ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد اسلام آباد
درسِ حدیث بعد نمازِ ظہر
الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، سيدنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين
اس درس میں ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب نے نہایت جامع انداز میں یہ حقیقت واضح فرمائی کہ اسلام میں صدقہ کا مفہوم صرف مال خرچ کرنے تک محدود نہیں۔ بلکہ ہر وہ عمل جو اللہ تعالیٰ کی رضا، بندوں کی بھلائی اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنے وہ بھی صدقہ ہے۔ اسی کے ساتھ آپ نے احادیثِ نبویہ کی عظمت، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی حدیث سے محبت، اور مسلمانوں کی ذمہ داری پر نہایت مؤثر گفتگو فرمائی۔
حدیث مبارکہ:
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ. قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَجِدْ؟ قَالَ: يَعْمَلُ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ. قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ؟ قَالَ: يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ. قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ أَوِ الْخَيْرِ. قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ، فَإِنَّهَا لَهُ صَدَقَةٌ
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر مسلمان پر صدقہ کرنا لازم ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: اگر کسی کے پاس کچھ نہ ہو؟
آپ ﷺنے فرمایا:
وہ اپنے ہاتھ سے محنت کرے خود بھی فائدہ اٹھائے اور صدقہ بھی کرے۔ عرض کیا: اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو؟ فرمایا: ضرورت مند اور مصیبت زدہ کی مدد کرے۔ عرض کیا: اگر یہ بھی نہ کر سکے؟ فرمایا: نیکی کا حکم دے۔ عرض کیا: اگر یہ بھی نہ کر سکے؟ فرمایا: برائی سے خود کو روک لے یہی اس کے لیے صدقہ ہے۔(صحیح البخاری، صحیح مسلم)
صدقہ کا حقیقی مفہوم
ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ عام طور پر صدقہ کا تصور صرف مال دینے تک محدود سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ کے مفہوم کو بہت وسیع فرمایا ہے۔ اگر کوئی شخص محنت مزدوری کرکے اپنے اہل و عیال کے لیے حلال روزی کماتا ہے تو اس کا یہ خرچ بھی صدقہ ہے۔ اگر مال نہ ہو تو لوگوں کو نیکی کی دعوت دینا، برائی سے روکنا، خیر کی ترغیب دینا، علمِ دین سیکھنا اور دوسروں تک پہنچانا بھی صدقہ ہے۔ حتیٰ کہ اگر انسان ان میں سے بھی کچھ نہ کر سکے تو خود کو گناہوں اور برائیوں سے بچانا بھی اللہ کے نزدیک صدقہ شمار ہوتا ہے۔ اسی طرح دوسری احادیث میں آیا ہے کہ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا صدقہ ہے۔ اور اپنے مسلمان بھائی سے مسکرا کر ملنا بھی صدقہ ہے۔ گویا اسلام نے زندگی کے ہر مثبت عمل کو عبادت اور صدقہ کا درجہ عطا فرمایا ہے۔
حدیثِ نبوی کی عظمت
ڈاکٹر صاحب نے نہایت درد بھرے انداز میں توجہ دلائی کہ جب مسجد میں *حدیثِ رسول ﷺ* بیان کی جا رہی ہو تو اسے انتہائی ادب، خاموشی اور توجہ سے سننا چاہیے۔ افسوس کہ بعض لوگ درس کے دوران اٹھ کر چلے جاتے ہیں یا بات سننے میں دلچسپی نہیں لیتے جبکہ یہ وہ کلمات ہیں جن کے ذریعے ہماری زندگیوں کی اصلاح ہوتی ہے۔ حدیث صرف ایک علمی گفتگو نہیں بلکہ ہمارے دین، ایمان، عبادات، معاملات اور اخلاق کی رہنمائی کا سرچشمہ ہے. اس لیے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ حدیث کو خود بھی توجہ سے سنے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دے۔
صحابۂ کرام کی حدیث سے بے مثال محبت
ڈاکٹر صاحب نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے روشن کردار کی مثالیں پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے حدیثِ رسول ﷺکے حصول کے لیے ناقابلِ تصور مشقتیں برداشت کیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کئی مرتبہ بھوک اور فاقے کی شدت برداشت کرتے لیکن رسول اللہ ﷺ کی مجلس کو چھوڑ کر کھانے کے لیے نہ جاتے اس خوف سے کہ کہیں نبی کریم ﷺ کی کوئی بات سننے سے محروم نہ رہ جائیں۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی۔
اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ
ترجمہ: اے اللہ! انہیں دین کی گہری سمجھ عطا فرما اور قرآن کی صحیح تفسیر کا علم عطا فرما۔
اس دعا کی برکت سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما امت کے عظیم مفسر اور عالم بنے۔ آپ علمِ حدیث کے حصول کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر کرتے۔ شدید گرمی میں اہلِ علم کے دروازوں پر انتظار کرتے اور بڑی عاجزی سے احادیث حاصل کرتے۔ انہی عظیم قربانیوں کی بدولت آج سنتِ نبوی کا عظیم خزانہ ہمارے پاس محفوظ ہے۔
ہمارے لیے سبق
یہ درس ہر مسلمان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ ہر نیکی کو معمولی نہ سمجھیں کیونکہ ہر خیر کا کام صدقہ بن سکتا ہے۔حلال روزی کمانا بھی عبادت اور صدقہ ہے۔نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے روکنا ایمان کی علامت ہے۔علمِ دین حاصل کرنا اور دوسروں تک پہنچانا بہترین صدقہ ہے۔حدیثِ رسول ﷺ کو ادب، محبت اور توجہ سے سننا ایمان کا تقاضا ہے۔صحابۂ کرام کی علمی محنت کو یاد رکھتے ہوئے سنتِ نبوی کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔مسجد کے درس و بیان کو محض رسمی مجلس نہ سمجھا جائے بلکہ اپنی اصلاح اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنایا جائے۔
دعا
درس کے اختتام پر ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب نے رقت آمیز دعا فرمائی:
اے اللہ! فیصل مسجد میں حاضر ہونے والے تمام مرد و خواتین کی جائز حاجات پوری فرما۔ سب کو حلال، پاکیزہ اور بابرکت رزق عطا فرما روزگار کے بہترین ذرائع نصیب فرما۔ کام کے سلسلے میں آنے والوں کے لیے آسانیاں پیدا فرما پریشان حال لوگوں کی پریشانیاں دور فرما۔ گھروں میں محبت، سکون، برکت اور خوشحالی عطا فرما تمام بیماروں کو کامل صحت و عافیت نصیب فرما۔ ہمارے والدین اساتذہ اور تمام مرحومین کی کامل مغفرت فرما۔ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما اور جو زندہ ہیں ان کی زندگیوں میں خیر و برکت عطا فرما۔ اے اللہ! ہمیں قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے احادیثِ نبویہ کی قدر کرنے ان پر عمل کرنے اور انہیں دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔



تبصرہ لکھیے