ہوم << بگھی کی سواری – راحیلہ خان ایڈووکیٹ
600x314

بگھی کی سواری – راحیلہ خان ایڈووکیٹ

ملک میں ہر طرف بگھی میں آئی جی کی سواری کا شور ہے۔ حالانکہ ایسی بگھیوں میں بیٹھ کر جب دلہا آتا ہے تو یہی عوام اس کی شان میں قصیدے پڑھتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ دلہن لینے نہیں آیا بلکہ اپنا علاقہ فتح کر کے آیا ہے۔

ویسے یہ بات بھی سچ ہی ہے، آج کل شادی صرف فاتح ہی کر سکتا ہے۔ عام آدمی بس خواب ہی دیکھتا ہے اور سر گنجا ہوتے دیکھتا رہتا ہے۔بگھیاں کراچی میں بھی ہوتی ہیں۔ بچپن میں میں نے بھی سواری کی۔ اس لیے میری خواہش ہے کہ محتشم بھی اسکول بگھی میں جایا کرے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ بگھی محتشم کی سائیکل سے بھی سست چلتی ہے۔ دوسرا، اتنی سجی سنوری ہوتی ہے کہ عام چلتے پھرتے لوگ احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں( اور میں نہیں چاہتی محتشم کسی تکبر کا شکار ہو۔) تیسرے، بگھیاں ٹرک جتنی جگہ گھیرتی ہیں اور کراچی میں تو سائیکل کے گزرنے کی جگہ مشکل سے ملتی ہے، ایسے میں بگھی جب تک اسکول پہنچے گی محتشم میٹرک کر چکا ہوگا اور اس کے بعد تو موٹر سائیکل ہی چلاتے ہیں لڑکے) اس لیے محتشم کو میری ایک ہی ہدایت ہے کہ بیٹا خواب میں ہی “بگھی سواری” کر لو اور ایسے ہی خوش رہو۔

بگھیوں کے متعلق سوچتے سوچتے میں لیڈیز اسکوٹی کے متعلق سوچنے لگی جو کہ اب مرد بھی چلاتے ہیں۔ (وہ بھی پنک کلر کی) اگر میں اور محتشم بگھی کا خواب دیکھتے دیکھتے اسکوٹی سے گھر پہنچ جائیں تو کیا برا ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

راحیلہ خان ایڈووکیٹ

راحیلہ خان ایڈووکیٹ ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ میں وکالت کرتی ہیں۔ مصنفہ اور ریسرچ اسکالر ہیں۔ سال 2022 میں ورازت مذہبی امور کے تحت سیرت النبیﷺ کانفرنس میں ملکی سطح پر تحقیقی مقالے میں اول پوزیشن حاصل کرکے صدارتی ایوارڈ کی مستحق ٹھہریں۔ ایک اپنی کتاب اور دو کتابوں کی شریک مصنفہ ہیں۔ کراچی کی بچہ اور خواتین جیل میں فلاحی کاموں میں شریک ہوتی ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment