ہوم << خطبہ جمعہ مسجد نبوی – پروفیسر ڈاکٹر عبدالباری بن عواض ثبیتی – ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل
600x314

خطبہ جمعہ مسجد نبوی – پروفیسر ڈاکٹر عبدالباری بن عواض ثبیتی – ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل

حصولِ علم؛ تعمیرِ مستقبل
کسی قوم کا مستقبل اچانک وجود میں نہیں آتا، بلکہ درس گاہوں میں پروان چڑھتا ہے۔ کتاب، قلم، استاد اور طالب علم مل کر وہ فکری و اخلاقی بنیاد تیار کرتے ہیں جس پر قوموں کی ترقی کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ علم صرف روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ انسان کو اپنے رب کی معرفت، اپنے کردار کی اصلاح اور معاشرے کی خدمت کا شعور بھی عطا کرتا ہے۔ علم درست سمت میں آگے بڑھے تو فرد سنورتا، معاشرہ مضبوط ہوتا اور قوم ترقی کرتی ہے۔

مسجد نبوی کے خطیب پروفیسر ڈاکٹر عبدالباری بن عواض ثبیتی حفظہ اللہ نے اپنے خطبۂ جمعہ میں نئے تعلیمی مرحلے کے آغاز پر اساتذہ، طلبہ، والدین، تعلیمی اداروں اور پورے معاشرے کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلائی ہیں۔ خطیب محترم نے واضح کیا کہ اسلام میں علم کا مقام محض ایک دنیاوی ضرورت تک محدود نہیں۔ وحی الٰہی کا آغاز ہی پڑھنے کے حکم سے ہوا، کیونکہ ایمان اور صالح انسان کی تعمیر علم ہی سے شروع ہوتی ہے۔ علم انسان کو اپنے پروردگار کی پہچان عطا کرتا، دین کی سمجھ پیدا کرتا اور حق و باطل، نفع و نقصان اور خیر و شر میں امتیاز سکھاتا ہے۔ قرآن مجید بتلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے حقیقی معنوں میں وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔ اس لیے حقیقی علم وہ ہے جو انسان کے دل میں ایمان، اللہ کی خشیت اور جواب دہی کا احساس پیدا کرے۔ اگر علم ذہن کو معلومات سے تو بھر دے، لیکن کردار، رویے اور معاملات پر اس کا کوئی اثر دکھائی نہ دے تو اس کا مقصد ابھی مکمل نہیں ہوا۔

اسلامی نقطۂ نظر سے نفع بخش علم کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ہر وہ علم جس سے انسانی زندگی بہتر ہو، لوگوں کے مفادات محفوظ ہوں اور انسان، وطن اور امت کی خدمت ہو، خیر کے میدانوں میں شامل ہے۔ طب، انجینئرنگ، تدریس، تحقیق، انتظامی علوم اور جدید ٹیکنالوجی سبھی انسانی فلاح کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ نیت درست، مقصد پاکیزہ اور علم کا استعمال خیر کے لیے ہو۔ اخلاص کے ساتھ حاصل اور منتقل کیا جانے والا علم انسان کے لیے مسلسل اجر کا ذریعہ بن جاتا ہے۔تعلیمی عمل میں استاد کی حیثیت دھڑکتے ہوئے دل کی سی ہے۔ اس کا کام صرف معلومات منتقل کرنا، نصاب مکمل کرانا اور امتحان کی تیاری کرانا نہیں، بلکہ اس کے کندھوں پر انسان سازی کی عظیم ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔ اچھا استاد طلبہ کے دلوں کو پاکیزگی کی طرف مائل کرتا، ان میں اعلیٰ اقدار پیدا کرتا، ان کی ہمت جگاتا اور اپنے خالق و رازق کے ساتھ ان کا تعلق مضبوط بناتا ہے۔

استاد کی زبان سے نکلا ہوا ایک خیرخواہانہ جملہ کسی طالب علم کی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔ اس کی سکھائی ہوئی کوئی قدر برسوں بعد ایک صالح انسان کے کردار میں نمودار ہو سکتی ہے۔ اس کی بروقت رہنمائی کسی پریشان طالب علم کو حیرانی سے نکال سکتی اور اس کی حوصلہ افزائی کسی نوجوان کو مایوسی یا ناکامی کی کھائی میں گرنے سے بچا سکتی ہے۔ رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ جو شخص کسی نیکی کی طرف رہنمائی کرے، اسے بھی نیکی کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے۔ یوں استاد اپنے شاگردوں کے اچھے اعمال اور معاشرتی خدمات کے اجر میں بھی حصہ دار بن سکتا ہے۔ ایک مخلص استاد کے لیے دنیا میں اس سے بڑھ کر خوشی کیا ہوگی کہ وہ اپنے لگائے ہوئے پودوں کو زندگی کے مختلف میدانوں میں پھلتا پھولتا دیکھے۔ کوئی شاگرد ڈاکٹر بن کر انسانیت کی خدمت کرے، کوئی انجینئر بن کر تعمیر و ترقی میں حصہ لے، کوئی دیانت دار سرکاری اہل کار بن کر امانت ادا کرے اور کوئی عالم بن کر امت کی علمی و اخلاقی رہنمائی کرے۔ شاگردوں کی یہ کامیابیاں استاد کے لیے دنیا میں باعث افتخار اور آخرت میں جاری رہنے والے اجر کا وسیلہ بنتی ہیں۔

استاد کے لیے علم کے ساتھ بلند اخلاق بھی ناگزیر ہیں۔ اسے طلبہ کے درمیان عدل قائم کرنا، ان کی کمزوریوں پر صبر کرنا اور شفقت و نرمی کو اپنا مستقل طریقہ بنانا چاہیے۔ نرمی دلوں کے دروازے کھولتی اور معاملات کو خوب صورت بنا دیتی ہے۔ استاد اپنے شاگردوں کے لیے عملی نمونہ ہوتا ہے۔ طلبہ اس کے الفاظ ہی نہیں سنتے، بلکہ اس کے رویے، وقت کی پابندی، دیانت، انصاف اور طرز گفتگو کو بھی دیکھتے ہیں۔ بسا اوقات استاد کا کردار اس کی گفتگو سے زیادہ گہرا اثر چھوڑتا ہے۔یہ ذمہ داری صرف استاد تک محدود نہیں۔ معاشرے کے تمام طبقات، اداروں، ذرائع ابلاغ اور بااثر شخصیات کو علم کی عظمت اجاگر اور استاد کے مقام کا احترام کرنا چاہیے۔ جو معاشرہ اپنے معلم کو بے توقیر کر دے، وہ اپنی نئی نسل اور مستقبل دونوں کو کمزور کر دیتا ہے۔ استاد نسلوں کا مربی اور مستقبل کا معمار ہے؛ اس کے وقار کا تحفظ دراصل علم، تعلیم اور قومی ترقی کا تحفظ ہے۔

دوسری جانب طالب علم کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔ اس کے لیے قائم کیے جانے والے مدارس، اسکول، کالج اور جامعات، مہیا کی جانے والی سہولتیں اور اساتذہ کی محنت سب اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ وہ وقت کی قدر کرے۔ قوم کی امیدیں نئی نسل سے وابستہ ہیں۔ طلبہ کے علم، کردار اور عملی صلاحیتوں ہی سے وطن ترقی اور امت سربلندی حاصل کرے گی۔طالب علم کو علم کی اہمیت سمجھتے ہوئے اپنے تعلیمی زمانے کو غنیمت جاننا چاہیے۔ اسے اپنی تعلیم کو صرف ڈگری، ملازمت اور مادی ترقی تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ علم کے ذریعے اپنی شخصیت، اخلاق اور فکری بصیرت کو بھی بہتر بنانا چاہیے۔ وہ اپنے دین پر فخر، اپنی شناخت پر اعتماد، اپنے اخلاق میں بلندی اور اپنے اصولوں میں استقامت پیدا کرے۔ حقیقی تعلیم یافتہ شخص وہ ہے جس کی گفتگو، معاملات اور لوگوں کے ساتھ برتاؤ میں اس کے علم کا اثر نمایاں ہو۔

استاد کا احترام بھی طالب علم کے بنیادی اخلاق میں شامل ہے۔ استاد کی عزت دراصل علم کی عزت ہے۔ اختلاف، سوال اور علمی گفتگو اپنی جگہ، لیکن اس میں شائستگی اور تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔ اسی طرح طالب علم کی کامیابی میں اچھی صحبت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سنجیدہ اور صالح دوست ہمت بڑھاتا، نیکی میں مدد دیتا، غفلت کے وقت متوجہ کرتا اور محنت و ثابت قدمی کی ترغیب دیتا ہے۔ بری صحبت وقت ضائع، ارادے کمزور اور انسان کو اس کے اصل مقصد سے دور کر دیتی ہے۔موجودہ دور میں ٹیکنالوجی بھی تعلیم کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ اس نے حصول علم کے بے شمار دروازے کھول دیے اور استاد و طالب علم دونوں کو نئے وسائل فراہم کیے ہیں۔ تاہم ٹیکنالوجی اسی وقت مفید ثابت ہوتی ہے جب اسے شعور، ذمہ داری اور اخلاقی حدود کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ دانش مندی یہ ہے کہ انسان اس کے مفید پہلوؤں سے فائدہ اٹھائے اور ضرر رساں پہلوؤں سے محفوظ رہے۔

ڈیجیٹل دنیا میں ہر پڑھی اور سنی بات کو سچ سمجھ لینا درست نہیں۔ طالب علم کو معلومات کی تحقیق، ذرائع کی جانچ اور صحیح و غلط میں امتیاز کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے۔ قرآن مجید نے ایسی بات کے پیچھے چلنے سے منع کیا ہے جس کا انسان کو علم نہ ہو، کیونکہ آنکھ، کان اور دل سب کے متعلق بازپرس ہوگی۔ مصنوعی ذہانت اور جدید ذرائع سے فائدہ ضرور اٹھایا جائے، لیکن اپنی فکری آزادی، دینی شناخت اور اخلاقی اصولوں کو قربان نہ کیا جائے۔ علم مستقبل کی تعمیر کرتا ہے، لیکن وہ مستقبل اسی وقت روشن ہوگا جب استاد اپنی ذمہ داری کو عبادت سمجھے، طالب علم محنت اور حسن اخلاق کو اپنائے، معاشرہ اہل علم کی قدر کرے اور ٹیکنالوجی کو شعور کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ درس گاہوں میں صرف ذہن نہیں، کردار بھی تعمیر ہوں؛ صرف ہنر مند افراد نہیں، دیانت دار اور ذمہ دار انسان بھی تیار ہوں۔ یہی وہ تعلیم ہے جو فرد کو بلندی، وطن کو ترقی اور امت کو عزت عطا کر سکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment