ہوم << چائے نامہ – عبیدالرحمن
600x314

چائے نامہ – عبیدالرحمن

چائے چائے ہے ۔ چائے کا کوئی جواب نہیں ۔ اور چائے خود ہزار سوالوں کا جواب ہے ۔ بیسیوں قضیے تو چائے کا ایک ٹوکن ہی حل کر لیتا ہے ۔ یہ ” ٹوکن ” کی اصطلاح سے وہی واقف ہیں جو چائے خانوں ٬ چائے کے ڈھابوں اور ریستورانوں کی روایت کا حصہ رہے ہیں ۔ بعض جگہوں پر ٹوکن سے کاف اور ٹ لے کر اسے ” کَٹ ” بھی کہتے ہیں ۔ البتہ کَٹ لگنے کے بعد کچھ زیادہ چائے بچتی نہیں ہے ۔ لیکن چائے کی کمی سے کس کو غرض ہے ! کہ بقول غالب :

مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو
اک گونہ بے خودی مجھے رات دن چاہیے

ٹوکن سے یاد آیا ٬ ہمارے ایک رفیق استاد محترم بتانے لگے کہ ایک بار ان کے والد مکرم کو شہر کے ایک ہوٹل میں چائے پینے کا اتفاق ہوا ۔ شہروں میں عموماً لوگ مکمل چائے کی بجائے چائے کے ٹوکن پر ہی اکتفاء کرتے ہیں کہ چائے نوشی تو مقصد نہیں ہوتا ۔ اصل مقصد تو گپ بازی اور وقت گزاری ہوتا ہے اور پھر ٹوکن میں پیسے کی بچت بھی ہے ۔

الغرض اہل ہوٹل نے چائے کا ٹوکن والد صاحب کے سامنے لا کر رکھا ۔ والد صاحب نے اسے بغور دیکھا ٬ کچھ سوچا اور پھر ایک ہی گھونٹ میں ساری چائے ڈِیک گئے اور ویٹر کو بلا کر کہا :

” چائے میں میٹھا پورا ہے اب چائے لے آئیں ! ”

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

بلاگز

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment