ہوم << فلسطین: جنسی تشدد پر چھائی خاموشی – میر افسر امان
600x314

فلسطین: جنسی تشدد پر چھائی خاموشی – میر افسر امان

نکولس کروسٹوف معروف امریکی کالم نگار نیو یارک ٹائمز اخبار میں ۱۱ مئی۶۲۰۲ء میں لکھتے ہیں، کہ یہ ایک سادی سے بات ہے کہ مشرق وسطی کے تنازے کے بارے میں ہمارے جو بھی خیالات ہوں،ہمیں کم از کم جنسی تشدد(Rape) کی مذمت کرنے پر متحد ہونا چاہیے۔

اس ضمن میں تکلیف دہ انٹرویز ہیں،جن میں فلسطینیوں نے مجھے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں، آباد کاروں،شن بیت(اندرونی سلامتی ایجنسی) کے تفتیش کاروں اور سب سے زیادہ اسرائیلی جیل کے محافظوں کی طرف سے]فلسطینی[ مردوں، عورتوں اور بچوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر جنسی تشدد کا چلن(Pattren) موجود ہے، اس بات کاکوئی ثبوت نہیں ہے کہ اسرائیلی رہنما اس عصمت دری کا حکم دیتے ہیں، لیکن پچھلے کچھ برسوں میں ایک ایسا سیکورٹی نظام بنایا ہے، جس میں جنسی تشد عام ہو چکا ہے۔۵۲۰۲ء میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ طرز عمل اسرائیل میں ایک’معمول کی کاروائی‘(standard operating procedure) بن چکا ہے اور فلسطینیوں کے ساتھ بدسلوکی کا ایک بڑا حصہ ہے۔ گزشتہ اپریل کے دوران جینوا میں قائم’یور۔۔۔ میڈیا ہومن رائٹس مانیٹر کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل’منظم جنسی تشدد‘ کو بطور ہتھیار استعمال کرتاہے جو’منظم ریاستی پالیسی‘ کا حصہ ہے۔ یہ کہ‘معمول کی کاروائی‘کیا مشکل اختیار کرتی ہے؟

۶۴ سالہ لانس صحافی سامی ال سا ئی کہتے ہیں:
”جب ۴۲۰۲ء میں مجھے گرفتار کر کے جیل کے سیل میں لے جایا گیا۔تو محافظوں کے ایک گروپ نے مجھے زمین پر پٹخ دیا۔وہ سب مجھے مار رہے تھے۔ایک نے میرے سر اورگردن پر پاؤں رکھ دیا، دوسرے نے میری پتلون اُتار دی اور انھوں نے میرا انڈر ویئر بھی اُتار دیا“پھر ایک محافظ نے ربر کا ڈنڈانکالاجو قیدیوں کومارنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔اسے میرے مقعد(نیچے بڑے پاخانے کا راستہ) میں ڈالنے کی کوشش کرتے رہے۔ میں نے خود کوبچانے کی کوشش کی، لیکن بے بسی میں ناکام ہو گیا۔ میرے لیے یہ لمحہ بہت درد ناک تھا،جب کہ اسرائیلی سپاہی ہنسی مذاق کر رہے تھے۔پھر ایک سپاہی نے کسی کو کہا، ”گاجرمجھے دو“انھوں نے گاجر کااستعمال کیا۔اس ناقابل برداشت لمحے میں موت کی دعا کر رہا تھا.”

سامی ال سائی نے بتایا:
”مجھ سے اسرائیلی انٹیلی جنس کا مخبر بننے کا کہا گیا۔ میری گرفتاری اور انتظامی حراست کا مقصد دباؤ ڈال کریہ کام کرانا تھا۔ مگر میں اپنے صحافتی پیشے کی لاج رکھتے ہوئے ایسا کرنے سے انکار کر دیا“۔

میں نے جنگ، نسل کشی اور جنسی تشدد سمیت ایسے مظالم کی رپورٹنگ کی ہے۔ چند سال پہلے ایتھوپیا کے تیگر ے تنازعے میں شاید ایک لاکھ عورتوں کی عصمت دری ہوئی۔ اب سوڈان میں بھی مخالفین کے ساتھ ایسا ہی نہو رہا ہے۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ امریکی ٹیکس کے پیسے اسرائیلی سیکورٹی اداروں کو ریاعت دیتے ہیں کہ وہ جنسی تشدد کریں، جس میں امریکا شریک ہے۔ مجھے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کی رپورٹنگ میں دلچسپی اس وقت پیدا ہوئی جب عیسیٰ عمرو(ایک پر امن کارکن، جنھیں بعض اوقا ت فلسطینی گاندھی کہا جاتا ہے) نے مجھے بتایا:
”اسرائیلی فوجیوں نے میرے ساتھ جنسی تشدد کیا تھا۔ یہ جرم اور ظلم جہاں عام ہے،لیکن شرم کی وجہ سے کم رپورٹ ہوتا ہے“۔

ایک اندازے کے مطابق اسرئیل نے ۷/اکتوبر۳۲۰۲ء حملے کے بعد صرف مغربی کنارے میں ۰۲ ہزار لوگوں کو گرفتار کیا۔۹ ہزارسے زیادہ فلسطینی اب بھی حراست میں ہیں۔ان میں سے اکثریت پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا، جبکہ مبہم سیکورٹی وجوہ کی بنیادپر حراست میں رکھا گیا ہے۔۳۲۰۲ء سے اب تک زیادہ تو کو ریڈ کراس اور وکیلوں کی ملاقات کی بھی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ یورو۔۔۔ میڈ پورٹ کے مطابق:
”اسرائیل فوجی فلسطینی خواتین قیدیوں کو ذلیل کرنے کے کی منظم طریقے سے ریپ اور جنسی تشد دکرتے ہیں.“

رپورٹ نے ایک ۲۴ سالہ عورت کا حوالہ دیا ہے جس نے بتایا کہ اسے بے لباس کرکے دھاتی میز پر جکڑ دیا گیا۔ اسرائیل فوجیوں نے دو دن تک اس کے ساتھ جنسی فعل کیا، جب کہ دوسرے فوجی اس کی ویڈیو بناتے رہے تھے۔ بعد میں اسے اپنی ریپ والی تصاویر دکھاتے ہوئے کہا گیا کہ اگر تم اسرائیل انٹیلی جنس کے ساتھ تعاون نہیں کرو گی تویہ تصاویر شائع کر دی جائے گی۔

ٖفلسطینیوں کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کادرست جاننا نا ممکن ہے۔اس مضمون کے لیے میری رپورٹنگ۴۱ مردوں اور عورتوں سے بات چیت پر مبنی ہے، جنھوں نے بتایا کہ ہمارے ساتھ اسرائیلی آباد کاروں یا سیکورٹی فورسز نے جنسی زیادتی کی۔ میں نے ان کے اہل خانہ،تفتیش کاروں،حکام اور دوسرے سے بھی بات کی۔ ان متاثرین کی تلاش کے لیے وکیلوں، انسانی حقوق کی تنظیموں، امدادی کارکنوں اور عام فلسطینیوں تک رسائی حاصل کی۔ بہت سے کیسوں میں متاثرین کی آب بیتیوں کی جزوی تصدیق ممکن ہوئی، گواہوں سے بات کر کے یا زیادہ تر ان لوگوں سے جن سے متاثرین نے اپنی بات شیئر کی تھی(جیسی فیملی ممبران،وکیل اور سوشل ورکرز) کچھ کیسز میں تصدیق ممکن نہ ہو سکی، کیونکہ شرم کی وجہ سے لوگ اپنے پیاروں کے ساتھ ہونے والی بہمانہ زیادتی کا ذکر کر نے سے ہچکچاتے ہیں۔

عالمی تنظیم (Save the childern) نے گذشتہ سال ۲۱ سے ۷۱ سال ان بچوں کاسروے کیا جو اسرائیل حراست میں تھے۔ان میں سے آدھے سے زیادہ بچوں نے جنسی تشدددیکھنے یاخود اس کا شکار ہونے کی بات بتائی۔’سیو دی چلڈرن‘ کا کہنا ہے کہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔کیونکہ شرم کی وجہ سے کچھ بچے اپنے ساتھ واقعے کا اعتراف کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

میر افسر امان

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment