ہوم << خطبہ جمعہ مسجد نبوی – پروفیسر ڈاکٹر علی الحذیفی – ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل
600x314

خطبہ جمعہ مسجد نبوی – پروفیسر ڈاکٹر علی الحذیفی – ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل

نیا تعلیمی سال؛ نسلِ نو کی تعمیر ہماری ذمہ داری

نئے تعلیمی سال کا آغاز محض تعطیلات کے اختتام کا نام نہیں، بلکہ نئی نسل کی علمی و اخلاقی تعمیر کے نئے مرحلے کی ابتدا ہے۔ بچے نئے عزائم کے ساتھ درس گاہوں کا رخ کرتے ہیں تو والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داریاں بھی نئے سرے سے سامنے آتی ہیں۔ یہ موقع سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ کیا ہم بچوں کو صرف امتحان اور ملازمت کے لیے تیار کر رہے ہیں، یا انہیں علم، کردار اور خدمتِ خلق کا شعور بھی دے رہے ہیں؟

مسجد نبوی کے خطیب پروفیسر ڈاکٹر علی الحذیفی حفظہ اللہ نے اپنے خطبۂ جمعہ میں علم کی عظمت، نئی نسل کی تربیت اور والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داریوں کو موضوع بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ علم عقل کو روشن، نفس کو پاکیزہ اور انسان کو خیر کی راہ دکھاتا ہے۔ انسان دوسرے انسان کو جو بہترین تحفہ دے سکتا ہے، وہ نافع علم اور درست رہنمائی ہے۔انسان دنیا میں اس حال میں آتا ہے کہ وہ کچھ نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ اسے سننے، دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں عطا فرماتا ہے، پھر وہ رفتہ رفتہ علم حاصل کرتا ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ اللہ نے اسے ماں کے پیٹ سے بے علم نکالا، پھر کان، آنکھیں اور دل عطا کیے تاکہ وہ شکر گزار بنے۔ پہلی وحی میں پڑھنے، قلم اور نامعلوم باتیں سکھانے کا بیان علم کی اہمیت نمایاں کرتا ہے۔ علم کی ابتدا اللہ کی عطا سے ہوتی اور اس کا مقصد بندے کو اپنے رب کی معرفت اور اطاعت تک پہنچانا ہے۔

بچے کی پہلی درس گاہ گھر اور پہلے معلم اس کے والدین ہوتے ہیں۔ وہ نصیحتوں سے زیادہ عملی نمونوں سے سیکھتا ہے۔ اس عمر میں ہر رویے کا تنقیدی جائزہ نہیں لے سکتا؛ اس لیے ماحول میں جو کچھ دیکھتا ہے، اسے درست سمجھ کر اپناتا ہے۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ یہ حدیث شخصیت سازی میں گھر اور ماحول کے گہرے اثرات واضح کرتی ہے۔والدین کی ذمہ داری صرف خوراک، لباس، فیس اور مادی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں۔ وہ بچے کو دین کی ایسی بنیادی باتیں سکھائیں جن سے ناواقف رہنے کی گنجائش نہیں، انہیں نماز کا پابند اور سچائی، امانت، حیا، احترام اور حسنِ معاشرت کا خوگر بنانا چاہیے۔ اسی لیے نبی اکرمؐ نے سات برس کی عمر میں بچوں کو نماز کا حکم دینے اور دس برس میں اس کی پابندی پر مزید توجہ دینے کی ہدایت فرمائی۔ بچپن کی اچھی عادتیں جوانی میں استقامت کا ذریعہ بنتی ہیں، جبکہ ابتدائی غفلت کے نقصانات بعد میں دور کرنا دشوار ہوجاتا ہے۔

والدین کے بعد استاد اور تعلیمی ادارہ بچے کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ استاد کا کام صرف نصاب مکمل کرنا اور امتحانات لینا نہیں؛ وہ شاگردوں کے لیے عملی نمونہ بھی ہوتا ہے۔ بچے اس کے علم کے ساتھ کردار، گفتگو، دیانت اور دوسروں سے برتاؤ بھی سیکھتے ہیں۔ اگر استاد کی زبان نصیحت کرے مگر عمل اس کے خلاف ہو تو تعلیم اخلاقی اثر کھو دیتی ہے۔ طالب علم کو نافع علم کے ساتھ معلم میں عمل صالح کا نمونہ بھی دکھائی دینا چاہیے۔تربیت کا مقصد ایسا فرد تیار کرنا ہے جو معاشرے کی تعمیر میں مفید کردار ادا کرے؛ فائدہ پہنچائے، نقصان نہ دے، اصلاح کرے اور فساد نہ پھیلائے۔ بنیادی تعلیم کے بعد طالب علم اپنی استعداد، رجحان اور قابلیت کے مطابق تخصص اختیار کرے۔ کسی میں دینی علوم کا ذوق ہوتا ہے، کسی میں طب، انجینئرنگ، زراعت، صنعت، معیشت، انتظامی یا سماجی علوم کی صلاحیت نمایاں ہوتی ہے۔ درست رہنمائی اسے اپنی صلاحیت پہچاننے اور مفید میدان منتخب کرنے میں مدد دیتی ہے۔

خطبے میں علومِ شریعت اور عربی زبان کی اہمیت بھی نمایاں کی گئی۔ امت کی بنیاد شریعت ہے اور اسے سمجھنے کے لیے عربی علوم سے واقفیت ناگزیر ہے۔ دینی علم دنیا کے ساتھ آخرت میں بھی رہنمائی کرتا ہے۔ اسی لیے نبی اکرمؐ نے علما کو انبیا کا وارث قرار دیا، کیونکہ انبیا مال نہیں بلکہ علم کی میراث چھوڑتے ہیں۔ تاہم انسانوں کی حقیقی ضروریات پوری کرنے والے دنیاوی علوم بھی امت کی قوت اور ترقی کے لیے ضروری ہیں۔معاشرے کو ماہر علما کے ساتھ قابل ڈاکٹر، زرعی ماہرین، انجینئر، صنعت کار، ماہرینِ معیشت، منتظمین، سماجی علوم کے محققین اور دفاعی علوم کے متخصصین بھی درکار ہیں۔ ترقی کی ہر نافع صورت مطلوب ہے۔ مسلمان دنیاوی علم اس نیت سے حاصل کرے کہ اس کے ذریعے اپنی جائز ضروریات پوری اور لوگوں کو فائدہ پہنچائے گا اور اللہ کی رضا کا طالب رہے گا تو اس کی تعلیم اور پیشہ بھی اجر کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اعمال کی قدر نیتوں سے متعین ہوتی ہے؛ اس لیے طالب علم اور استاد تعلیمی سفر کے آغاز ہی میں اپنی نیت درست کریں۔ حسنِ عمل کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے حسنِ ظن بھی رکھیں؛ کیونکہ حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق اس سے معاملہ کرتا ہوں۔

علم کی فضیلت انسانوں تک محدود نہیں۔ قرآن نے سدھائے ہوئے شکاری جانور کے شکار کو عام جانور کے شکار سے ممتاز قرار دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم معمولی صلاحیت کو بھی مؤثر بناتی ہے۔ پھر انسان علم و تربیت سے کتنی بلند منزلیں طے کرسکتا ہے! لیکن علم حقیقی فضیلت اسی وقت بنتا ہے جب اس کے ساتھ عمل صالح، ذمہ داری اور خدمت کا جذبہ موجود ہو۔نسلِ نو کی تیاری صرف والدین یا اساتذہ کا کام نہیں۔ ریاست پر لازم ہے کہ تعلیم اور تخصص کے ضروری مواقع فراہم کرے، جبکہ معاشرے کا ہر فرد اور ادارہ اپنی استطاعت کے مطابق بھلائی میں حصہ ڈالے۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی زیرِ نگرانی لوگوں کے بارے میں سوال ہوگا۔ اس اصول کی روشنی میں تعلیمی منتظم، سربراہ، استاد، والد اور والدہ سب اپنی جگہ جواب دہ ہیں۔ کوئی شخص اپنی ذمہ داری دوسروں پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔

مسلمان ایک دوسرے کے لیے ایسی عمارت کی مانند ہیں جس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے۔ اس لیے تعلیم کو محض انفرادی ترقی کی سیڑھی نہیں، اجتماعی استحکام کا ذریعہ سمجھنا چاہیے۔ نئی نسل کو اس قابل بنانا ہوگا کہ وہ دین پر ثابت قدم رہتے ہوئے مفید علوم میں آگے بڑھے، مسلمانوں کی ضروریات پوری کرے اور معاشرے کو فکری، اخلاقی اور عملی قوت فراہم کرے۔ علمی پسماندگی معاشی نقصان کے ساتھ قوموں کی خود مختاری اور عزت بھی کمزور کردیتی ہے۔نئے تعلیمی سال کے آغاز پر طلبہ اپنی پڑھائی، اساتذہ اپنی تدریس، والدین اپنی تربیتی ذمہ داریوں اور منتظمین اپنی امانت کا آغاز اللہ کے نام سے کریں۔ نیت یہ ہو کہ علم کو عمل، کردار اور خدمت سے جوڑنا ہے۔

والدین بچوں کی نگرانی کریں، اساتذہ اپنے عمل سے انہیں راستہ دکھائیں اور ادارے ایسا ماحول بنائیں جس میں علم کے ساتھ اخلاق بھی پروان چڑھے۔ یہی تعلیم فرد کو سنوارتی، معاشرے کو مضبوط کرتی اور امت کو سربلندی عطا کرتی ہے۔ نیا تعلیمی سال اس اجتماعی عہد کی تجدید ہے کہ ہم نسلِ نو کو صرف تعلیم یافتہ نہیں، بلکہ صالح، ذمہ دار اور معاشرے کے لیے مفید انسان بنائیں گے۔

مصنف کے بارے میں

ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment