مقرر: ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد
مقام: فیصل مسجد اسلام آباد
وقت: بعد از نمازِ ظہر
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین، نبینا محمد ﷺ، وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔
معزز نمازی حضرات!
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ہمارے دین کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس نے نہ صرف بڑے بڑے عبادات کے طریقے سکھائے ہیں۔ بلکہ روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے اعمال اور آداب بھی بیان فرمائے ہیں۔ انہی مسنون اعمال میں سے ایک نہایت اہم عمل مجلس کے اختتام پر دعا کا اہتمام ہے۔
مسلمان جب اپنے دوست احباب، گھر والوں یا کسی دینی و دنیاوی مقصد کے لیے کسی مجلس میں جمع ہوتے ہیں تو یہ اجتماع کسی اہم کام کے لیے ہوتا ہے۔ مسلمان کی شان یہ نہیں کہ وہ لغو اور بے فائدہ باتوں میں وقت ضائع کرے بلکہ وہ ہمیشہ خیر، بھلائی اور نفع بخش گفتگو کو اختیار کرتا ہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے مجلس کے اختتام پر ایک عظیم دعا سکھائی جسے کفارۂ مجلس کہا جاتا ہے۔
دعا
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ*
ترجمہ: اے اللہ! تو ہر عیب اور نقص سے پاک ہے اور تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری ہی طرف توبہ کرتا ہوں۔
دعا کے فقروں کی مختصر وضاحت
سبْحَانَكَ اللَّهُمَّ: اے اللہ! تو ہر قسم کے عیب، کمزوری اور نقص سے پاک ہے۔ بندہ سب سے پہلے اپنے رب کی پاکیزگی بیان کرتا ہے۔
وَبِحَمْدِكَ: تمام تعریفیں، نعمتیں اور کمالات تیرے ہی لیے ہیں۔ جو کچھ خیر ہے وہ تیرے فضل و کرم سے ہے۔
أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ: میں گواہی دیتا ہوں کہ عبادت، اطاعت اور بندگی کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔
أَسْتَغْفِرُكَ: اے اللہ! مجھ سے جو کوتاہیاں، لغزشیں اور غلطیاں سرزد ہوئیں ان کی بخشش فرما۔
وَأَتُوبُ إِلَيْكَ: میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور آئندہ بہتر زندگی گزارنے کا عزم کرتا ہوں۔
اس دعا کی فضیلت:
رسول اللہ ﷺ نے اس دعا کی ایسی عظیم فضیلت بیان فرمائی کہ اگر کسی مجلس میں دورانِ گفتگو کوئی لغزش، بے احتیاطی یا نامناسب بات ہو گئی ہو تو *اللہ تعالیٰ* اپنے فضل و کرم سے اس دعا کی برکت سے اسے معاف فرما دیتے ہیں۔ اور اگر مجلس خیر، بھلائی، علم، ذکر اور دین کی باتوں سے مزین رہی ہو تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی بارگاہ میں قبول فرما لیتے ہیں اور اس کے اجر و ثواب میں اضافہ فرماتے ہیں۔
اس سنت کو عام کرنے کی ضرورت
فیصل مسجد میں نماز کے بعد مختصر درس کا یہ سلسلہ درحقیقت ایک قیمتی تحفہ ہے جس کے ذریعے سنتوں کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ سب سے پہلے خود یہ دعا یاد کریں۔ اپنے بچوں کو یاد کروائیں۔ گھر والوں کو سکھائیں۔ دوست احباب اور متعلقین تک پہنچائیں۔ مسنون اعمال کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ علم کی سب سے بڑی برکت یہی ہے کہ انسان خود بھی سیکھے اور دوسروں تک بھی پہنچائے۔
یومِ عاشوراء کے روزے کی فضیلت
ڈاکٹر صاحب نے توجہ دلائی کہ 10 محرم (یومِ عاشوراء) کا روزہ بڑی فضیلت اور اجر و ثواب کا حامل ہے۔ یہ نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ
9 اور 10 محرم کے روزے رکھے جائیں یا 10 اور 11 محرم کے روزے رکھے جائیں۔ اگر کسی وجہ سے دونوں روزے ممکن نہ ہوں تو کم از کم 10 محرم کا روزہ ضرور رکھا جائے۔ خود بھی اس سنت کا اہتمام کریں اور اپنے اہلِ خانہ، دوستوں اور متعلقین کو بھی اس کی ترغیب دیں۔
اجتماعی دعا
اے اللہ! ہمارے اس اجتماع کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ اللہ! دین کی جو باتیں ہم نے سنیں اور سیکھیں انہیں ہمارے لیے نافع اور ذریعۂ ہدایت بنا۔ اے اللہ! ہمیں سنتوں سے محبت اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو تمام ظاہری و باطنی فتنوں سے محفوظ فرما۔ یا اللہ! ہمارے ملک پاکستان کو اپنی حفظ و امان میں رکھ، اس کے استحکام، سلامتی اور ترقی کے اسباب پیدا فرما اور اسے دشمنوں کے شر سے محفوظ فرما. یا اللہ! اس ملک میں اسلام کا بول بالا فرما اور اسے دین کی خدمت کا ذریعہ بنا۔ یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کو عزت، سربلندی اور کامیابی عطا فرما۔ یا اللہ! ہماری ٹوٹی پھوٹی کاوشوں، عبادات اور نیک اعمال کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ یا اللہ! غزہ اور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں پر اپنا خاص رحم فرما ان کی حفاظت فرما۔ ان کی مشکلات آسان فرما اور انہیں عزت و نصرت عطا فرما۔ یا اللہ! جو لوگ ان کی مدد اور حمایت کے لیے کوششیں کر رہے ہیں ان کے لیے آسانیاں پیدا فرما۔ جو ظلم و ستم کے منصوبے بناتے ہیں ان کے ناپاک عزائم کو ناکام فرما۔
ربنا تقبل منا إنك أنت السميع العليم، وتب علينا إنك أنت التواب الرحيم
آمین یا رب العالمین۔اللہ تعالیٰ اس درس کو صدقۂ جاریہ بنائے اور ہمیں سنتِ نبوی ﷺ کو سیکھنے، سکھانے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



تبصرہ لکھیے