرام انتظار کر رہے ہیں۔ آئیے جلدی چلیں، تاکہ کم از کم انہیں انتظار کی زحمت تو نہ اٹھانی پڑے۔‘‘

ہم نے بھی موقع غنیمت جانا اور دونوں جلدی جلدی صدر بازار کے قہوہ خانے کی طرف چل پڑے۔ قہوہ خانے میں داخل ہوئے تو یوں محسوس ہوا جیسے علم و ادب کی کوئی چھوٹی سی پارلیمان پہلے ہی اجلاس میں بیٹھی ہو اور ہمارے پہنچنے کا انتظار کر رہی ہو۔

احباب کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔ بھارت سے تشریف لائے ہوئے مہمان ’’مُلّا ابن العرب مکّی‘‘ موجود تھے۔ کراچی کے شہری ’’لاغرؔ مراد آبادی‘‘، ’’گستاخؔ مراد آبادی‘‘ اور ’’علامہ ابن العجم الشرقیؔ‘‘ بھی جلوہ افروز تھے۔ قہوے کی خوشبو، اہلِ علم کی گفتگو اور شعروں کی آمد و رفت نے ماحول کو ایسا بنا دیا کہ محسوس ہونے لگا کہ اگر قہوہ ذرا اور گرم ہو جائے تو شاید کسی کپ سے بھی کوئی غزل برآمد ہو جائے۔

قہوہ نوشی کے ساتھ علمی و ادبی گفتگو جاری رہی۔ نئی باتیں سامنے آئیں، نئی کتابوں کا ذکر ہوا، پرانی یادوں کی گرد جھاڑی گئی اور یوں وقت کا پتہ ہی نہ چلا۔ ایسی محفلیں دراصل چلتی پھرتی درس گاہیں ہوتی ہیں؛ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں فیس قہوے کے ایک کپ کی ہوتی ہے اور کبھی کبھی طالبِ علم کو ساتھ میں بسکٹ بھی خریدنا پڑتا ہے!

اسی دوران بے غمؔ الہ آبادی نے فرمایا: ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، میرے ایک قلمی اور ٹیلی فونک دوست ’فائرؔ کراکری‘ بھی ہیں۔‘‘

یہ سنتے ہی گستاخؔ مراد آبادی فوراً بول اٹھے: ’’بے غمؔ الہ آبادی صاحب! آج آپ نے فائرؔ کراکری کا ذکر نہیں کیا۔ ذرا اُن کے بارے میں بھی کچھ بتائیے۔‘‘

بے غمؔ صاحب نے ایک لمبی سانس لی اور فرمایا: ’’جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، میں فائرؔ کراکری کی خدمت اور تذکرہ کرتا رہتا ہوں، مگر اب وہ مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں۔ مجھے اس بات کا صدمہ ہے، کیونکہ کئی سال سے رابطہ تھا۔ تاہم اُن کا رویہ کبھی کبھی ایسا عجیب و غریب ہوتا تھا کہ آدمی سوچنے لگتا تھا کہ دوستی ہے، خط و کتابت ہے یا کسی پوشیدہ امتحان کا پرچہ؟‘‘

پھر کہنے لگے: ’’اگر آپ کو ایک پرانی کہانی سناؤں تو شاید آپ کو اندازہ ہو جائے کہ معاملہ کیا ہے۔‘‘

ہم سب متوجہ ہو گئے۔

### ’’ایک آنہ‘‘ کا منافع

بے غمؔ صاحب نے کہانی سنائی: ایک بوڑھی عورت ایک دکان پر گئی اور دکاندار سے کہا: ’’بھائی! ایک سیر چاول دے دو۔‘‘

دکاندار نے ایک سیر چاول تولے، کاغذ کے لفافے میں ڈالے اور بڑھیا سے ایک آنہ وصول کیا۔ مگر اس نے آنہ خزانے میں ڈالنے کے بجائے چاولوں ہی کے لفافے میں رکھ دیا۔

بڑھیا چاول لے کر گھر پہنچی۔ جب کھانا پکانے کے لیے چاول برتن میں ڈالے تو ان میں سے ایک آنہ بھی نکل آیا۔ بڑھیا نے حیرت سے آنہ دیکھا، پھر دکاندار کی طرف سے اپنی عقل مندی کا اندازہ لگاتے ہوئے بولی: ’’خیر ہے! دکاندار کو پھر بھی کچھ نہ کچھ منافع تو ہوا ہو گا!‘‘

یہاں پہنچ کر محفل میں ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔ پھر کسی نے قہوے کا گھونٹ لیا، کسی نے مسکراہٹ دبائی اور کسی نے شاید دل ہی دل میں سوچا کہ دنیا میں ایسے دکاندار بھی ہیں جو منافع کے لیے دکان نہیں، گاہک ہی کو استعمال کرتے ہیں!

بے غمؔ صاحب نے کہا: ’’فائرؔ کراکری کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ جب سے رابطہ ہوا، وہ خط و کتابت اور واٹس ایپ کے ذریعے اپنا کلام مجھے بھیجتے رہے۔ میں اُن کا کلام کمپیوٹر پر کمپوز کرتا، مختلف رسائل کو بھیجتا اور بعض اوقات ڈاک یا ای میل کے ذریعے بھی ارسال کرتا۔ کئی جرائد میں اُن کا کلام شائع ہوا۔‘‘

’’پھر اُن کا نعتیہ مجموعۂ کلام کتابی صورت میں آیا۔ میں نے اس پر تبصرہ لکھا اور دو تین رسائل کو بھیجا، جہاں وہ شائع ہوا۔ اُن کا کلام بھی مختلف مقامات پر شائع ہوتا رہا۔‘‘

’’پھر قطعات پر مشتمل کتاب آئی۔ میں نے اس پر تاثراتی مضمون لکھا۔ اس کے بعد شخصی نظموں پر مشتمل کتاب شائع ہوئی تو اس پر بھی مضمون لکھا، جو خود کتاب میں شامل کیا گیا۔‘‘

یہاں تک تو معاملہ بڑا خوش گوار تھا۔ لیکن اصل کہانی ابھی باقی تھی۔

بے غمؔ صاحب نے کہا: ’’جب کتابیں شائع ہو کر آئیں تو میں نے کہا کہ چند نسخے بھیج دیں، تاکہ چند کتب خانوں میں رکھوا دوں۔ جواب ملا: ’میری اپنی ضرورت پوری نہیں پڑتی۔‘‘‘

محفل میں ہنسی کی ایک ہلکی لہر دوڑ گئی۔ بے غمؔ صاحب نے کہا: ’’میں نے کہا، ’بھائی! یہ آپ ہی کے فائدے کی بات ہے، نہ بھیجیں۔‘ مگر انہوں نے آخرکار کتابیں بھیج دیں اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا: ’آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ نہ مجھے تنگ کرنا اور نہ پریشان کرنا۔‘‘‘

یہ سن کر گستاخؔ مراد آبادی نے قہوے کا کپ میز پر رکھا اور فرمایا:

’’واہ! یہ تو وہی بات ہوئی کہ آدمی اپنا کام بھی کرائے اور کام کرنے والے کو ہی کام کا مجرم قرار دے!‘‘

بے غمؔ صاحب نے کہا: ’’میں نے بھی عرض کر دیا: ’اچھا، میرا نمبر بلاک کر دیں۔ آئندہ نہ مجھے کلام بھیجنا، نہ فون کرنا۔ وہیں بیٹھے بیٹھے فائر کرتے رہو۔ مفت میں کام کرنے کا یہی صلہ ہے تو بہتر ہے کہ میں بھی اپنا حساب بند کر دوں۔‘‘‘

پھر قدرے مسکراتے ہوئے فرمایا: ’’اب میں نے اُن کا نام کاٹ دیا ہے۔ ایک کی کمی ہو گئی۔ بہرحال اچھا ہوا!‘‘

یہ سنتے ہی محفل میں قہقہہ بلند ہوا۔ کسی نے کہا: ’’جناب! ادبی دنیا میں کبھی کبھی کتابیں کم اور تعلقات زیادہ بھاری پڑ جاتے ہیں!‘‘

### ’’نام نہ لے، یاد نہ کر‘‘

گستاخؔ مراد آبادی نے اسی موقع پر ایک شعر سنایا:

؎ جو تجھے بھولے ہیں تو تجھ پہ بھی لازم ہے امیر
خاک ڈال، آگ لگا، نام نہ لے، یاد نہ کر

علامہ ابن العجم الشرقیؔ نے اسی مفہوم کا ایک پنجابی شعر سنایا جو یعقوب آسی کا ہے:

؎ اُس نے تینوں دلوں بھلایا، تیرے تے وی لازم آیا
مِٹّی پا سُو، تیلی لا سُو، ناں نہ لے سُو، وِسّر جا سُو

پنجابی شعر سنتے ہی محفل میں ایک بار پھر ہل چل مچ گئی۔ اردو والوں نے پنجابی کی مٹھاس کا لطف لیا اور پنجابی والوں نے اردو والوں کی حیرت کا۔

ایسے موقع پر اگر شعراء چند قدم کے فاصلے پر بیٹھے ہوں تو مشاعرہ نہ ہو، یہ ادبی دنیا کے دستور کے خلاف ہے۔ چنانچہ قہوے کے دوسرے دور کے ساتھ مشاعرے کا بھی آغاز ہو گیا۔

### شعر آیا، قہوہ آیا، قہقہہ آیا

مُلّا ابن العرب مکّی نے علامہ اقبالؒ کے یہ اشعار سنائے:

؎ کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نے ابلۂ مسجد ہوں، نہ تہذیب کا فرزند!

؎ اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش
میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند!

شعر ختم ہوا تو محفل پر سنجیدگی طاری ہو گئی۔ اقبالؒ کا شعر ہو تو قہوے کا کپ بھی کچھ دیر کے لیے فلسفی بن جاتا ہے۔

پھر لاغرؔ مراد آبادی نے محمد حلیمؔ انصاری کا قطعہ سنایا:

؎ ہوئے ساون میں اندھے یوں کہ ہریالی نہیں جاتی
بسی ہے پورے دل میں آدھی گھر والی نہیں جاتی
یوں اکثر سنڈے کو سالی ہمارے گھر تو آتی ہے
وہ آ کے لوٹ جاتی ہے، خشک سالی نہیں جاتی

قطعہ مکمل ہوا تو کچھ حضرات نے قہوے کی طرف دیکھا اور کچھ نے اپنے گھروں کی طرف۔ ظاہر ہے، بعض اشعار سننے کے بعد آدمی شاعر کو نہیں، اپنے حالات کو دیکھتا ہے!

بے غمؔ الہ آبادی نے مولانا ظفرؔ علی خان کا مشہور شعر سنایا:

؎ خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

شعر نے محفل کا رخ پھر سنجیدگی کی طرف موڑ دیا۔ معلوم ہوا کہ قوموں کی حالت بدلنے کے لیے صرف تقریریں، مشاعرے اور قہوے کافی نہیں؛ آدمی کو اپنی حالت بدلنے کی بھی کوشش کرنی پڑتی ہے۔

آخر میں بے غمؔ صاحب نے میری طرف دیکھا اور فرمایا:

’’آپ بھی کوئی شعر سنائیے۔‘‘

میں نے بھی عرض کیا:

؎ خبر نہیں کیا ہے نام اس کا، خدا فریبی کہ خود فریبی؟
عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ

اس شعر نے محفل میں ایک اور پہلو پیدا کر دیا۔ بات ایک دوست کی ناراضی سے شروع ہوئی تھی، مگر پہنچتے پہنچتے انسان کی اپنی اصلاح تک جا پہنچی۔

### آخرکار مشاعرہ

اس کے بعد باقاعدہ مشاعرہ ہوا۔ ہر شاعر نے اپنا اپنا کلام سنایا۔ کسی نے عشق کی بات کی، کسی نے معاشرے کی، کسی نے دوستوں کی بے وفائی کا ذکر کیا اور کسی نے زمانے کی بے اعتدالیوں کو موضوع بنایا۔

قہوے کے پیالے خالی ہوتے گئے اور اشعار کے خزانے بھرتے گئے۔

آخر میں گستاخؔ مراد آبادی نے ایسی بات کہی جو پوری محفل کا حاصل بن گئی:

’’جہاں قدر و قیمت اور ادب و احترام نہ ہو، وہاں نہیں جانا چاہیے۔ جو لوگ ابنُ الوقت، لالچی اور مطلب پرست ہوں، اُن سے دُور رہو۔‘‘

بات بظاہر مختصر تھی، مگر اس میں زندگی کا بڑا تجربہ پوشیدہ تھا۔

انسانی تعلقات بھی عجیب شے ہیں۔ کبھی ایک معمولی سی بات برسوں کی محبت کو ختم کر دیتی ہے اور کبھی ایک چھوٹی سی مہربانی زندگی بھر کی دوستی بنا دیتی ہے۔ کسی کے لیے وقت نکالنا، اس کے کلام کو ترتیب دینا، اس کی کتاب پڑھنا، تبصرہ لکھنا، رسائل تک پہنچانا اور اس کے علمی کام کو آگے بڑھانا معمولی بات نہیں۔ اگر کوئی شخص یہ سب کچھ بے غرضی سے کرے تو کم از کم ’’شکریہ‘‘ کے دو لفظ تو اس کا حق بنتے ہیں۔

لیکن ہماری دنیا میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو احسان کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور حق کو احسان سمجھنے لگتے ہیں۔ اُن کے نزدیک دوسروں کی محنت مفت کی چیز ہے، مگر اپنی طرف سے ایک کتاب کا نسخہ دینا بھی ایسا عظیم کارنامہ ہے جیسے تاجِ محل بنا کر عطا کیا جا رہا ہو!

ایسے لوگوں کے لیے وہی بوڑھی عورت کی بات یاد آتی ہے: ’’خیر ہے! دکاندار کو پھر بھی کچھ نہ کچھ منافع تو ہوا ہو گا۔‘‘

مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر معاملے میں ’’منافع‘‘ تلاش کرنے والا آخرکار اپنے تعلقات کا سرمایہ کھو دیتا ہے۔

### رشتوں کی اصل قیمت

دوستی صرف فون نمبر محفوظ کرنے کا نام نہیں۔ دوستی یہ بھی ہے کہ دوست کی خوشی میں خوشی محسوس کی جائے، اس کے دکھ میں شریک ہوا جائے، اس کی صلاحیت کو آگے بڑھانے میں مدد کی جائے اور اس کی عزت کو اپنی عزت سمجھا جائے۔

علمی و ادبی دنیا میں تو یہ ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ قلم کا رشتہ محض کاغذ اور سیاہی کا رشتہ نہیں، یہ اعتماد، احترام اور اخلاص کا رشتہ ہے۔

البتہ خدمت کرنے والے کو بھی ایک بات یاد رکھنی چاہیے: ہر شخص کے لیے اپنے وقت، محنت اور صلاحیت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھنا ضروری نہیں۔ جہاں بار بار تحقیر ملے، وہاں خاموشی سے راستہ بدل لینا بھی دانائی ہے۔

کیونکہ عزّت مانگنے سے نہیں ملتی، بعض اوقات خود کو وہاں سے ہٹا لینے سے محفوظ رہتی ہے۔

اور جہاں قدر نہ ہو، وہاں قیام کی ضد کیوں؟

آخر میں قہوے کا آخری گھونٹ پیتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہوا کہ آج کی محفل میں ہم نے صرف قہوہ نہیں پیا، بلکہ تجربات کا ایک پورا پیالہ نوش کیا ہے۔

اس پیالے میں دوستی بھی تھی، ناراضی بھی؛ ادب بھی تھا، طنز بھی؛ شعر بھی تھا، قہقہہ بھی؛ اور سب سے بڑھ کر ایک سبق بھی:

جو آپ کے خلوص کی قدر نہ کرے، اُس کے لیے اپنی محنت کا چراغ بار بار نہ جلائیں۔

کبھی کبھی کسی کا نام فہرست سے کاٹ دینا دشمنی نہیں ہوتا؛ یہ اپنے وقت، اپنی عزّت اور اپنی ذہنی سکون کی حفاظت ہوتی ہے۔

اور ہاں!

قہوے کا حساب البتہ سب نے برابر دیا تھا—کیونکہ یہاں ’’ایک آنہ‘‘ کا منافع کسی کو نہیں ملا!

محفل ختم ہوئی، احباب رخصت ہوئے، مگر گفتگو کی خوشبو دیر تک ذہن میں باقی رہی۔

یوں صدر بازار کا وہ قہوہ خانہ ایک معمولی نشست سے بڑھ کر ایک چھوٹی سی ادبی درس گاہ ثابت ہوا، جہاں قہوے کے ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ تعلقات میں خلوص ہو تو ایک لفظ بھی کافی ہے، اور مطلب پرستی ہو تو پوری کتاب بھی کم پڑ جاتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

محمد شفیق اعوان

محمد شفیق اعوان ،ناظم امن لاٸبریری ،محلہ منشیاں ،گاٶں و ڈاک خانہ شمس آباد ،تحصيل حضرو ،ضلع أٹک پوسٹ کوڈ 43490 موبائل نمبر 03085040024

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment