ہوم << ڈیجیٹل صارفیت – ڈاکٹر سیف ولہ رائے
600x314

ڈیجیٹل صارفیت – ڈاکٹر سیف ولہ رائے

ـشہر سو چکا تھا، مگر ایک نیلی روشنی ابھی تک جاگ رہی تھی۔ ایک کمرے میں نیم تاریکی کے اندر ایک نوجوان اپنی انگلی سے اسکرین پر دنیا بدل رہا تھا؛ ایک لمحے میں جوتے، دوسرے لمحے میں گھڑی، تیسرے لمحے میں کوئی نئی خواہش۔ کمرے میں خاموشی تھی، مگر اس خاموشی کے اندر اشتہار بول رہے تھے، رنگ پکار رہے تھے، رعایتیں للچا رہی تھیں اور الگورتھم اس کی آنکھوں میں اترتے جا رہے تھے۔

یوں لگتا تھا جیسے وہ موبائل استعمال نہیں کر رہا، بلکہ موبائل اسے استعمال کر رہا ہے۔ یہ صرف ایک نوجوان کا منظر نہیں، ہمارے پورے عہد کی تصویر ہے؛ ایک ایسا عہد جس میں انسان اپنی ضرورتیں نہیں خرید رہا بلکہ اپنی توجہ، اپنی تنہائی، اپنی نفسیات اور اپنی شناخت ایک ایسی منڈی کے حوالے کرتا جا رہا ہے جو اب بازار میں نہیں، جیب میں رہتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں “ڈیجیٹل صارفیت” محض خرید و فروخت کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ ایک فکری، تہذیبی، معاشی اور اخلاقی بحران کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ صارفیت کوئی نئی حقیقت نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام نے مدتوں پہلے انسان کو ایک صارف میں تبدیل کرنے کا عمل شروع کر دیا تھا، مگر ڈیجیٹل دور نے اس عمل کو غیر معمولی شدت، رفتار اور نفسیاتی باریکی عطا کر دی ہے۔

پہلے بازار انسان کے گھر کے باہر تھا، اب اس کے ہاتھ میں ہے؛ پہلے اشتہار دیواروں، اخبارات اور ٹیلی ویژن تک محدود تھا، اب وہ ہر اسکرین، ہر کلک، ہر توقف، ہر سرچ اور ہر کمزوری کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ پہلے منڈی کو صرف یہ معلوم ہوتا تھا کہ آپ کیا خریدتے ہیں، اب اسے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ کس چیز پر کتنی دیر رکے، کس رنگ پر آپ کی آنکھ ٹھہری، کس وڈیو پر آپ مسکرائے، کس خبر پر آپ خوف زدہ ہوئے، اور کس محرومی نے آپ کے اندر خواہش کو جنم دیا۔ یوں انسان صرف خریدار نہیں رہا، بلکہ خود ایک قابلِ فروخت ڈیٹا، ایک قابلِ استعمال رویہ، اور ایک قابلِ قابو نفسیات میں بدل گیا ہے۔

ڈیجیٹل صارفیت کی سب سے خطرناک جہت یہ ہے کہ یہ جبر کی صورت میں وارد نہیں ہوتی، یہ سہولت، آزادی، انتخاب، ذاتی پسند اور جدید طرزِ زندگی کے خوش نما پردے میں آتی ہے۔ یہی اس کی تہذیبی چالاکی ہے۔ روایتی صارفیت میں اشتہار انسان کو کسی شے کی طرف متوجہ کرتا تھا، مگر ڈیجیٹل صارفیت انسان کے اندر خواہش پیدا کرتی ہے، خواہش کو محرومی میں بدلتی ہے، محرومی کو بے چینی میں اور بے چینی کو خریداری میں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ای کامرس ویب سائٹس، اسٹریمنگ سروسز اور شارٹ وڈیو ایپس ایسے الگورتھمز پر قائم ہیں جن کا بنیادی مقصد انسان کو زیادہ دیر تک اسکرین سے باندھے رکھنا ہے۔ یہ الگورتھمز آپ کو وہی دکھاتے ہیں جو آپ کو متوجہ رکھ سکے، مشتعل کر سکے، مضطرب کر سکے یا آپ کے اندر کسی نئی کمی کا احساس پیدا کر سکے۔ اگر ایک نوجوان نے ایک بار فیشن، گیجٹس، اسکن کیئر، جسمانی بناوٹ، لگژری لائف اسٹائل یا “پرفیکٹ زندگی” سے متعلق مواد دیکھ لیا تو پھر اس کے سامنے اسی نوع کے مناظر، اشیا، چہرے، رعایتیں اور خواب بار بار لائے جاتے ہیں، یہاں تک کہ ضرورت اور مصنوعی خواہش کے درمیان موجود فاصلہ ختم ہونے لگتا ہے۔

یہ محض اتفاق نہیں بلکہ منظم نفسیاتی انجینئرنگ ہے۔ جدید ڈیجیٹل سرمایہ داری کی بنیاد ہی اس اصول پر ہے کہ صارف کو اتنا سمجھ لیا جائے کہ اس کی کمزوری، اس کی آرزو، اس کے خوف اور اس کے احساسِ محرومی کو نفع میں بدلا جا سکے۔ دنیا کی بڑی ٹیک کمپنیاں بظاہر مفت پلیٹ فارم مہیا کرتی ہیں، مگر حقیقت میں ان کا اصل سرمایہ صارف کی توجہ، اس کا ڈیٹا اور اس کے رویّے ہوتے ہیں۔ صارف کس وقت جاگتا ہے، کیا دیکھتا ہے، کس قسم کے مواد پر رکتا ہے، کن موضوعات پر ردِعمل دیتا ہے، کس طبقے سے تعلق رکھتا ہے، کس موسم میں کیا خریدتا ہے، اور کس عمر میں کن خواہشات کا شکار ہوتا ہے، یہ سب معلومات ایک خام مال کی طرح جمع کی جاتی ہیں۔ پھر انہی معلومات کی بنیاد پر ایسے اشتہارات، ایسی سفارشات اور ایسا مواد تیار کیا جاتا ہے جو صارف کو زیادہ مؤثر طریقے سے گرفت میں لے سکے۔ یوں منڈی اب سامان نہیں بیچتی، انسان کے شعور کے گرد ایک ایسا حصار قائم کرتی ہے جس میں وہ خود اپنی رضا سے داخل ہوتا ہے۔

یہاں اصل المیہ یہ ہے کہ ڈیجیٹل صارفیت نے انسان کے تصورِ کامیابی کو بدل دیا ہے۔ اب شخصیت کا معیار علم، کردار، اخلاق، فکری بالیدگی اور سماجی ذمہ داری نہیں رہے، بلکہ استعمال شدہ برانڈ، پہنا ہوا لباس، موبائل فون کا ماڈل، کھانے کی جگہ، سفر کی تصویریں اور سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی “خوشحال زندگی” بن گئی ہے۔ زندگی کے داخلی معانی کی جگہ خارجی نمائش نے لے لی ہے۔ اب انسان “ہونے” کے بجائے “رکھنے” سے پہچانا جاتا ہے۔ وہ کیا سوچتا ہے، یہ ثانوی ہے؛ وہ کیا خریدتا ہے، کیا پہنتا ہے، کیا دکھاتا ہے اور کتنے لوگوں کی نگاہ میں آتا ہے، یہ اہم ہو گیا ہے۔ یوں آہستہ آہستہ انسان “شخص” سے “پروفائل” اور “شہری” سے “صارف” میں تبدیل ہو رہا ہے۔ اس کی شناخت افکار سے نہیں، اشیا سے مرتب کی جا رہی ہے؛ اس کی قدر اس کے اخلاق سے نہیں، اس کی نمائش سے متعین ہو رہی ہے۔

یہی وہ تبدیلی ہے جس نے نوجوان نسل کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ نوجوانی خودی کی تعمیر، شناخت کی تلاش، خوابوں کی ترتیب اور سماجی قبولیت کی خواہش کا زمانہ ہوتی ہے۔ جب یہی عمر مسلسل فلٹر شدہ خوبصورتی، نمائشی آسودگی، برانڈڈ وقار، فوری شہرت اور مصنوعی کامیابی کے مناظر میں گزرے تو اس کے نتیجے میں شخصیت کی تعمیر نہیں، احساسِ کمتری، اضطراب، تقلید، خود فراموشی اور بے جا مسابقت پیدا ہوتی ہے۔ نوجوان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ کامیاب زندگی وہ ہے جو اسکرین پر اچھی لگے، نہ کہ وہ جو حقیقت میں متوازن، باوقار اور بامعنی ہو۔ سوشل میڈیا پر نمودار ہونے والے انفلوئنسرز، ولاگرز اور لائف اسٹائل کریئیٹرز بظاہر ایک دلکش طرزِ زندگی پیش کرتے ہیں، مگر اکثر ان کے پسِ پردہ ایک منظم تجارتی منطق کام کر رہی ہوتی ہے۔ ان کے ذریعے صرف مصنوعات فروخت نہیں ہوتیں بلکہ حسن کے معیار، سماجی مرتبے کے تصورات، طرزِ زندگی کے سانچے اور خواہش کے نئے معیارات بھی فروخت کیے جاتے ہیں۔ اشتہار اور ذاتی تجربے کے درمیان لکیر اس قدر مدھم ہو چکی ہے کہ ناظر کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ جس چیز کو وہ سادہ مشورہ یا ذاتی پسند سمجھ رہا ہے، وہ دراصل مارکیٹنگ کا ایک منصوبہ بند مرحلہ ہے۔

اس ڈیجیٹل یلغار کی ایک اہم معاشی جہت بھی ہے۔ “فلیش سیل”، “صرف آج”، “آخری موقع”، “آپ کے لیے منتخب”، “دوسرے لوگ بھی یہ خرید رہے ہیں” جیسے جملے محض کاروباری اصطلاحات نہیں بلکہ انسانی نفسیات پر حملہ آور ہونے والے حربے ہیں۔ ان کے ذریعے صارف کے اندر محرومی اور جلد بازی پیدا کی جاتی ہے تاکہ وہ سوچے بغیر خریداری کرے۔ اب خریداری ایک سنجیدہ معاشی فیصلہ نہیں رہی بلکہ ایک جذباتی ردِعمل بنتی جا رہی ہے۔ متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے لیے یہ رجحان زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ وہ اکثر اپنی معاشی استطاعت سے بڑھ کر اس نمائشی مسابقت میں شامل ہونے لگتے ہیں جس کی بنیاد حقیقت پر نہیں، دکھاوے پر ہوتی ہے۔ قسطوں، “بائے ناؤ پے لیٹر”، ای ایم آئی اور رعایتی آفرز کے نام پر ایسی خواہشات کو معمول بنایا جا رہا ہے جو اکثر ضرورت نہیں ہوتیں۔ نتیجہ یہ کہ آمدنی محدود رہتی ہے مگر خواہشات غیر محدود ہو جاتی ہیں، اور انسان معاشی دباؤ کے ساتھ ساتھ نفسیاتی دباؤ میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے۔

پاکستان جیسے معاشروں میں یہ مسئلہ اور بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے، کیونکہ یہاں ڈیجیٹل پھیلاؤ تو تیزی سے ہوا ہے مگر ڈیجیٹل شعور، صارف کے حقوق، ڈیٹا کے تحفظ اور اشتہاری ضوابط پر سنجیدہ کام بہت کم ہوا ہے۔ اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا نے ایک طرف معلومات، کاروبار، تعلیم اور اظہار کے نئے دروازے کھولے ہیں، مگر دوسری طرف ایک ایسی غیر منضبط منڈی کو بھی طاقت دی ہے جو نوجوان ذہنوں، کمزور معاشی طبقات اور غیر تربیت یافتہ صارفین کو آسانی سے اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ ہمارے ہاں والدین اور اساتذہ کی بڑی تعداد ابھی تک ڈیجیٹل دنیا کے نفسیاتی اور تجارتی حربوں سے پوری طرح آگاہ نہیں، چنانچہ نئی نسل ایک ایسے ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے جہاں اسے اسکرین استعمال کرنا تو آتا ہے مگر اسکرین کے پیچھے کارفرما منڈی کی منطق سمجھنا نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کے استعمال میں تو جدید ہو گئے، مگر اس کے فکری اور اخلاقی مضمرات کے ادراک میں ابھی تک پیچھے ہیں۔

ڈیجیٹل صارفیت کا ایک نہایت سنگین پہلو “ڈیٹا کی نوآبادیات” ہے۔ نوآبادیات کی قدیم شکلوں میں طاقتور قوتیں زمین، وسائل اور محنت پر قبضہ کرتی تھیں؛ نئی ڈیجیٹل نوآبادیات میں قبضہ انسان کے ڈیٹا، توجہ، عادات اور رویّوں پر ہوتا ہے۔ آج صارف یہ سمجھتا ہے کہ وہ ایک ایپ استعمال کر رہا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ خود استعمال ہو رہا ہوتا ہے۔ اس کی سرچ ہسٹری، اس کے روابط، اس کی دلچسپیاں، اس کے سفر، اس کی خریداری، اس کے جذباتی رجحانات—سب ایک ایسے تجارتی نظام میں داخل ہو چکے ہیں جو ان معلومات کو نفع، اثراندازی اور رویّہ سازی کے لیے استعمال کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عام صارف کو واقعی معلوم ہے کہ اس کا ڈیٹا کہاں جا رہا ہے؟ کیا اسے معلوم ہے کہ اس کے کلکس اور توقفات محض عادات نہیں، سرمایہ ہیں؟ اور اگر اسے معلوم بھی ہو تو کیا اس کے پاس انکار کا حقیقی اختیار ہے؟ “I Agree” پر ایک کلک کو رضامندی کہا جاتا ہے، مگر یہ رضامندی اکثر لاعلمی، مجبوری اور غیر متوازن طاقت کے ماحول میں حاصل کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ڈیٹا پرائیویسی، الگورتھمک شفافیت اور ٹیک کمپنیوں کی جواب دہی کے مطالبات شدت اختیار کر رہے ہیں۔

یہ یلغار صرف فرد کو نہیں، ثقافت کو بھی بدل رہی ہے۔ مقامی تہذیب، مقامی ذوق، مقامی زبان اور مقامی اقدار آہستہ آہستہ ایک ایسی عالمی منڈی کے سانچے میں ڈھالی جا رہی ہیں جس میں ہر شے “کنٹینٹ” بن جاتی ہے۔ اب کھانا بھی کنٹینٹ ہے، لباس بھی کنٹینٹ، رشتہ بھی کنٹینٹ، عبادت بھی کنٹینٹ اور دکھ بھی کنٹینٹ۔ جو چیز زیادہ دیکھی جا سکتی ہے وہی اہم قرار پاتی ہے، جو زیادہ بکتی ہے وہی خوبصورت سمجھی جاتی ہے، اور جو زیادہ وائرل ہوتی ہے وہی سچ محسوس ہونے لگتی ہے۔ یوں تہذیب ایک زندہ اجتماعی تجربہ نہیں رہتی بلکہ ایک فروخت کے قابل منظرنامہ بن جاتی ہے۔ مقامی سادگی، فکری وقار، ذوق کی شائستگی اور زندگی کی سنجیدگی کی جگہ ایسی نمائشی ثقافت لے لیتی ہے جس کا بنیادی مقصد توجہ حاصل کرنا اور منڈی کو متحرک رکھنا ہوتا ہے۔ اس عمل میں زبان بھی متاثر ہوتی ہے، ذوق بھی، رشتے بھی اور خودی کا تصور بھی۔

ڈیجیٹل صارفیت کا ایک خطرناک نتیجہ یہ بھی ہے کہ یہ معاشرے کو شہریوں کے بجائے صارفین میں تبدیل کر دیتی ہے۔ جب انسان کی تربیت مسلسل اس طور پر ہو کہ وہ ہر شے کو خریدنے، دکھانے، برانڈ بنانے اور فوری لذت حاصل کرنے کے زاویے سے دیکھے، تو پھر اجتماعی مسائل اس کی ترجیحات سے باہر ہونے لگتے ہیں۔ تعلیم، صحت، انصاف، ماحولیات، مزدوروں کے حقوق، سماجی نابرابری اور سیاسی شفافیت جیسے سوالات پیچھے چلے جاتے ہیں، جبکہ سیل، سبسکرپشن، فالوورز، ویوز اور رعایتی کوڈ سامنے آ جاتے ہیں۔ یوں جمہوری شعور بتدریج کمزور پڑنے لگتا ہے۔ انسان اپنے عہد کے بڑے اخلاقی اور سماجی سوالات سے زیادہ اپنی ذاتی نمائش، ذاتی پسند اور ذاتی خریداری میں الجھ جاتا ہے۔ یہ محض ذوق کی تبدیلی نہیں، ترجیحات کی ایسی سیاسی تشکیل ہے جو معاشرے کو اندر سے غیر سنجیدہ، منتشر اور سطحی بناتی ہے۔

ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ڈیجیٹل دنیا یا آن لائن تجارت بذاتِ خود شر ہے۔ مسئلہ ٹیکنالوجی کے وجود میں نہیں، اس کے غیر منضبط استعمال، غیر شفاف تجارتی ڈھانچے، کمزور قانونی نگرانی اور صارف کی فکری بے تیاری میں ہے۔ آن لائن منڈی مقامی کاروبار کو وسعت دے سکتی ہے، نوجوانوں اور خواتین کے لیے معاشی مواقع پیدا کر سکتی ہے، علم اور معلومات تک رسائی آسان بنا سکتی ہے، اور روزمرہ زندگی کی کئی مشکلات کم کر سکتی ہے۔ مگر جب یہی نظام انسان کو اس کی اصل ضرورتوں سے کاٹ کر خواہشات کی فیکٹری میں دھکیل دے، اس کی توجہ کو منافع کے لیے قید کر لے، اس کی شناخت کو برانڈنگ کے سپرد کر دے، اور اس کے نجی ڈیٹا کو تجارتی ہتھیار میں بدل دے، تو پھر یہ محض سہولت نہیں رہتی، ایک تہذیبی چیلنج بن جاتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس یلغار کے مقابلے کی صورت کیا ہے؟ اس کا پہلا جواب “ڈیجیٹل خواندگی” ہے، مگر صرف اس معنی میں نہیں کہ ہم ایپ استعمال کرنا یا آن لائن خریداری کرنا سیکھ لیں۔ اصل ڈیجیٹل خواندگی یہ ہے کہ ہم سمجھیں الگورتھم کیسے کام کرتے ہیں، اشتہار ہماری نفسیات کو کیسے ہدف بناتا ہے، ڈیٹا کس طرح جمع اور استعمال ہوتا ہے، اور “مفت” پلیٹ فارمز کی اصل قیمت کیا ہے۔ دوسرا قدم گھروں اور تعلیمی اداروں میں تنقیدی شعور کی تربیت ہے تاکہ نوجوان ہر وائرل شے کو سچ، ہر اشتہار کو ضرورت اور ہر نمائش کو کامیابی نہ سمجھیں۔ تیسرا قدم ریاستی سطح پر ڈیٹا پروٹیکشن، بچوں کے آن لائن تحفظ، اشتہاری شفافیت اور ٹیک کمپنیوں کی جواب دہی کے لیے واضح قوانین اور مؤثر عمل درآمد ہے۔ اور چوتھا قدم فرد کی سطح پر یہ اخلاقی تربیت ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اسکرین کے بجائے شعور، مطالعے، رشتوں، کردار اور حقیقی تجربات کے مرکز میں رکھے۔

درحقیقت ڈیجیٹل صارفیت کی یلغار کے خلاف مزاحمت خریداری ترک کرنے کا نام نہیں، شعور بحال کرنے کا نام ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ انسان چیزیں خریدتا ہے؛ مسئلہ یہ ہے کہ کہیں چیزیں انسان کو خرید نہ لیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ کہیں ٹیکنالوجی ہماری خواہش، توجہ، وقت اور شناخت کو اس طرح استعمال نہ کرنے لگے کہ ہم اپنے ہی وجود میں ثانوی ہو جائیں۔ اگر ہم نے اس یلغار کو محض سہولت، تفریح اور جدیدیت کے خوش نما پردے میں دیکھتے رہنے کی غلطی کی تو بہت جلد ہمیں احساس ہوگا کہ ہم نے صرف چند ایپس نہیں اپنائیں، بلکہ اپنی فکری آزادی، تہذیبی خودمختاری اور انسانی وقار کے کئی حصے خاموشی سے منڈی کے حوالے کر دیے ہیں۔

ڈیجیٹل صارفیت کی یہ یلغار دراصل نئی نوآبادیات ہے؛ ایسی نوآبادیات جس میں زمینیں نہیں، ذہن فتح کیے جاتے ہیں؛ زنجیریں نہیں پہنائی جاتیں، خواہشیں ڈیزائن کی جاتی ہیں؛ اور انسان سے اس کی محنت ہی نہیں، اس کی توجہ، اس کی تنہائی، اس کی نجی زندگی اور اس کی شناخت تک حاصل کر لی جاتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ یلغار موجود ہے یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ ہم اس کے سامنے محض صارف بن کر کھڑے ہیں یا باشعور انسان بن کر۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ڈاکٹر سیف ولہ رائے

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment