افراد معاشرہ کے باہمی احترام، رواداری اور تحمل مزاجی کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے آج ہمارا معاشرہ ”عدم برداشت“ جیسی مہلک بیماری کا شکار ہے، یہ ایک ایسی ذہنی و اخلاقی کیفیت ہے جس میں انسان دوسروں کی رائے، نظریات، عقائد یا طرززندگی کو برداشت کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ برداشت کا مفہوم کسی منفی یا تکلیف دہ صورتحال میں اپنے غصے اور سخت ردعمل کو قابو میں رکھنا ہے۔
یہ صفت انسان کو طاقت دیتی ہے کہ وہ جوش، اشتعال یا انتقام کے جذبات کے باوجود عفو و درگزر کا مظاہرہ کرے۔اسلام نے برداشت اور رواداری کو نہ صرف ایک فرد کی اخلاقی بلندی کا پیمانہ قرار دیا بلکہ اسے اجتماعی امن، بھائی چارہ اور خوشحالی کی بنیاد قراردیا۔ قرآن مجید نے برداشت کرنے والوں کی تعریف واضح طور پر کی ہے:
“اور لوگوں سے ان کی غلطیوں پر درگزر کرنیوالے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے.”(آل عمران، 3: 134)
آج دنیا میں تحمل اور بردباری سے محرومی یعنی عدم برداشت انسانی معاشرے میں ایک خطرناک رخ اختیار کرتی چلی جا رہی ہے اس کی وجہ سے وحشت اور دہشت کے سائے سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ ہیجان خیزی اور شورش پسندی کے باعث کہیں مذہب کو بنیاد بنا کر اور کہیں سیاسی گروہ بندی کے حوالے سے تشددکا رجحان فروغ پا رہا ہے معمولی معمولی باتوں پر عزتیں لٹ جاتی ہیں اور انسانی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ بچوں کے معمولی جھگڑے خاندانوں کی بربادی کا پیش خیمہ بن جاتے ہیں۔ مذہب سے بیگانگی اور دین سے دُوری کے سبب لوگ راہِ عمل کے بجائے راہِ فراراختیار کررہے ہیں۔ اسی لیے اس دور میں بھی خودکشی کی شرح حیرت انگیز ہے۔ عدم برداشت اور تشدد پسندی کے حوالے سے مذہبی حلقے آج سب سے زیادہ عدم توازن کا شکار ہیں۔ دوسرے کے نقطہ نظرکو سننے اور برداشت کرنے کی روایت ختم ہو چکی ہے۔ اپنے عقائد اور نظریات کو دوسروں پر نافذ کرنا ہر شخص اپنا مذہبی حق سمجھتا ہے۔
عدم برداشت کا ایک اور اہم سبب معاشی اور معاشرتی ناہمواری ہے۔ امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ایک کو سوکھی روٹی میسر نہیں اور دوسری طرف کتے بھی ڈبل روٹی اور دودھ پر پل رہے ہیں۔ محبت اور قناعت جیسے انسانی جذبے معاشرے سے مفقود ہو کر رہ گئے ہیں اسی طرح سیاسی عدم توازن اور پسند و ناپسند نے بھی ہیجان خیزی اور تشدد پسندی کو فروغ دیا ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس نے بین الاقوامی سطح پر کمزور قوموں اور چھوٹے ممالک کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔تحمل و برداشت اور حلم و بردباری ان اخلاقی صفات میں سے ہیں جو افراد کے لیے انفرادی طور پر اور اقوام کے لیے اجتماعی طور پر کامیابی‘ عزت و عظمت اور ترقی و بلندی کا ذریعہ بنتی ہیں۔حلم کی وجہ سے انسان کے نفس میں وہ قوت برداشت اور وہ سکون و اطمینان پیدا ہوتا ہے کہ کسی حالت میں بھی قوت غضب غالب نہیں آتی۔ ایک حلیم انسان کی مرضی و منشا کے خلاف کوئی بات ہو یااس کو کتنی ہی تکلیف پہنچائی جائے وہ صبر و ضبط سے کام لے کر انھیں برداشت کرتا ہے۔
قرآن مجید نے اس کی تاثیر یہ بیان کی ہے کہ دشمنی دوستی میں بدل جاتی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
اور اے نبیﷺ نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمھارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے .(حم السجدہ 41:43)
رسول اکرم ؐ نے برداشت و تحمل‘ حلم و بردباری اور حوصلہ و صبر اختیار کرنے کی نہ صرف تعلیم دی ہے بلکہ اپنے اسوہ حسنہ کے ذریعے اس کی لازوال مثالیں قائم کی ہیں۔ رسول اکرمؐ کی محبوبیت کا ایک اہم راز یہ بھی ہے کہ مزاج مبارک میں برداشت وتحمل کی بے نظیر خصوصیت تھی۔ لوگوں کی سخت کلامی‘ ان کے ناروا سلوک اور سخت ترین اذیت رسانی کے باوجود آپؐ ان پر خفا نہ ہوتے۔ آپؐ کی یہی قوت برداشت اور متانت آپؐ کی صداقت کی بہت بڑی علامت ہے۔،اسی لئے خالق کائنات نے ارشاد فرمایا،ترجمہ:
اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے (مجھ سے) مدد چاہا کرو، یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے.(البقرۃ،153/2)
آزمائش پر صبر اللہ تعالیٰ کی بشارت کا ذریعہ ہے،دنیا میں رہتے ہوئے انسان کو مختلف طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اگر ان مشکلات کو اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے برداشت کر لیا جائے تو ایسے صبر والوں کو اجر کی خوشخبری اللہ خود دیتا ہے،اللہ جل شانہُ فرماتے ہیں،ترجمہ:
اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے اور (اے حبیبؐ!) آپ ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں، جن پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو کہتے ہیں: بے شک ہم بھی اللہ ہی کا (مال) ہیں اور ہم بھی اسی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں .(البقرہ155-156/2)
رب کی رضا کے لیے صبر کرنے والوں کو آخرت میں حسین گھر کی خوشخبری دی گئی ہے، ترجمہ:
”اور ہم نے اسے دنیا میں بھی بھلائی عطا فرمائی اور بے شک وہ آخرت میں بھی صالحین میں سے ہوں گے.(رعد 122)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا:
قیامت والے دن جب اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو اکٹھا کرے گا تو پکارنے والا پکارے گا! صبر کرنے والے کہاں ہیں؟
فرمایا: کچھ لوگ اُٹھیں گے جو تعداد میں کم ہوں گے اور وہ جلدی جلدی جنت کی طرف جائیں گے، راستے میں انہیں فرشتے ملیں گے جو اُن سے پوچھیں گے، ہم آپ لوگوں کو دیکھ رہے ہیں کہ آپ جنت کی طرف بڑی تیزی سے بڑھ رہے ہیں، آخر آپ ہیں کون؟
وہ لوگ جواب دیں گے کہ ہم اہل صبر ہیں، فرشتے پوچھیں گے کہ آپ نے کس بات پر صبر کیا؟
وہ جواب دیں گے ہم نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر اور گناہوں سے بچنے پر صبر کیا. اُس وقت اُن سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہو جائیں، بے شک صبر کرنے والوں کا یہی اجر ہے.(علامہ ابن القیم، عدۃ الصابرین)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
ہم نے اپنی زندگی کے بہترین اوقات حالت صبر میں پائے ہیں. (امام احمد،کتاب الزہد)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ نبیﷺ ایک عورت کے پاس سے گزرے جو قبر پر رو رہی تھی، تو آپ نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور صبر کرو، عورت نے کہا کہ دور ہوجا، تجھے وہ مصیبت نہیں پہنچی جو مجھے پہنچی ہے اور نہ تو اس مصیبت کو جانتا ہے،
اس نے آپ کو پہچانا نہیں، اس سے کہا گیا تو وہ نبی ﷺ کے دروازے کے پاس آئی اور وہاں دربان نہ پائے اور عرض کیا کہ میں نے آپ کو پہچانا نہ تھا، آپ نے فرمایا کہ صبر ابتداء صدمہ کے وقت ہوتا ہے.(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1206)
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں تمہیں ایک جنتی عورت نہ دکھلاؤں، میں نے کہا کیوں نہیں، انہوں نے کہا کہ یہ کالی عورت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ مجھے مرگی آتی ہے اور اس میں میرا ستر کھل جاتا ہے، اسلئے آپ میرے حق میں دعا کردیں، آپ ﷺنے فرمایا تجھے صبر کرنا چاہئے، تیرے لئے جنت ہے اور اگر تو چاہتی ہے تو تیرے لئے دعا کر دیتا ہوں کہ تو تندرست ہوجائے، اس نے عرض کیا کہ میں صبر کروں گی پھر کہا اس میں میرا ستر کھل جاتا ہے، اسلئے آپ دعا کریں کہ ستر نہ کھلنے پائے، آپ نے اس کے حق دعا فرمائی.(صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 611)
حضر ت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میں اپنے بندے کو اس کی دو محبوب چیزوں یعنی دو آنکھوں کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا کرتا ہوں اور وہ صبر کرتا ہے تو میں اس کے عوض اس کو جنت عطا کرتا ہوں. (صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 613)
صبر کی شرائط میں سے ہے کہ ہمیں معلوم ہو کہ ہم کیسے صبر کریں گے، کس کے لیے صبر کریں گے اور صبر سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
صبر کے لیے ہمیں نیت کو درست کرنا اور اس میں اخلاص لانا ہوگا ورنہ ہمارے اور جانور کے صبر میں کوئی فرق نہیں ہو گا کیونکہ اُس پر جب مصیبت آ جاتی ہے تو وہ بھی برداشت کرتا ہے مگر اسے اس بات کا پتہ نہیں ہوتا کہ اُ س پر مصیبت کیوں نازل ہوئی اور اُس سے کیسے نمٹنا ہے اور اس کا کیا فائدہ ہو گا،اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ مولائے کریم ہمیں صحیح معنوں میں صبروبرداشت کی توفیق عطا فرمائے۔



تبصرہ لکھیے