کثرت کے پیچھے بھاگنے والا سود خور معاشرہ، برکت اور قناعت کے مفہوم کی گہرائی کو نہیں سمجھ سکتا۔ غلامی طویل ہو جائے تو سوچیں بھی غلام ہو جاتی ہیں، پھر زنجیروں کی ضرورت نہیں رہتی۔ آئینے دھندلے ہو کر بے چہرگی کے خوف سے چٹخنے لگتے ہیں۔ جب اخلاقیات کا جنازہ اٹھتا ہے تو پھر گرگِ آشتی کی تہذیب جنم لیتی ہے۔
ماں کہا کرتی تھی،
“ہر عطا پر غور ضرور کیا کرو۔ ہر عطا نعمت نہیں ہوتی، آزمائش بھی ہو سکتی ہے، اور حکمت کے نور سے ہی تم آزمائش اور نعمت میں فرق کر سکتے ہو۔”
میری ماں فقیری میں بڑی امیر تھی۔ اس کی یادداشت کمال کی تھی۔ اسے ہمیشہ یاد رہتا تھا کہ اس نے میری خطاؤں اور نافرمانیوں کو کیسے بھولنا ہے۔ شاید یہ عادت اس نے اپنے ربِ کائنات سے سیکھی تھی۔رزق کی خزاں میں بھی، میں نے کبھی ان کی زبان سے شکوہ نہیں سنا تھا۔ وہ کہتی تھی،
“شکر ہر حال میں شکوے سے بہتر ہوتا ہے، اور اگر شکر ہو تو ہر کھانا من و سلویٰ ہے۔”
جب بھی گھر میں اچھا کھانا بنتا، وہ گورکن کو ضرور بھجواتی تھی۔ کہتی تھی،
“دنیا میں آپ کا آخری محسن گورکن ہوتا ہے۔”
کہتی تھی،
“مسرت والی، پُرسکون زندگی جینا چاہتے ہو تو حالات کے دفنائے لوگوں کا ہاتھ پکڑ کر انہیں باہر نکالو۔ اپنے کندھوں کو زندہ لوگوں کی سسکیوں کے لمس کا عادی بناؤ، کیونکہ ہم تخلیق ہی سہارا بننے اور درد بانٹنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ رب کی مخلوق کو خود سے اہم سمجھو؛ یہی محبت ہے، یہی درویشی ہے۔ اپنے منفی رویے سے لوگوں کے اندر قبریں نہ اگاؤ۔ نہ ان کے پاس اتنے نوحے ہوتے ہیں، نہ ہی اتنے چراغ۔”
ہر کسی کے سوال کو عزت دینا، کیونکہ جب سوالوں کے موسم گزر جائیں تو فقط پچھتاوے ہی رہ جاتے ہیں۔ ہر موسم میں محبتیں اور خواب ہی کاشت کرنا۔ کہتی تھی،
“جنگل معاشرے کی زبان اور طاقت ہوتے ہیں۔ یہ ان اکتائے ہوئے، سہمے بدن کا دکھ نہیں جان سکتے جو زرد چہرہ اٹھائے پھرتا ہے۔”



تبصرہ لکھیے